تعارف

سجاد ظہیر نومبر ۵، ۱۹۰۵ کو ریاست اودھ کے چیف جسٹس سر وزیر خان کے گھر پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ادب پڑھنے کے بعد والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے برطانیہ جاکر آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور بیرسٹر بن کر لوٹے۔ یہاں انہوں نے قانون کے ساتھ ادب کا بھی مطالعہ کیا۔

سجّاد ظہیر نے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دوسرے دانشوروں کے تعاون سے روس، برطانیہ، فرانس، بلجیم، پاکستان، افغانستان، کیوبا، ویتنام، سری لنکا، عراق، شام، جرمنی، پولینڈ، ڈنمارک، سوئزرلینڈ، آسٹریلیا، اٹلی، لبنان، الجزائر، مصر، ہنگری، بلغاریہ اور رومانیہ میں امن عالم کی تحریک کو نئی معنویت عطا کرتے ہوئے اس تحریک کا سر بلند کیا۔ ساتھ ہی ترقی پسندی کا آفاقی تصور ایک خوبصورت تعبیر بن کر ابھرا۔
سجّاد ظہیر اس لیے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے پوری عالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کروانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

ادبی زندگی

انڈین نیشنل کانگریس (لندن برانچ) میں ان کی شمولیت اس لیے بھی یاد کی جاتی ہے کہ انگریزوں کے خلاف ہندوستانی طلبہ کو جمع کیا اور مقاصد کی تکمیل کے عمل میں رسالہ ”بھارت“ کے مدیر بھی بنے۔ اسی لیے انھوں نے ۱۹۵۹ میں ایک اخبار ”عوامی دور“ جسے ”حیات“ کے نام سے بھی جانا گیا، چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے مقاصد کی تکمیل کا خوبصورت وسیلہ بنایا۔ سجّاد ظہیر کو بخوبی علم تھا کہ عالمی سطح پر ہندوستان ایک بڑی طاقت کے روپ میں قائم ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اسی لیے بعض بڑی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہ ملک مضبوط ترین ہو جائے۔

تصانیف

۱۹۳۲ء کے آخر میں نو افسانوں اور ایک ڈرامے کا ۳۴ا صفحات پر مشتمل مجموعہ “انگارے” منظر عام پر آیا۔ جس کے مرتب اور پبلشر سجاد ظہیر تھے۔ اس مجموعے میں پانچ افسانے سید سجاد ظہیر کے، ایک افسانہ اور ایک ڈرامہ رشید جہاں کا، دو افسانے احمد علی اور ایک محمود الظفر کا شامل تھا۔ انگارے کے منظر عام پر آتے ہی اردو کے زیادہ تر اخبارات و رسائل نے انگارے کے خلاف مضامین شائع کئے، ان افسانوں کو خلاف مذہب اور فحش قرار دیا اور کتاب کی ضبطی کا مطالبہ کیا۔

جب انگارے کی ضبطی کا مطالبہ روز بروز بڑھتا گیا تو ۱۵ مارچ ۱۹۳۳ء کے سرکاری گزٹ میں ایک اعلان کے ذریعے “انگارے” ضبط کر لیا گیا، اعلان میں کہا گیا تھا کہ “انگارے” زیر دفعہ ۲۹۵ الف تعزیرات ہند اس بنا پر ضبط کر لیا گیا ہے کہ یہ کتاب ایک خاص فرقہ کے مذہبی جذبات اور عقائد کو مجروح کرتی ہے۔ آئندہ اس کتاب کا فروخت کرنا یا شائع کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔

انگارے میں سجاد ظہیر کے پانچ افسانے بہ عنوان “نیند نہیں آتی”، جنت کی بشارت”، گرمیوں کی ایک رات”، دُلاری”، اور “پھر یہ ہنگامہ” احمد علی کے دو افسانے “بادل نہیں آتے” اور “مہاوٹوں کی ایک رات” رشید جہاں کا ایک افسانہ “دلی کی سیر” اور محمود الظفر کا ایک افسانہ “جوانمردی” شامل ہیں۔ اس کتاب میں رشید جہاں کا ایک ڈرامہ “پردے کے پیچھے” بھی موجود ہے۔ اس مجموعے کا پہلا افسانہ سجاد ظہیر کا “نیند نہیں آتی” ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ’روشنائی( ۱۹۵۶ )‘ ، ’ذکر حافظ (۱۹۵۸)‘، شاعری کا مجموعہ ’پگھلتے نیلم (۱۹۶۴)‘ جیسی کتابیں بھی شائع کیں۔ لیکن وہ ہمیشہ ایک کمیونسٹ پارٹی ورکر اور آرگنائزر کے طور پر کام کرتے رہے۔ چونکہ ان کے نہرو خاندان سے خاندانی تعلقات تھے اس وجہ سے انہوں نے تھوڑے عرصہ تک بطور سکریٹری جواہر لعل کے ساتھ ۱۹۳۰ کی دہائی میں کام کیا۔ لیکن وہ جلد ہی کانگریس پارٹی سے بے دخل کر دئیے گئے جس کے بعد وہ باقاعدہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ممبر ہو گئے۔ جس کی سنٹرل کمیٹی کے بھی وہ رکن رہے۔ لیکن ان کو ہمیشہ جدید اردو ادب میں ان کے گہرے اثرات کے لئے یاد کیا جائے گا۔

ترقی پسند تحریک

ترقی پسند تحریک کے ساتھ سجاد ظہیر کے گہرے رشتوں سے واضح ہوا کہ وقت کے ساتھ کس طرح ،کسی تحریک کا عروج و زوال تو ہو سکتا ہے لیکن اس کا بنیادی نظریہ کبھی نہیں مٹ سکتا۔ سجاد ظہیر نے ہندوستانی ادب کو جس ترقی پسندی سے جوڑا وہ خیال آج بھی زندہ و پائندہ ہے اور یہ خیال تب تک زندہ رہے گا جب تک کوئی بھی ادیب کسی ناانصافی ، غربت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا اور اسی کے ساتھ سجاد ظہیر کی ادبی خدمات بھی زندہ رہیں گی۔

ان کی مشہور تصانیف میں انگارے، کاندید، لندن کی ایک رات، مضامین سجاد ظہیر، پگھلا نیلم، روشنائی، ترقی پسند تحریک ادب اور سجادظہیر، اردو کا حال اور مستقبل قابلِ ذکر ہیں۔

تراجم

چونکہ عالمی ادبیات پر سجّاد ظہیر کی گہری نگاہ تھی اسی لیے انہوں نے شیکسپیئر (اوتھیلو)، رابندر ناتھ ٹیگور (گورا)، خلیل جبران (پیغمبر) کے علاوہ دوسرے کئی فنکاروں کی تخلیقات کے ترجمے بھی کیے ساتھ ہی مختلف سماجی، ملی، سیاسی، ثقافتی، ادبی موضوعات پر مضامین لکھے جو ملک اور بیرون ملک کے اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ ۱۹۴۲ میں اسیری کے دوران جیل سے اپنی بیوی رضیہ سجاد ظہیر کے نام فرط جذبات سے لبریز انتہائی خوبصورت خطوط لکھے جسے ”نقوش زنداں‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔

آخری ایام

۱۳ ستمبر ۱۹۷۳ کو حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا تو وہ روس کے سفر پر تھے۔ روس سے ان کی لاش ہندوستان لائی گئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اوکھلا نئی دہلی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔