Advertisement
  • سبق : مواصلات کے جدید ذرائع
  • مصنف : ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی

تعارفِ سبق : سبق ” مواصلات کے جدید ذرائع“ کے مصنف کا نام ”ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی“ ہے۔

Advertisement

خلاصہ

قدیم زمانے میں ایک دوسرے کو خط گھڑ سواروں کے ذریعے بھیجے جاتے تھے۔ منزلیں طے کر کے ان پر گھڑ سواروں کو کھڑا کیا جاتا، ایک گھڑ سوار خط کا تھیلا لے کر دس سے بارہ میل جاتا اور وہاں کھڑے گھڑ سوار کو دے دیتا، اسی طرح وہ اگے کی منزل طے کرکے اگلے گھڑ سوار کو خط دے دیتا تھا اور اسی طرح سیکڑوں میل دور تک خط پہنچائے جاتے تھے۔ مارکونی نے پہلا وائرلیس ایجاد کیا اور پھر اسی کو مزید کوششش سے ریڈیو میں منتقل کردیا مارکونی کی وفات کی خبر بھی اسی ریڈیو پر نشر کی گئی تھے اور اس کے سوگ میں دو منٹ کے لیے ریڈیو بند رکھا گیا۔

Advertisement

پاکستان میں پہلا ریڈیو اسٹیشن 1936؁ کو پیشاور میں قائم ہوا۔ اور اس کے اگلے ہی برس لاہور میں قائم ہوا۔ پھر پاکستان بنے کے بعد یکے بعد دیگر کئیں اسٹیشن بنتے چلے گئے۔ اس وقت پاکستان میں کل اٹھارہ ریڈیو اسٹیشنز ہیں۔ جن شہروں میں یہ ریڈیو اسٹیشن ہیں ان کے نام یہ ہیں : کراچی ،حیدر آباد ،اسلام آباد، پشاور، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، خیر پور، بہاول پور، ملتان، فیصل آباد ،گلگت ،اسکردو ،ڈیرھ اسماعیل ،خان خضدار اور تربت۔

Advertisement

وائرلیس کی ایجاد کا اصول یہ ہے کہ اس پر نہ صرف آوازی پیغام بھیجا جاسکتا ہے، بلکہ موصول بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے وائرلیس کے دو سیٹ ہونا ضروری ہیں۔ ایک ایک شہر میں جبکہ دوسرا دوسرے شہر میں، دونوں ایک جیسے سیٹ ہوں گے۔ دونوں سیٹوں میں ایک ایک مائکرو فون ہوتا ہے۔ پہلے سیٹ پر کوئی شخص منہ وائرلیس کے قریب کرکے بات کرے گا، وہ بات ریڈیائی لہروں کر ذریعے دوسرے سیٹ سے دوسرے شخص میں سماعتوں تک پہنچ جائے گی۔

ٹیلی فیکس فوٹو کاپی کے جیسی ایک مشین ہے۔ اس کے ذریعے خط بھیجنے کے لیے دق مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بھیجنے والے کے پاس اور دوسری موصول کرنے والے کے پاس، بھیجنے والا اپنے خط کو مشین میں ڈال کر موصول کرنے والے کا نمبر ملاتا ہے۔ مشین میں جانے کے بعد یہ خط ریڈیائی لہروں کے ذریعے موصول کرنے والے کی مشین تک پہنچ جاتا ہے اور وہاں موجود مشین سے موصول کرلیا جاتا ہے۔

Advertisement

مستقبل قریب میں پیغام رسانی میں مزید ترقی کا امکان ہے اکیسویں صدی کے آتے آتے مواصلات پر پیغام بھیجنے والے کی تصویریں بھی نظر آئیں گی۔ اور ان کو اسی وقت کمپیوٹر پر مخفوظ بھی کیا جاسکے گا اور ایک تار پر کئی ہزار لوگ پیغام موصول کر سکیں گے۔

سوال ۱ : قدیم زمانے میں ایک دوسرے کو خط کیسے بھیجے جاتے تھے؟

جواب : قدیم زمانے میں ایک دوسرے کو خط گھڑ سواروں کے ذریعے بھیجے جاتے تھے۔ منزلیں طے کر کے ان پر گھڑ سواروں کو کھڑا کیا جاتا، ایک گھڑ سوار خط کا تھیلا لے کر دس سے بارہ میل جاتا اور وہاں کھڑے گھڑ سوار کو دے دیتا، اسی طرح وہ اگے کی منزل طے کرکے اگلے گھڑ سوار کو خط دے دیتا تھا اور اسی طرح سیکڑوں میل دور تک خط پہنچائے جاتے تھے۔

Advertisement

سوال ۲ : ریڈیو ایجاد کرنے میں مار کونی نے کیا کارنامہ انجام دیا؟

جواب : مارکونی نے پہلا وائرلیس ایجاد کیا اور پھر اسی کو مزید کوششش سے ریڈیو میں منتقل کردیا مارکونی کی وفات کی خبر بھی اسی ریڈیو پر نشر کی گئی تھے اور اس کے سوگ میں دو منٹ کے لیے ریڈیو بند رکھا گیا۔

سوال ۳ : پاکستان ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام کا احوال مختصراً بیان کیجیے؟

جواب : پاکستان میں پہلا ریڈیو اسٹیشن 1936؁ کو پیشاور میں قائم ہوا۔ اور اس کے اگلے ہی برس لاہور میں قائم ہوا۔ پھر پاکستان بنے کے بعد یکے بعد دیگر کئیں اسٹیشن بنتے چلے گئے۔ اس وقت پاکستان میں کل اٹھارہ ریڈیو اسٹیشنز ہیں۔ جن شہروں میں یہ ریڈیو اسٹیشن ہیں ان کے نام یہ ہیں : کراچی ،حیدر آباد ،اسلام آباد، پشاور، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، خیر پور، بہاول پور، ملتان، فیصل آباد ،گلگت ،اسکردو ،ڈیرھ اسماعیل ،خان خضدار اور تربت۔

Advertisement

سوال ۴ : و ائرلیس کس اصول پر کام کرتا ہے؟وضاحت کیجیے۔

جواب : وائرلیس کی ایجاد کا اصول یہ ہے کہ اس پر نہ صرف آوازی پیغام بھیجا جاسکتا ہے، بلکہ موصول بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے وائرلیس کے دو سیٹ ہونا ضروری ہیں۔ ایک ایک شہر میں جبکہ دوسرا دوسرے شہر میں، دونوں ایک جیسے سیٹ ہوں گے۔ دونوں سیٹوں میں ایک ایک مائکرو فون ہوتا ہے۔ پہلے سیٹ پر کوئی شخص منہ وائرلیس کے قریب کرکے بات کرے گا، وہ بات ریڈیائی لہروں کر ذریعے دوسرے سیٹ سے دوسرے شخص میں سماعتوں تک پہنچ جائے گی۔

سوال ٦ : ٹیلی فیکس کسے کہتے ہیں؟ اس کے ذریعے خط بھیجنے کا طریقہ بیان کیجیے۔

جواب : ٹیلی فیکس فوٹو کاپی کے جیسی ایک مشین ہے۔ اس کے ذریعے خط بھیجنے کے لیے دق مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بھیجنے والے کے پاس اور دوسری موصول کرنے والے کے پاس، بھیجنے والا اپنے خط کو مشین میں ڈال کر موصول کرنے والے کا نمبر ملاتا ہے۔ مشین میں جانے کے بعد یہ خط ریڈیائی لہروں کے ذریعے موصول کرنے والے کی مشین تک پہنچ جاتا ہے اور وہاں موجود مشین سے موصول کرلیا جاتا ہے۔

Advertisement

سوال ۷ : مستقبل قریب میں پیغام رسانی میں مزید کس قسم کی ترقی کی توقع ہے؟ بیان کیجیے۔

جواب : مستقبل قریب میں پیغام رسانی میں مزید ترقی کا امکان ہے اکیسویں صدی کے آتے آتے مواصلات پر پیغام بھیجنے والے کی تصویریں بھی نظر آئیں گی۔ اور ان کو اسی وقت کمپیوٹر پر مخفوظ بھی کیا جاسکے گا اور ایک تار پر کئی ہزار لوگ پیغام موصول کر سکیں گے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement