Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان “برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر08: کہانی
  • مصنف کانام: حامد اللہ افسر
  • سبق کا نام: گاندھی جی۔

خلاصہ سبق: گاندھی جی

سبق “گاندھی جی” میں حامد اللہ افسر نے گاندھی جی کی زندگی کے بارے کچھ دلچسپ پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ مصنف جب ایل ایل بی کے طالب علم تھے تو گاندھی جی میرٹھ میں تشریف لے گئے تھے۔مصنف گاندھی جی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو گاندھی جی نے اچکن کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ:
دیسی کیوں نہیں پہنتے؟مصنف نے گاندھی جی کو جواب دیا کہ تین چار دیسی چیزیں مستقل طور پر استعمال کررہا ہوں۔ دیسی آم کھاتا ہوں، دیسی پان کھاتا ہوں،دیسی آلو کھاتا ہوں اور دیسی شکر استعمال کرتا ہوں کیا یہ کافی نہیں؟ جس پر گاندھی جی نے زور دار قہقہہ لگایا۔

اس کے بعد اکثر ان کی گاندھی جی سے ملاقات ہونے لگی۔ 1945ء کا زمانہ تھا جب گاندھی جی مسوری پہاڑ پر برلا ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔لداخی مزدور گرمی کے موسم میں کام کی تلاش میں مسوری اور دوسرے مقامات پہ آ جاتے تھے۔لداخی مزدوروں میں سب کے سب یا زیادہ تر مسلقمن تھے۔سب بہت غریب تھے۔ ایک پھٹے ہوئے جانگیے اور پیوند لگے ہوئے شلو کے سوا ان کے بدن پی کچھ نہ ہوتا تھا۔ رات کے وقت ٹاٹ کے بورے میں لپٹ جاتے تھے۔ یہی بورا ان کا لحاف اور گدا ہوتا تھا۔

Advertisement

ان کی یہ حالت دیکھ کر گاندھی جی کو ان پہ ترس آتا تھا۔انھوں نے مزدوروں کے ٹھہرنے کے لیے ایک باقاعدہ عمارت بنانے کی تجویز پہ غور کیا۔ اس کے نام پہ غور کیا جانے لگا تو مصنف نے غریب خانہ نام تجویز کیا۔کہ غریب خانہ انکساری کی وجہ سے لوگ اپنے ہی گھر کوکہتے ہیں۔ لیکن اصل میں غریب خانہ کے معنی غریب کے گھر کے ہیں۔ فیصلہ ہوا کہ اسے دھرم شالہ کہا جاۓ۔بعد میں معلوم نہیں وہ عمارت بنی کہ نہیں۔

Advertisement

مگر ستہ گرہ آشرم نیک چلنی اور سچائی کے قواعد بہت سخت تھے۔ جھوٹ برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ بچوں کو بھی ان کی پابندی کرنی پڑتی تھی۔ایک دفعہ ایک بچی وہاں ایک نوجوان کے ساتھ کھیل رہی تھی اور اس کے ہاتھ سے لیموں لینا چاہتی تھی۔نوجوان نے مذاق میں ہاتھ ہوا میں اچھالا اور کہا کہ اس نے لیموں ندی میں ڈال دیا ہے۔ مگر بعد میں جب بچی نے اس نوجوان کے ہاتھ میں لیموں دیکھ لیا تو اس نے بہت شو مچایا اور کہا کہ آشرم میں رہ کرآپ جھوٹ بول رہے ہیں یہ بہت بری بات ہے میں باپوں سے اس کی شکایت کروں گی۔اس بچی نے گاندی جی سے اس نوجوان کی شکایت کی۔ گاندھی جی بچی کی بات سن کر مسکرائے اور نوجوان کو سر زنش کی کہ آئندہ خیال رکھے اور بچوں سے جھوٹ نہ بولے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

گاندھی جی کہاں تشریف لے گئے تھے؟

گاندھی جی میرٹھ میں تشریف لے گئے تھے۔

گاندھی جی نے اچکن کی طرف اشارہ کر کے کیا فرمایا؟

گاندھی جی نے اچکن کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ:

Advertisement

دیسی کیوں نہیں پہنتے؟

گاندھی جی نے قہقہہ کیوں لگا یا؟

مصنف نے گاندھی جی کو جواب دیا کہ تین چار دیسی چیزیں مستقل طور پر استعمال کررہا ہوں۔ دیسی آم کھاتا ہوں، دیسی پان کھاتا ہوں،دیسی آلو کھاتا ہوں اور دیسی شکر استعمال کرتا ہوں کیا یہ کافی نہیں؟ جس پر گاندھی جی نے زور دار قہقہہ لگایا۔

Advertisement

گاندھی جی مسوری میں کس جگہ ٹھہرے ہوۓ تھے؟

گاندھی جی مسوری پہاڑ پر برلا ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

لداخی مزدور گرمی کے موسم میں مسوری کس لیے آتے تھے؟

لداخی مزدور گرمی کے موسم میں کام کی تلاش میں مسوری اور دوسرے مقامات پہ آ جاتے تھے۔

Advertisement

لداخی مزدوروں پر گاندھی جی کو کیوں ترس آیا؟

لداخی مزدوروں میں سب کے سب یا زیادہ تر مسلقمن تھے۔سب بہت غریب تھے۔ ایک پھٹے ہوئے جانگیے اور پیوند لگے ہوئے شلو کے سوا ان کے بدن پی کچھ نہ ہوتا تھا۔ رات کے وقت ٹاٹ کے بورے میں لپٹ جاتے تھے۔ یہی بورا ان کا لحاف اور گدا ہوتا تھا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر گاندھی جی کو ان پہ ترس آتا تھا۔

غریب خانہ کس گھر کو کہا جاتا ہے؟

غریب خانہ انکساری کی وجہ سے لوگ اپنے ہی گھر کوکہتے ہیں۔ لیکن اصل میں غریب خانہ کے معنی غریب کے گھر کے ہیں۔

Advertisement

ستیہ گره آشرم میں کن قواعد کی پابندی ہوتی تھی؟

ستہ گرہ آشرم نیک چلنی اور سچائی کے قواعد بہت سخت تھے۔ جھوٹ برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ بچوں کو بھی ان کی پابندی کرنی پڑتی تھی۔،

بچی کونوجوان کیا واقعی دھوکا دینا چاہتا تھا ؟

جی نہیں نوجوان بچی کے ساتھ کھیل کھیل میں مذاق کر رہا تھا اور جھوٹ بول دیا۔

Advertisement

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے۔

  • مجھے ان سے ملنے کا بڑا شوق تھا۔
  • تین چار دیسی چیزیں مستقل استعمال کرتا ہوں۔
  • گاندھی جی نے بڑے زور سے قہقہہ لگایا۔
  • مسوری میں ان دنوں بہت سے لداخی مزدور آئے ہوۓ تھے۔
  • وہ ہر سال گرمی کے موسم میں کام کے تلاش میں مسوری اور دوسرے مقامات پر آ جاتے ہیں۔
  • انھیں اس حالت میں دیکھ کر گاندھی جی کو بڑا ترس آیا۔
  • آخر فیصلہ ہوا کہ اسے دھرم شالہ کہا جاۓ۔

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے۔

واحدجمع
موقعمواقع
خیالخیالات
مقاممقامات
تجویزتجاویز
عمارتعمارات
ترکیبتراکیب
اتفاقاتفاقات

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

طالب علممیں پانچویں جماعت کا طالب علم ہوں۔
وطنمیرا وطن ہندوستان ہے۔
موقععید کے موقع پر گھر سجایا جاتا ہے۔
اضافہہماری ملکی درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
خدمتہمیں بزرگوں کی خدمت کرنی چاہیے۔
تعمیرطلبہ ملک کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
Advertisement