تعارف

ساجد خان پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے معروف شہر حویلیاں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا ، میر محمد خان کیالوی ایک مشہور تاجر تھے۔ ان کے والد سخاوت خان کیالوی نے آباؤ اجداد کا کاروبار کیا۔ ساجد خان حویلیاں کی ۲ بیٹیاں مریم نور اور سلام نور اور ایک بیٹا عثمان خان ہیں۔ وہ حویلیاں کے ایک مشہور معاشرتی کارکن ، دیبیٹر ، اردو افسانہ نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔

تعلیم

ساجد خان نے ابتدائی تعلیم جناح پبلک اسکول اور گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر ایک حویلیاں سے حاصل کی۔ انہوں نے ۱۹۹۶ میں گورنمنٹ ڈگری کالج حویلیاں سے گریجویشن مکمل کی۔ بعدازاں انہوں نے ۱۹۹۹ میں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامک اسٹڈی کی ڈگری حاصل کی اور ۲۰۰۵ میں ہزارہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ وہ محکمہ تعلیم ، خیبر میں باقاعدہ ملازم ہیں۔

ادبی زندگی

ساجد خان ایک پاکستانی اردو افسانہ نگار اور مختصر کہانیوں کے مصنف ہیں۔ انھیں اردو ادب میں ایک اہم اضافہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ۲ کتابیں "مجھے روشنی چاہیے” اور "دائرے کا اسیر” لکھی ہیں۔ ۱۹۹۶ سے ساجد خان کی تحریریں مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہی ہیں۔ ان کی کہانیاں پاکستان کے بڑے ادبی جرائد میں شائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے سماجی ، مذہبی ، ثقافتی ، سیاسی اور زندگی کے دیگر پہلوؤں سمیت متعدد امور پر مختلف اخبارات کے لئے کالم بھی لکھے۔

تصانیف

ساجد جان کی دو کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں :
مجھے روشنی چاہیے۔
دائرے کا اسیر۔

ناقدین کی آراء

ساجد خان کے بارے میں ناقدین کی آراء پیشِ نظر ہے :
محمد بشیر رانجھا :
"ساجد خان کے افسانوں کی فنی خوبی یہ ہے کہ وہ سلجھے ہوئے ذہن کے ساتھ غور و فکر کا عادی ہے۔ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں نے اسے حساس بنادیا ہے اور وہ غلاظتوں کی نشاندہی کرنے پر قادر ہے۔ ساجد خان تہذیبی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا گہرا شعور رکھتا ہے۔ وہ جذبات کی رو میں بہت دُور تک نکل جاتا ہے جو اس کی فنِ افسانہ پر دسترس کا ایک واضح ثبوت ہے۔”

ڈاکٹر رشید امجد :
"ساجد خان کے بعض افسانوں کی قرات کے بعد میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ ایک ایسا تخلیقی فنکار ہے جس نے علوم اور علم کے ضابطوں کی حدود سے بہت آگے نکل کر اُن رمز بھرے حقائق کو گرفت میں لیا کہ جن پر دسترس حاصل کرنا ہر لکھنے والے کا نصیب نہیں ہوتا۔ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ اس نے افراد کے جن ابنارمل روّیوں کو پیش کیا ہے ان میں سے چند ایک ایسے نازک روّیے ہیں کہ جو ابھی تک نفسیات کی اصطلاحوں کی گرفت میں نہیں آسکے۔ ساجد خان کی لفظوں پر گرفت بھی خاصی مضبوط ہے اور وہ کہیں بھی افسانویِ ادب میں نووارد ہونے کا تاثر نہیں چھوڑتا۔”

Advertisements