Back to: 11th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- کتاب: بہار ستانٍ اردو براۓ 11 جماعت
- سبق کا نام: حاتم کی سخاوت
- مصنف کا نام: میر امن دہلوی
خلاصہ:
حاتم طائی کے وقت میں ایک بادشاہ عرب کا نو فل نام تھا۔ اس کو حاتم کے ساتھ یہ سبب نام آوری کے دشمنی ہوئی۔ بہت سا لشکر فوج جمع کر کے لڑائی کی خاطر چڑھ آیا۔ حاتم تو خدا ترس اور نیک مرد تھا، یہ سمجھا کہ اگر میں بھی جنگ کی تیاری کروں تو خدا کے بندے مارے جائیں گے اور بڑی خوں ریزی ہوگی ، اس کا عذاب میرے نام لکھا جائے گا۔ یہ بات سوچ کر تن تنہا اپنی جان لے کر پہاڑ کی کھوہ میں جا چھپا۔
جب حاتم کے غائب ہونے کی خبر نوفل کو ہوئی، سب اسباب گھر بار حاتم کا لوٹ لیا اور اعلان کر دیا کہ جو کوئی حاتم کو ڈھونڈ کر پکڑ لاوے پانچ سو اشرفی بادشاہ کی سرکار سے انعام پاوے۔ یہ سن کر سب کو لانچ آیا اور تلاش و جستجو حاتم کی کرنے لگے۔ ایک روز ایک بوڑھا، اس کی بڑھیا دو تین بچے چھوٹے چھوٹے ساتھ لیے ہوئے لکڑیاں کاٹنے کے واسطے اس غار کے پاس جہاں حاتم پوشیدہ تھا، پہنچے اور لکڑیاں اس جنگل سے کاٹنے لگے ، بڑھیا بولی کہ اگر ہمارے کچھ دن بھلے آتے تو حاتم کو کہیں ہم دیکھ پاتے ، اور اس کو پکڑ کر نوفل کے پاس لے جاتے تو وہ پانچ سواشر فی دیتا، ہم آرام سے کھاتے، اس دکھ دھندے سے چھوٹ جاتے۔بوڑھے نے کہا کیا ٹر ٹر کرتی ہے؟ ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ روز لکڑیاں توڑیں اور سر پر دھر کر بازار میں بیچیں، تب لون روٹی میسر آوے، یا ایک روز جنگل سے باگھ لے جاوے۔ لے اپنا کام کر۔ہمارے ہاتھ حاتم کا ہے کو آوے گا اور بادشاہ روپے دلاوے گا؟ عورت نے ٹھنڈی سانس بھری اور چپکی ہو رہی۔
ان دونوں کی باتیں حاتم نے سنیں، مرومی اور مروت سے بعید جانا کہ اپنے تئیں چھپائے اور جان کو بچائے اور ان دونوں بے چاروں کو مطلب تک نہ پہنچائے۔ سچ ہے اگر آدمی میں رحم نہیں تو وہ انسان نہیں، اور جس کے جی میں درد نہیں وہ قسائی ہے۔غرض حاتم کی جواں مردی نے قبول نہ کیا کہ اپنے کانوں سے سن کرچپکا ہو رہے۔ وہ باہر نکل آیا اور اس بوڑھے سے کہا : اے عزیز ! حاتم میں ہی ہوں۔ مجھے نوفل کے پاس لے چل۔ وہ مجھے دیکھے گا اور جو کچھ روپے دینے کا اقرار کیا ہے تجھے دیوے گا۔ میر مرد نے کہا : بچ ہے کہ اس صورت میں بھلائی اور بہبودی البتہ ہے، لیکن وہ کیا جانے تجھ سے سلوک کرے، اگر مار ڈالے تو میں کیا کروں ؟ یہ مجھ سے ہر گز نہ ہووے گا کہ تجھ سے انسان کو طمع کی خاطر دشمن کے حوالے کروں۔ وہ مال کتنے دن کھاؤں گا اور کب تک جیوں گا ؟ آخر مر جاؤںگا، تب خدا کو کیا جواب دوں گا !
حاتم نے بہتیری منت کی کہ مجھے لے چل، میں اپنی خوشی سے کہتا ہوں اور ہمیشہ اسی آرزو میں رہتا ہوں کہ مرا جان مال کسو کے کام آوے تو بہتر ہے۔ لیکن وہ بوڑھا کسی طرح راضی نہ ہوا کہ حاتم کولے جاتا۔ تو حاتم نے کہا : میں آپ سے آپ بادشاہ کے پاس جا کر کہتاہوں کہ اس بوڑھے نے مجھے جنگل میں ایک پہاڑ کی کھوہ میں چھپارکھا تھا۔ وہ بوڑھا ہنسا اور بولا : بھلائی کے بدلے برائی ملے ، تو یا نصیب۔اس بحث کے دوران اور آدمی اور بھی آپہنچے، بھیڑ لگ گئی۔ افسوس کرتا ہوا پیچھے پیچھے ساتھ ہو لیا۔ جب نوفل کے روبرولے گئے تو اس نے پوچھا کو اس کو کون پکڑ لایا ؟ ایک بدذات سنگ دل بولا کہ ایسا کام سوائے ہمارے اور کون کر سکتا ہے ؟ یہ فتح ہمارے نام ہے، ہم نے عرش پر جھنڈا گاڑا ہے۔ ایک لن ترانی والا ڈینگ مارنے لگا کہ میں نے کئی دن دوڑ دھوپ کر کے جنگل سے پکڑا ہے، مجھے اس کا انعام دیجئے۔
اسی طرح اشرفیوں کے لالچ میں ہر کوئی کہتا تھا کہ یہ کام مجھ سے ہوا۔وہ بوڑھا چپکا ایک کونے میں لگا ہوا سب کی شیخیاں سن رہا تھا اور حاتم کی خاطر روتا تھا۔ جب اپنی اپنی دلاوری اور مردانگی سب کہہ چکے ، تب حاتم نے بادشاہ سے کہا : اگر سچ بات پوچھو تو یہ ہے کہ وہ بوڑھا جو الگ سب سے کھڑا ہے، مجھ کو لایا ہے، اگر قیافہ پہچان جانتے ہو تو دریافت کرو اور میرے پکڑنے کی خاطر جو قبول کیا ہے پورا کرو کہ ساری ڈیل میں زبان حلال ہے۔ مرد کو چاہیے جو کہے سو کرے۔نہیں تو جیبھ حیوان کو بھی خدا نے دی ہے۔ پھر حیوان اور انسان میں کیا تفاوت ہے ؟
نوفل نے اس لکڑ ہارے بوڑھے کو پاس بلا کر پوچھا کہ سچ کہہ ، اصل کیا ہے؟ حاتم کو کون پکڑ لایا ؟ اس بیچارے نے سر سے پاؤں تک جو گزرا تھار است کہہ سنایا اور کہا حاتم میری خاطر آپ سے آپ چلا آیا ہے۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سن کر متعجب ہوا کہ واہ رے تیری سخاوت، اپنی جان کا بھی خطر نہ کیا۔
جتنے جھوٹے ، دعوے حاتم کو پکڑ لانے کے کرتے تھے، حکم ہوا کہ ان کی ٹنڈیاں کس کر پانچ سو اشرفی کے بدلے پانچ پانچ سو جوتیاں ان کے سر پر لگاؤ کہ ان کی جان نکل پڑے۔ تڑ تڑ جو تیاں پڑنے لگیں اور ایک دم سر ان کے گنجے ہو گئے۔ سچ ہے، جھوٹ بولنا ایسا ہی گناہ ہے کہ کوئی گناہ اس تک نہیں پہنچتا۔
خدا سب کو اس بلا سے محفوظ رکھے اور جھوٹ بولنے کا چسکا نہ دے۔ بہت آدمی جھوٹ موٹ بکے جاتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت سزا پاتے ہیں۔غرض ان سب کو موافق ان کے انعام دے کر ، نو فل نے اپنے دل میں خیال کیا کہ حاتم جیسے شخص سے کہ ایک عالم کو اس سے فیض پہنچتا ہے اور محتاجوں کی خاطر جان اپنی دریغ نہیں کرتا اور خدا کی راہ میں سرتا پا حاضر ہے ، دشمنی رکھنا اور اس کا مدعی ہونا آدمیت اور جواں مردی سے بعید ہے۔ اس نے حاتم کا ہاتھ بڑی دوستی اور گرم جوشی سے پکڑ لیا اور تواضع و تعظیم کر کے پاس بٹھلایا اور حاتم کا ملک واملاک اور مال و اسباب جو ضبط کیا وہ چھوڑ دیا ، نئے سرے سے سرداری قبیلہ طے کی، اسے دی اور اس بوڑھے کو پانچ سو اشرفیاں خزانے سے دلوا دیں۔ وہ دعا دیتا ہوا چلا گیا۔
۲۔ مشق۔
میر امن دہلوی کی زندگی کے حالات اور ادبی خدمات کے بارے میں نوٹ لکھیے۔
حالات زندگی
میر امن دہلوی کا اصلی نام میر امان اللہ تھا۔ آپ کی ولادت دہلی میں ہوئی۔ آپ اپنا تخلص پہلے لطف کیا کرتے تھے لیکن بعد میں میر امن رکھ دیا اور آپ کے آبا واجداد مغلیہ سلطنت میں بڑھے بڑھے عہدوں پر فائز تھے۔ دہلی پر جب احمد شاہ ابدالی نے حملہ کیا تو آپ کا خاندان دہلی سے ہجرت کر کے پہلے پٹنہ آیا لیکن بعد میں کلکتہ میں اپنی سکونت اختیار کی اور یہاں پر نواب دلاور جنگ نے آپ کو اپنے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم کو تعلیم دینے پر مامور کیا۔یہ کام دو سال تک جاری رکھا پھر میر بہادر علی حسینی کے ذریعے ڈاکٹر جان گلکریسٹ تک رسائی حاصل کی اور فورٹ ولیم کالج میں ملازم مقرر ہوئے۔ یہاں انہیں ترجمہ کا کام ماہانہ چالیس روپیوں کے عوض سونپا گیا۔
ادبی خدمات:
جب تک اردو زبان و ادب کا نام باقی رہے گا تب تک میر امن کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا اور ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ میر امن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے نے فورٹ ولیم کالج میں رہ کر فارسی قصہ چہار درویش کاتر اردو زبان میں باغ و بہار کے نام کے ساتھ کیا اور یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔باغ و بہار سے ہی دقیق اردو لکھنے کے بجائے عام فہم اردو لکھنے شروح ہوا۔
میر امن کی تحریر سادہ، صاف، با محاورہ ہے۔ سر خان نے میر امن کی ادبی خدمات کا احتراف کرتے ہوئے لکھا میر امن دہلوی کو اردو نثر میں وہی مرتبہ حاصل ہے جو میر کو شاعری میں حاصل ہے۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے لکھا ہے کہ جہاں وہ آسانی – اور فارسی کے الفاظ لکھ سکتے تھے وہاں پر بھی انہوں نے سید سادے لفظ کو ترجیح دی ہے۔ مثلا خوشی کی جگہ آنند ، رونق کی روبٹ ، پیام کی جگہ سندیسہ، جسے لفظوں کا انتخاب کیا ہے تاکہ آدمی اس کتاب کو پڑھ کر لطف حاصل کر سکے۔
میر امن کی تحریر کردہ ” باغ و بہار” کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں جو پانچ قصے پیش ہوئے ہیں وہ آسان اور دلنشین زبان میں ہیں۔ ان قصوں میں اخلاقی رنگ بھی ہے اور حسن و عشق کی داستان بھی، لیکن یہ سب خوبیاں اسی وقت قابل ذکر ہوتی ہیں جب قصے کی زبان میں صفائی اور زور ہو۔ میر امن کی زبان اتنی سادہ نہیں ہے جتنی بظاھر معلوم ہوتی ہے لیکن اس میں خواہ مخواہ کی رنگینی اور پیچیدگی بھی نہیں ہے۔ ان کے پاس عربی فارسی اور دیسی ہر طرح کے الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اسے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ میر امن کو محاکات اور جزئیات نگاری پر بھی کمال کا عبور حاصل تھا۔
۲. باغ و بہار کی ادبی اہمیت اور افادیت تحریر کیجیے۔
اردو نثر کی تاریخ میں باغ و بہار کو بے مثال اہمیت حاصل ہے۔ اردو میں مختصر افسانے کا جنم تو بہت بعد میں ہوا لیکن باغ و بہار میں پہلی بار افسانے کی ہلکی سی جھلک نظر آتی ہے۔ اس میں ایک بادشاہ شاہ اور چار درویشوں کی کہانیاں پیش کی گئی ہیں جنہیں تمہید اور خاتمے کے ذریعے آپس میں جوڑ دیا گیا ہے۔
اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک داستان نہیں بلکہ پانچ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ گویا یہ اردو افسانے کی صبح کاذب ہے دوسری خاص بات یہ ہے کہ اس کتاب میں دہلی کی تہذیب و معاشرت کی مکمل مرقع کشی نظر آتی ہے۔ کسی شہر و دیار کا ذکر کیا جا رہا ہو مگر بچشم غور دیکھئے تو دلی کے درو دیوار پیش نظر ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں اہم سہی مگر ” باغ و بہار کی سب سے بڑی خوبی اس کا اسلوب بیان ہے۔اردو نثر کا پہلا شاہکار باغ و بہار ہے۔ اس سے پہلے بھی اردو نثر میں کتابیں موجود تھیں مگر ان کا انداز مصنوعی ، زبان گنجلک اور فارسی آمیز تھی۔ ” باغ و بہار ” آسان، سادہ اور عام فہم زبان کا پہلا نمونہ ہے۔ آگے چل کر اردو نثر نے جو راہ اختیار کی اس کا پتہ اسی کتاب نے دیا تھا۔
غالب نے اپنا چراغ میر امن کے چراغ سے جلایا۔ مطلب یہ کہ میر امن نے جس طرح کی زبان استعمال کی تھی اس کی ذرا نکھری ہوئی شکل میں غالب نے خط لکھے اور سر سید کی علمی نثر کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ میر امن نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر اس کتاب کے لئے عام بول چال کی زبان ان کا انتخاب کیا تھا۔بول چال کی زبان تحریری زبان یا یوں کہنا چاہیے کہ کتابی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔
تحریری زبان میں قواعد یعنی گرامر کی پابندی کی جاتی ہے، جملے اور فکرے مکمل ہوتے ہیں، رکھ رکھاؤ کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ ان سب باتوں سے ذرا بہت تکلف تھوڑا سا تصنع تو پیدا ہو ہی جاتا ہے۔ بول چال کی زبان میں یہ پابندیاں نہیں ہو تیں۔ باتوں میں چشم و ابرو کے اشارے بھی بہت کام کرتے ہیں اور بہت سے لفظ محذوف ہو جاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ کم ہو جاتے ہیں۔ فقرے چھوٹے چھوٹےہوتے ہیں۔ دو فقروں کو جوڑنے والے لفظ اکثر خارج کر دیے جاتے ہیں۔ آسان لفظوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
۳. فورٹ ولیم کالج نے اُردو زبان وادب کی ترقی کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟
جواب: اردو زبان و ادب کی تاریخ میں فورٹ ولیم کالج کا ایک اہم مقام ہے۔اس کالج نے اردوکی جو خدمت کی اسے کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ اس کالج نے اردو کے دامن کو وسیع کیا۔ اسے نیا انداز واسلوب بھی عطا کیا اور زبان کی سادگی کا ایک عمدہ راستہ دکھایا۔ ساتھ ہی اس نے ترقی کا نیا راستہ دکھایا۔ حالانکہ دیکھا جائے تو اس کالج کے قیام کا مقصد انگریز افسروں کو ہندوستانی تہذیب اور زبانوں سے واقف کرانا تھا تاکہ انہیں تجارتی اور سیاسی فائدہ حاصل ہوسکے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں۔ بہر حال گرچہ اس کالج کا مقصد کچھ اور تھا لیکن اس سے اردو کو جو فائدہ ہوا اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
فورٹ ولیم کالج کا قیام لارڈ ولزلی کے ذریعہ 10 جولائی 1800ء میں ہوا لیکن اس کی تاریخ پیچھے ہٹا کر 4 مئی 1800ء درج کی گئی۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ 4 مئی 1799ء کو ٹیپو سلطان کو انگریزوں نے شکست دی تھی۔ اس سے انگریزوں کو بہت خوشی ملی تھی اور ان لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اب ہندوستان ہمارا ہے” اس دن کو یادگار بنانے کی خاطر لارڈ ولزلی نے 4 مئی کی تاریخ درج کرائی بہرحال جب کالج کھل گیا اور ہندوستانی زبانوں کا شعبہ بھی قائم ہو گیا تو کتابوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ اس وقت پڑھانے یا سکھانے کے لیے کوئی مناسب کتاب موجود نہیں تھی۔
اس لیے جان گلکرسٹ جو ہندوستانی شعبے کے نگراں تھے انہوں نے اس وقت کے قلم کاروں اور استادوں کو بلا کر اس کالج سے منسلک کیا تاکہ وہ قصے کہانیاں سنا کر انگریزوں کو اردو بولنا سکھائیں اور فارسی اردو کی مشکل کتابوں کا ترجمہ کرکے آسان کتاب تیار کیا جاسکے جس سے انگریز آسانی کے ساتھ اردو سیکھ سکیں۔ پھر قلم کاروں اور استادوں کو کالج میں لانے کے بعد اس کالج میں چھاپہ خانہ بھی کھولا گیا تاکہ جو کتابیں لکھی جائیں وہ فوراً چھپ جائیں۔ بہر حال اس طرح کالج کا باقادہ آغاز ہوا اور بہت جلد عربی فارسی انگریزی اور سنسکرت وغیرہ کی کتابوں کا اردو ترجمہ ہوا اور اسے چھاپا بھی گیا۔
۴. حاتم کی سخاوت کا قصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
جواب: خلاصہ دیکھئے۔
۵. نوفل نے لکڑ ہارے بوڑھے کو پاس بلا کر یا پو چھا، اور اس کے جواب میں بوڑھے نے کیا کہا۔
جواب: نوفل نے اس لکڑ ہارے بوڑھے کو پاس بلا کر پوچھا کہ سچ کہہ ، اصل کیا ہے؟ حاتم کو کون پکڑ لایا ؟ اس بیچارے نے سر سے پاؤں تک جو گزرا تھار است کہہ سنایا اور کہا حاتم میری خاطر آپ سے آپ چلا آیا ہے۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سن کر متعجب ہوا کہ واہ رے تیری سخاوت، اپنی جان کا بھی خطر نہ کیا۔
۳. داستان کی تعریف کیجیے اور اس کے اجزائے ترکیبی بھی لکھیے۔
داستان کی تعریف:
داستان ایک طویل اور مسلسل قصے کو کہتے ہیں جس میں واقعات کو پرکشش انداز میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ سامعین کی دلچسپی برقرار رہے۔ داستان کا فن بنیادی طور پر سننے اور سنانے کا فن رہا ہے۔ بہت بعد میں داستانوں کو تحریری شکل میں محفوظ کیا گیا۔ اب چوں کہ داستان گوئی کی روایت تقریباً ختم ہو گئی ہے اس لیے تحریری داستانوں کو ہی بنیاد بنا کر داستان کی اہم خصوصیات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ داستان کے اجزائے ترکیبی:
مرکزی کہانی
داستان میں ایک مرکزی کہانی ہوتی ہے۔ مرکزی کہانی کا موضوع عموماً عشق ، جنگ ، مہم یا مذہب ہوتا ہے۔ اردو میں عشقیہ اور مہماتی داستانوں کو زیادہ پسند کیا گیا۔ داستان گوئی کی ساری توجہ داستان کو دلچسپ بنانے پر ہوتی ہے۔ داستان کے کردار عام طور سے بادشاہ، شہزادہ، شہزادی، کوئی مشہور دیو مالائی شخصیت یا معروف جنگجو ہوتے ہیں جو جرات ، مردانگی اور دلیری کے پیکر ہوتے ہیں۔
فضا :
داستان کی ایک اہم خصوصیت اس کی فضا ہے۔ داستان کی فضا میں زمان و مکاں کے لحاظ سے دوری کا وجود ضروری ہے۔ لہٰذا داستان میں پیش کردہ واقعات کا تعلق زمانہ قدیم سے دکھایا جاتا ہے مثلا کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا یا بہت زمانہ گزرا، ملک روم پر فلاں بادشاہ کی حکومت تھی۔ اسی طرح داستان میں دور دراز کے ملکوں کی کہانی بیان کی جاتی ہے۔ مثلاً بدخشاں ، روم ، بلخ، یونان یا پھر کوئی خیالی ملک۔
مافوق الفطرت عناصر :
داستان کی ایک اہم خصوصیت اس میں مافوق الفطرت عناصر کی موجودگی ہے۔ ان عناصر سے مراد وہ عناصر ہیں جنھیں منطقی اور استدلالی ذہن قبول نہیں کرتا مثلا دیو، جن، پری، چڑیل و غیره داستان میں جا بہ جا نظر آتے ہیں جو غیر معمولی قوت اور صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ جادو منتر کے زور پر وہ انسان کو مکھی یا کسی جانور میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
۴. مصنف کا حوالہ دے کر اور سیاق وسباق پیش کر مندرجہ ذیل سطور کا ما حصل اپنے الفاظ میں لکھیے۔
اُس بے چارے نے سر سے پاؤں تک جو گذرا تھا، راست کہہ سنایا اور کہا کہ حاتم میری خاطر آپ سے آپ چلا آیا ہے ۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سن کر متعجب ہوا کہ بل بے تیری سخاوت ! اپنی جان کا بھی خطرہ نہ کیا ، جتنے جھوٹھے دعوے حاتم کے پکڑ لانے کے کرتے تھے حکم کیا کہ ان کی ٹڈیاں کس کر پان و اشرفی کے بدلے پان پان سے جو تیاں اُن کے سر پر لگاؤ۔
حوالہ متن:
اس سبق کے مصنف “میر امن دہلوی” ہیں اور اس کو ان کی مشہور داستان “باغ و بہار” سے اخذ کیا گیا ہے۔
سیاق و سباق:
اس سے قبل کی کہانی میں بتایا گیا ہے کہ کیسے بادشاہ وقت نے حاتم کے سر پر انعام رکھا حاتم نے خود کو روپوش کر لیا مگر ایک غریب بزرگ کی باتیں سن کر خود کو اس کے حوالے کیا اور کہا کہ وہ اسے بادشاہ کے سامنے پیش کرکے انعام پا سکتا ہے۔مگر وہاں کئی اور لوگ آ پہنچے اور انھوں نے بادشاہ کے سامنے حاتم کو کھڑڑا کر کے کہا کہ وہ اسے پکڑ لائے ہیں مگر حاتم نے تمام سچ بیان کر دیا۔
محاصل:
اس اقتباس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حاتم نے اپنی خودسپردگی کا قصہ بادشاہ کو بتایا تو بادشاہ نہ صرف اس کی سخاوت سے متاثر ہوا بلکہ اس نے جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو پکڑ کر ان سے انعام بھی لے لیا اور انھیں کڑی سزا دی۔
(۵) تابع مہمل (مرکب)
جو کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کر پکڑ لاوے اس جملے میں ڈھونڈ ڈھانڈ ایک مرکب ہے۔ جب مرکب میں با معنی لفظ کے محاورے کے مطابق مہمل لفظ استعمال ہو تو اس مہمل لفظ کو تابع مہمل کہتے ہیں۔ ڈھونڈ ڈھانڈ مرکب میں ڈھانڈ تابع مہمل ہے۔ ایسے پانچ مرکب لکھیے جن میں تابع مہمل الفاظ استعمال ہوئے ہوں۔
روٹی ووٹی ، کھانا وانا ، کوڑا کرکٹ ، سونا شونا ، آنا وانا۔
۶.درج ذیل عنوان کے تحت مضامین لکھیے :
اردو زبان میں داستان نگاری:
اردو زبان میں داستان نگاری کی روایت بہت پرانی ہے اور اس کی جڑیں فارسی اور عربی ادب سے جڑی ہوئی ہیں۔ داستان ایک طویل اور پیچیدہ قصہ ہوتا ہے جس میں واقعات، کردار، اور ماحول کو تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں داستان نگاری کی اہم مثالیں “داستان امیر حمزہ” اور “طلسم ہوشربا” ہیں۔ ان داستانوں میں جادوئی دنیا، غیر معمولی واقعات، اور بہادری کی داستانیں ہوتی ہیں۔
اردو کی داستانیں عموماً زبانی روایات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان میں مافوق الفطرت عناصر کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ ان داستانوں میں کردار بہت رنگین اور متنوع ہوتے ہیں، جیسے بادشاہ، شہزادے، جن، پریاں، اور جنگجو۔ داستان نگار اپنے قصے کو دلچسپ بنانے کے لیے شاعری، مکالمے، اور محاورات کا استعمال کرتا ہے۔
اردو داستان نگاری نے اپنے عہد میں لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اخلاقی اور سماجی اقدار بھی پیدا کیں۔ ان داستانوں کی زبان ادبی اور شائستہ ہوتی ہے، جو قارئین کو اردو زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتی ہے۔
سخاوت:
سخاوت ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے جو انسان کو دوسروں کی مدد کرنے اور اپنی ضروریات سے زیادہ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ سخاوت کا مطلب صرف مالی امداد دینا نہیں بلکہ اپنے وقت، علم، اور محبت کو بھی دوسروں کے ساتھ بانٹنا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس سے نہ صرف دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ انسان کی اپنی روح کو بھی سکون اور اطمینان ملتا ہے۔
اسلام میں سخاوت کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں بارہا مسلمانوں کو صدقہ و خیرات دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حضورﷺ کی زندگی سخاوت کی روشن مثال ہے، آپﷺ نے ہمیشہ دوسروں کی مدد کی اور غریبوں، مسکینوں کا خیال رکھا۔ سخاوت ایک ایسا عمل ہے جس سے معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور ہم آہنگی بڑھتی ہے۔
سخاوت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اور انہیں دوسروں کے ساتھ بانٹ کر اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کا دل بڑا ہوتا ہے بلکہ اللہ بھی اسے اپنی نعمتوں میں مزید اضافہ عطا کرتا ہے۔