زبان کے نظریات

جب سے انسان کو زبان کی اہمیت کا شعور پیدا ہوا اس وقت سے آج تک اس نے اس کے اغاز کے بارے میں خیال آرائی کی۔ قدیم زمانے کے لوگ زبان کو خدا کی بنائی ہوئی چیز سمجھتے تھے۔ چنانچہ سنسکرت کو دیو باشاہ سے تعبیر کرنے کا یہی مطلب تھا۔

علم زبان کو ایک معین اور مستقل علم سمجھے جانے کے بعد سے بھی ماہرین لسانیات اس مسئلے پر غوروفکر کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں کہ کسی خاص کام کو ظاہر کرنے کے لئے کہ اس کی آواز کیوں کر منتخب کی گئی،بہت کچھ قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ جدید دور کے ایک مشہور ماہرلسانیات میکس میولر نے زبان کے آغاز کے بارے میں آج تک جو خیالات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں ان کو اکٹھا کرنے اور ان کی چھان بین کرنے کی کوشش کی ہے۔اور انہیں چار نظریوں کی صورت میں پیش کیا ہے۔

  • صوت تقلیدی نظریہ
  • فجائی نظریہ
  • ابتلا زائی نظریہ
  • ہائی سو نظریہ

صوت تقلیدی نظریہ

اس نظریے کا ما حاصل یہ ہے کہ الفاظ فطری اصوات کی نقلیں ہیں۔انسان نے کتے کے بھونکنے کی نقل کی،جس سے ابتدائی” بآوواد” کت”باآ٬٬ جیسے لفظ بنے۔انگریزی کا لفظ ککو اور اس سے مشتق "کا کٹ ” وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔یہ نظریہ اس مماثلت کی بنا پر بنایا گیا کہ عموماً بچے جانوروں کو اس آواز سے موسوم کر دیتے ہیں جو ان سے سنتے ہیں۔ مثلاً ” میاؤں” (بلی)٬ "میں میں”(بکری)٬ "چوں چوں” (چڑیا) وغیرہ۔ اس نظریے کو صوت تقلیدی نظریہ اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ مختلف آوازوں کی بنا پر اس کا وجود ہوا۔

فجائی نظریہ

دوسرا نظریہ زبان کے آغاز کے بارے میں فجائی نظریہ ہے۔ اسے مزاجاً "پوپو” نظریہ سے موسوم کیا گیا ہے۔اس کو” ٹٹ ٹٹ” نظر یہ بھی کہا گیا ہے۔اس کی بنیاد اس نفسیاتی خصوصیت پر ہے جو مختلف چیزوں یا مظاہر کا مشاہدہ دل میں مختلف قسم کے احساسات اور جذبات پیدا کرتا ہے اور ان جذبات اور احساسات کو انسان مختلف قسم کی موزوں آوازوں کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔اس کی مثال "دھت”، "تف”٬ "ہاۓ” وغیرہ ہیں۔

ابتلا زائی نظریہ

اس نظریہ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ابتدائی زمانے کا انسان جب خاص خاص چیزوں کا مشاہدہ کرتا تھا تو جوابی ردعمل کے طور پر اس کی زبان سے بے ساختہ کچھ آوازیں نکل جاتی تھیں۔یہی آوازیں رفتہ رفتہ اس چیز کے نام کے طور پر مستعمل ہو گیں۔مثال کے لیے اردو کا لفظ "جگمگ”٬ "جھلاجھل” وغیرہ پیش کیے جاسکتے ہیں۔ اس نظریے کو ا بتلا زائی یا ” لیتھو جنک نظریہ” سے معصوم کیا جاتا ہے۔

ہائی سو نظریہ

یہ ہمارے روزمرہ مشاہدہ کی بات ہے کہ مزدور جب بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں، یا کسی کٹھن کام میں ان کو جسمانی قوت سے کام لینا پڑتا ہے تو سب مل کر کچھ آوازیں بلند کرتے ہیں جس سے ان کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ اس طرح مغربی ملکوں میں ملاح جب جہازوں کے لنگر کو کھینچتے ہیں تو”یو ہے ہو” کی صدا بلند کرتے ہیں لیکن ہمارے یہاں عام طور پر مزدور اور ملاح "ہائی سو” کی صدا نکالتے ہیں۔

الفاظ کے مادے انسانی افعال کو ظاہر کرتے ہیں۔اس کی بنیاد پر بعض علماء نے یہ نظریہ مرتب کیا ہے کہ محنت اور مشقت کے ردعمل کے طور پر جو آواز انسان فطرتاً نکالتا ہے، ان سے خود کام کا اظہار ہوتا ہے۔ اس نظریہ کو نوارے نے پیش کیا تھا۔

Mock Test Dec. 2011 Paper

زبان کے نظریات 1
Close