Advertisement
  • سبق : نیا قانون
  • مصنف : سعادت حسن منٹو
  • ماخوذ : منٹو کے بہترین افسانے

سوال ۸ : اس افسانے کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

تعارفِ سبق : سبق ” نیا قانون “ کے مصنف کا نام ”سعادت حسن منٹو “ ہے۔ یہ سبق کے آپ کی کتاب ”منٹو کے بہترین افسانے“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

سعادت حسن منٹو ۱۱ مئی ۱۹۱۲ کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۳۵ء کے قریب وہ ادبی حلقوں میں افسانہ نگار کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ منٹو نے مختلف جریدوں اور رسائل کے لیے لکھا، وہ ریڈیو کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ منٹو کی وفات ۱۸ جنوری ۱۹٦٦ کو ہوئی اور لاہور ہی میں سپرد خاک ہوئے۔

Advertisement

نیا قانون کا خلاصہ

منگو کوچوان کبھی اسکول نہ گیا تھا، مگر اپنی معلومات کے باعث اپنے سے نسبتاً کم عقلوں میں ذہین مانا جاتا تھا۔ منگو نے اپنے ایک سواری سے اسپین کی جنگ کا تذکرہ سنا اور جوں کا توں گاما چودھری کو بتا دیا۔ جب واقعی یہ خبر زد عام ہوئی تو باقی کوچوانوں کی نظر میں استاد منگو کی اہمیت بڑھ گئی۔

Advertisement

انگریزوں سے استاد منگو بہت نالاں تھا، وہ ان کے وجود سے سخت نفرت کرتا تھا۔ وہ جب کسی شرابی انگریز سے الجھتا یا کسی سے ذلیل ہوتا تو اڈے پر موجود لوگوں کے سامنے ان کی برائیاں کرتا، گالیاں بکتا اور کسی نئے قانون جس سے انگریزی ٹل جائیں کا انتظار کرتا۔ ایک روز دو سواریوں کے مابین نئے قانون یعنی انڈیا ایکٹ کی بات سنی تو وہ خوشی سے شرابور ہو گیا۔ معلوم ہوا یکم اپریل سے نیا آئین نافذ ہوگا۔ نتھو گنجا پگڑی بغل میں دبائے آیا تو منگو نے اسے نئے قانون کے متعلق بتایا اور اپنی خوش فہم سے بھی آگاہ کیا۔

ایک روز دو بیرسٹروں کے مابین نئے قانون کی باتوں کو سنتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوا کہ یہ نئے قانون کے خلاف ہیں اور آزادی نہیں چاہتے۔ اس نے دبے الفاظ میں ان کو ٹوڈی بچے کہا۔

Advertisement

پھر تین نوجوان اس کی سواری ہوئے، اور انھوں نے نئے قانون کے فوائد پر روشنی ڈالی کہ اا قانون کے تحت ڈگری ہولڈرز کو روزگار ملے گا۔ سرکار نوکریاں پیدا کرے گی۔ منگو کے نظریات میں اب نئے قانون کی اہمیت بڑھ گئی۔ اس نے نئے قانون کے متعلق مثبت اور منفی دونوں آراء سن رکھیں تھی، مگر وہ اپنی خودساختہ سوچ کو ہی سب پر ترجیح دیتا تھا۔

یکم اپریل کی صبح بھی آگئی لیکن منگو نے آسمان کو، لوگوں کو، ہر شے کو ویسا کا ویسا پرانا پایا۔ اسے سب پرانا لگ رہا تھا۔ کالج کی گھڑیال پر چھٹی کا وقت ہوا تو طالب علم خوشی سے باہر نکل رہے تھے۔ منگو ان کے میلے کپڑے دیکھ رہا تھا۔ وہ کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے کی طاب میں تھا۔ اسے نئے قانون کی کوئی ایسی درخشاں جھلک کا انتظار تھا کہ جو نئی لگے۔

Advertisement

منگو کی بے صبری ایک جگہ مگر وہ اپنی طبیعت کی نسبتاً آج کافی اطمینان سے انتظار کر رہا تھا۔اس نے ایک چھاؤنی کی سواری اس غرض سے لی کہ وہاں سے شاید کوئی معلومات مل سکے۔سیگریٹ سلگا کر وہ پچھلی نشست کی گدی پر بیٹھ گیا۔

چند ثانیوں بعد اسے یوں محسوس ہوا کہ کوئی سواری اسے بلا رہی ہے۔ سڑک کے اس پار ایک گورا ہاتھ ہلا کر اسے بلا رہا تھا۔ پہلے پہل تو اس نے اسے لے جانے سے انکار کا سوچا مگر پھر اس نے گمان کیا کہ پیسے چھوڑنا بیوقوفی ہے۔

Advertisement

استاد منگو نے گورے کو پوچھا کہاں جانا ہے تو اس گورے نے ہیرا منڈی کا کہا۔ منگو نے پہچان لیا یہ وہی گورا ہے جس سے اس کی پچھلے برس جھڑپ ہوچکی ہے۔ تب گورا شراب میں دھت تھا۔منگو نے اب زرا تن کر کرایہ بے حد زیادہ بتایا۔کچھ منہ زوریاں ہوئی تو استاد منگو گورے اور نئے قانون کو ذہن میں لایا۔ استاد منگو نے گورے کو پیٹنا شروع کر دیا۔ اور ساتھ یہ کہتا جاتا کہ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں اب ہمارا راج ہے بچہ۔ لوگ جمع ہوگئے۔ دو سپاہیوں نے استاد منگو کے ہاتھوں سے گورے کو چھڑایا۔ استاد منگو نئے قانون کے سرور میں مبتلا تھا۔ سپاہی استاد منگو کو تھانے میں لے گئے۔ تمام راستے استاد منگو نیا قانون، نیا قانون چلاتا رہا۔

”نیا قانون، نیا قانون۔ کیا بک رہے ہو؟ قانون وہی ہے پرانا۔“
سپاہی نے کہا اور استاد منگو کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔

Advertisement

سوال ۱ : منگو اپنے اڈے کے لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند کیوں سمجھا جاتا تھا؟

جواب : استاد منگو صاحبِ علم نہیں تھا، وہ تانگہ چلاتا تھاوہ۔ تانگے میں سوار ہونے والی سواریوں کی آپس میں گفتگو کو بغور سنتا تھا۔ انہیں لوگوں سے اسے دنیا کے احوال کی معلومات ملتی تھی۔اور یہی وہ معلومات تھی جو اپنے دوستوں کو بتانے کے بعد ان میں عقلمند سمجھ جاتا تھا۔

سوال ۲ : منگو یہ کیوں کہا کرتا تھا کہ ہندوستان کبھی آزاد نہ ہوگا؟

جواب : استاد منگو یہ سمجھتا تھا کہ ہندوستان کبھی آزاد نہ ہوگا، اگر انگریز چلا جائے گا تو اٹلی والے آجائیں گے، وہ گیا تو روس کا بادشاہ قابض ہو جائے گا۔ لیکن ہندستان سدا غلام رہے گا۔ کیوں کہ پیر نے بہادر شاہ ظفر کو یہ بددعا بھی دی تھی کہ ہندوستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔

Advertisement

سوال ۳ : وہ انگریزوں سے شدید نفرت کیوں کرتا تھا؟

جواب : استاد منگو انگریزوں سے سخت نالاں تھا کیوں کہ وہ سمجھتا تھا ان کے ملک پر انگریز اپنا سکہ چلا رہے ہیں، اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ چھاونی کے انگریز اس سے بدسلوکی کرتے تھے، اس کی تذلیل کرتے اور اسے ایک کتے کی طرح پیش آتے۔ انگریزوں سے نفرت کی بڑی وجہ اپنی بےعزتی بھی تھی۔

سوال ۴ : منگو اپنے طور پر "نئے قانون”سے کیا مراد لے رہا تھا؟

جواب : منگو اپنے طور پر نئے قانون سے یہ مرسد لے رہا تھا کہ اب ان کا ملک انگریزوں سے آزاد ہوجائے گا اور اب انگریز اسے کچھ نہیں کہہ سکیں گے بلکہ اب وہ انگریزوں سے اپنا بدلہ لے سکے گا۔

Advertisement

سوال ۵ : منگو کے لیے پہلی اپریل کی کیا اہمیت تھی ؟

جواب : منگو کے لیے پہلی اپریل کا دن بہت اہمیت کا حامل تھا اور منگو کو لگتا تھا پہلی اپریل سے سب کچھ بدل جائے گا اور اس کا ملک نئے قانون کے لاگو ہوتے ہی آزاد ہوجائے گا۔

سوال ٦ : وہ اس دن کیا دیکھ کر مایوس ہو رہا تھا ؟

جواب : منگو پہلی اپریل کو شہر کی سڑکوں پر اپنے تانگے سمیت پھرنے لگا تاکہ وہ نئے قانون کے زیرِ اثر آئی تبدیلی کو دیکھ سکے لیکن کسی قسم کی تبدیلی کو نہ پاکر وہ سخت مایوس ہوا تھا۔

Advertisement

سوال ۷ : منگو نے اس دن گورے کی رعونت دیکھ کر اسے بڑی بیباکی سے کیوں پیٹنا شروع کر دیا؟

جواب : منگو نے اس دن گورے کی رعونت دیکھ کر اسے بڑی بیباکی سے پیٹنا اس لیے شروع کر دیا تھا کیونکہ منگو کو یاد تھا کہ یہ انگریز پہلے بھی اس سے الجھ چکا ہے۔ کچھ پرانا غصہ تھا اور کچھ نئے قانون کے تحت ملا حوصلہ کہ منگو نے انگریز کو پیٹنا شروع کردیا تھا۔

Advertisement

سوال ۹ : مندرجہ ذیل الفاظ و محاورات کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

اڈا : کاشان کو الودع کرنے اس کے والدین ہوائی اڈا گئے ہیں۔
منہ دیکھنا :لاہور قلندر کی ٹیم کے جیتنے کے بعد پشاور زلمی کے کھلاڑیوں کا منہ دیکھنے لائق تھا۔
اعتراف :عبدالستار ایدھی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے نشان امتیاز سے نوازا۔
ٹھنڈی سانس بھرنا :اس مہنگائی کے دور میں غریب کے لیے ٹھنڈی سانس بھرنا محال ہے۔
تنفر : مطالبات پورے نہ ہونے پر حکومت اور اتحادی آپس میں تنفر معلوم ہوتے ہیں۔
پرزے اڑانا : پاکستانی جنگی جہازوں نے بھارتی جہاز کے پرزے اڑا دیئے۔
پیش خیمہ : دہشت گردی کے پیش خیمہ کو پاک فوج نے وزیراستان سے اکھاڑ پھینکا۔
درخشاں و تاباں : وزیر اعظم نے پناہ گاہیں بنا کر پاکستان کے نام کو دنیا کی نظر میں درخشاں و تاباں کر دیا۔
خیرہ کن :دیکھتے دیکھتے بیسیوں افراد لقمہ اجل ہو گئے، کیمرے میں یہ تمام خیرہ کن منظر فلمایا گیا۔
لرزش :چند روز قبل لرزش ارضی سے نقصان اٹھانے والوں کو امداد دی جائے گی۔

سوال ۱۰ : آپ بھی اسی طرح ذیل کے الفاظ سے نئے لفظ بنائیے :

شاعر شاعرانہ
ادیب ادیبانہ
سپاہی سپاہیانہ
ناصح ناصحانہ
دلیر دلیرانہ
حاکم حاکمانہ
صوفی صوفیانہ
شاہ شاہانہ
فقیر فقیرانہ
حکیم حکیمانہ

سوال ۱۱ : آپ فعل لازم ، فعل متعدی اور فعل ناقص والے پانچ پانچ جملے لکھیے۔

فعل لازمفعل متعدیفعل ناقص
۱) بچہ رو رہا ہے۔۱) میں کتاب پڑھتی ہوں۔۱) علی بیمار ہے۔
۲) ہم جارہے ہیں۔۲) وہ گانے سنتا ہے۔۲) وہ لڑکی بہت ذہین ہے۔
۳) مہمان آئیں گے۔۳) وہ گھر آئے تھے۔۳) وہ بچہ بہت رورہا ہے۔
۴) ہانیہ آئی۔۴) احمد اسکول جارہا تھا۔۴) وہ بہت بےوقوف ہے۔
۵) وہ گیا۔۵) ہم کھانا کھارہے ہیں۔۵) اسے بخار ہے۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement