تعارف

محمد بشیر رانجھا سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم سرگودھا اور راولپنڈی سے ہوئی۔ انہوں نے ۲۰۰۵ میں ایم فل کی سند حاصل کی۔

ادبی آغاز

محمد بشیر رانجھا کا پہلا مضمون سن ۱۹۷۷ میں "علامہ اقبال کا نظریہ آزادی او غلامی” کے عنوان سے ہفتہ وار الہام بہاولپور اور پہلی غزل ۱۹۸۸ میں شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے بطور چیف ایڈیٹر "کہکشاں انٹرنیشنل” میں کام کیا اور راولپنڈی میں ایک ادبی رسالہ بھی شائع کیا۔

شاعری

ان کا اندازِ اشعار گوئی بھی منفرد تھا۔

تم گئے،روشنی بھی روٹھ گئی
بجھ گئے بام و در اندھیرا ہے

ایک کتاب ’’ثقافتِ ہزارہ اور اس کا تاریخی پسِ منظر‘‘ معروف شاعر و محقق محمد بشیر رانجھا کی تحقیق پہ مشتمل تھی، جسے ہزارہ چیئر ہزارہ یونی ورسٹی کے زیر اہتمام شائع کیا گیا ہے۔

اعزازات

ان کے اہم اعزازات میں
شبنم رومانی،
شریف کُنجاہی شامل ہیں۔

شہرت

محمد بشیر رانجھا کی تحریریں روزنامہ پاکستان ، روزنامہ جنگ ، روزنامہ نوائے وقت ، روزنامہ اوسف ، روزنامہ جناح ، روزنامہ شبابین ، روزنامہ شملہ ، روزنامہ شمل ، روزانہ ندا الخالق ، اور روزنامہ اخبر ای خیبر میں شائع ہوچکی ہیں۔
ادبی رسالوں میں اوقراق ، فنون ، نئےرنگِ خیالی ، شعر و سخن ، عقیدت ، بیاض ، اکاس ، کہکشاں انٹرنیشنل اور دیگر شامل تھے۔

تصانیف

محمد بشیر رانجھا کی مشہور و معروف قابلِ ذکر تصانیف اپنے آپ میں ایک عمدگی کا نمونہ ہیں۔مندرجہ ذیل دائر محمد بشیر رانجھا کی تصانیف ہیں۔

  • اور دل کتنا سادہ ہے ماہیے۔
  • سر شاخ (شاعری)
  • پل صراط (افسانے)
  • نظریات اقبال۔
  • امام اعظم ابو حنیفہ۔