خواجہ میر درد

خواجہ میر درد کا نام سید خواجہ میر اور تخلص درد تھا۔ دہلی اسکول کے تین معزز شاعروں میں سے ایک درد ہیں۔ انکے علاوہ میر تقی میر اور محمد رفیع سوداؔ ہیں، جنھیں کلاسیکل اردو غزل کے ستون تسلیم کیا جاتا ہے۔

 میر درد کی پیدائش ۱۷۲۰ میں دہلی میں ہوئی تھی۔ انکے والد کا نام خواجہ محمد ناصر اور تخلص عندلیب تھا جو فارسی کے بہترین شاعر گزرے ہیں۔ انکے اباواجداد بخارا سے ہجرت کرکے دہلی میں قیام پذیر ہوۓ تھے۔ درد کی مکمل دینی تعلیم اپنے والد کی نگرانی میں گھر میں ہی ہوئی۔ انھوں نے عربی، فارسی، اور اردو زبانیں سیکھی تھی۔ البتہ انھیں کم عمری سے ہی موسیقی سے الفت تھی، شاید اس لیے کہ انکے گھر میں گیت کار اور قوالّوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

آغازِ جوانی میں سپاہی پیشہ تھے۔ پھر والد صاحب کے انتقال کے بعد دنیا ترک کی اور سجادہ نشین ہوۓ۔ درد نے شاعری اور تصوف میراث میں پائی تھی۔ ذاتی تقدس، خودداری، ریاضت و عبادت کی وجہ سے امیروغریب، بادشاہ  و فقیر سب ان کی عزت کرتے تھے۔ انکے زمانے میں دہلی ہنگاموں کا مرکز تھی۔ نادر شاہ، احمد شاہ اور مراٹھا دہلی میں لشکر کشی کر رہے تھے۔ چنانچہ وہاں کے باشندے معاشی بدحالی، بے قدری اور زبوں حالی سے مجبور ہو کر دہلی سے نکل رہے تھے۔ لیکن درد کے پاۓ استقامت میں لغزش نہ آئی اور دہلی میں ہی تاحیات مقیم رہے۔

میر درد عام طور پر مختصر غزلیں لکھنے میں فوقیت رکھتے تھے۔ ان کا انداز آسان، سادہ اور مترنم تھا۔ انکی تحریریں سنجیدہ اور غوروفکر پر مائل کرنے والی تھی۔ انھیں بچپن ہی سے تصنیف و تالیف سے رغبت تھی۔ انھوں نے متعدد تصانیف لکھیں جو فارسی میں ہیں۔ ان کی فارسی تحریروں کا مجموعہ کافی وسیع ہے؛ علم الکتاب، تریقہِ محمدیہ، اور دیوانِ درد، فارسی اور اردو میں تصنیف کی تھی۔

درد کی مقبولیت کا راز ان کے تصوف میں نہیں بلکہ ان کے تصوف کو نظموں میں بدلنے کی قابلیت میں تھا۔ وہ آٹھارویں صدی کے معروف صوفی شاعر بن کر ابھرے کیونکہ ان کا اظہارِ بیان براہِ راست اور واضح تھا۔ انکی نظر میں شاعری ایک ذریعۂ اظہار ہے جس سے خالق و مخلوق دونوں کو مخاطب کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے نفسی اور لفظی کلام کو مشترکہ طور پر بیان کیا تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ شاعر ظاہری اور باطنی گفت وشنید کو بہتر طریقے سے بیان کر سکتے ہیں۔  درد نے متعدد غزلیں لکھیں، جو اکثر وبیشتر مزاجی عشق اور حب الوطنی پر مبنی ہوتی تھی۔

درد نے ۱۷۸۵ میں وفات پائی اور وہی جہاں تمام عمر بسر کی تھی مدفن قرار پایا۔

زندگی ہے یا کوئی طوفان

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

Close