تعارف

رفاقت حیات اردو افسانے کا نیا نام ہے، جس نے تھوڑے ہی عرصے میں قارئیں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ آپ فروری ۱۹۷۳ء میں ضلع نوشہر و فیروز کے چھوٹے سے شہر محراب پور میں پیدا ہوئے۔ رفاقت حیات نے انیس سال کی عمر میں ۱۹۹۲ء اپنا پہلا افسانہ لکھا۔ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں اور راولپنڈی میں رہنے کا تجربہ ان کے افسانوں میں کھردری اور طبیعی تفصیل کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

اسلوب

رفاقت حیات کے افسانوں کی پلاٹ کی تکنیک نہایت دلچسپ ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے نازک مسائل کو موضوع بناتے ہیں اور اس کے گرد کہانی کو بنتے ہوئے کرداروں کی پوری زندگی کی تصویر  ہمارے سامنے عیاں کردیتے ہیں۔ عام طور پر ان کی کہانی ایک محدود مدت یعنی ایک دن یا اس کے کچھ زیادہ کے دورانیے کا احاطہ کرتی ہے مگر اس محدود مدت میں کردار پر جو گزرتی ہے، اس کی نفسیات، اس کے اندر ہونے والے تغیرات اور اس کی پوری زندگی کے اسرار ہم پر منکشف ہوجاتے ہیں۔ زبان کے استعمال پر رفاقت کو بڑا عبور حاصل ہے۔ وہ اردو میں انگریزی کی ملاوٹ نہیں کرتے اور نہ ہی علاقائی لب و لہجہ غیر ضروری طور پر شامل کرتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور مؤثر ہے۔ چریا ملک میں وہ گالیوں کے مناسب استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے کیوں کہ یہ ان کی کہانی کا تقاضہ ہے۔

آپ کو زبان کے برتاؤ میں مہارت حاصل ہے. کہیں بھی اپنا ذاتی نظریہ اور ذہن میں اونگھتا فلسفہ ٹھونسنے کی کوشش دکھائی نہیں دی حالانکہ ہمارے ہاں بیشتر افسانہ نگار اپنی ذاتی سوچ اور نظریہ لکھتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ موچی،چوکیدار،کوچوان وغیرہ سقراط کی زبان بھول رہے ہیں۔

میر واہ کی راتیں

ناول ‘میر واہ کی راتیں’ انسانی جسم میں جنسی خواہش کے بیج پھوٹنے سے لے کر اس کی تکمیل تک پہنچنے کی سعی کا ایک متاثرکن نفسیاتی بیان ہے۔ ناول میں اتنی طاقت موجود ہے کہ یہ پڑھنے والے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور ہر ختم ہونے والا پیراگراف نئے پیراگراف کے بارے میں بے چینی پیدا کرکے جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر آپ اگلا پیراگراف پڑھے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔ گرفت ایسی مضبوط ہے کہ ناول آپ کو آنکھ نہیں جھپکنے دیتا۔ سسپنس ہالی ووڈ کی فلموں جیسا جو لمحہ بہ لمحہ اشتیاق کے کٹورے کو بھرتا چلا جاتا ہے۔ مجھے کئی بار خواہش ہوئی کہ جلدی سے پتہ چل جائے کہ آگے کیا ہونا ہے کیونکہ صبر نہیں ہو رہا تھا۔

ناول میں اندرون سندھ کا مزاج، ثقافت، رہن سہن، طور اطوار اور رنگ ڈھنگ بڑی خوبصورتی سے موجود ہیں۔ دیہاتی سماج اور ذہن کی توہم پرستی کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں مگر ایک بات مجھے کھٹکی بھی کہ توہم پرستی کو کسی نہ کسی طرح ناول نے جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ نذیر کو لگ رہا تھا کہ آج کی رات کچھ غلط ہونے والا ہے کیونکہ اس سے قبل دو مختلف طرح کے بُرے شگون ظاہر ہو چکے تھے۔ آگے چل کر اس رات میں واقعی کچھ غلط ہوگیا اور یہی محسوس ہوا کہ بُرے شگونوں کا یہ منطقی نتیجہ ہے۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناول نگار نے صورت حال ویسی ہی دکھانا چاہی ہو جیسی کہ وہ حقیقت میں ہے اور انہوں نے خود کو اصلاح کار بنانا بالکل غیر ضروری سمجھا ہو۔

تصانیف

رفاقت حیات کا افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول شائع ہو چکا ہے۔
خواہ مخواہ کی زندگی (افسانوی مجموعہ)
میرواہ کی راتیں (ناول)

حرفِ آخر

رفاقت حیات ۴۷ برس کے ہو چکے ہیں اور ہماری خوش نصیبی ہے کہ وہ بقید حیات  ہمارے درمیان موجود ہیں۔

Advertisements