ہندوستانی زبانوں کے خاندان

بیسویں صدی کے نصف اول میں فرنچ اکیڈمی کے جائزے کے مطابق دنیا میں 2794 زبانیں بولی جاتی ہیں۔گرے نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔ماہرین لسانیات نے مختلف زبانوں کی قواعد، جملوں کی بناوٹ ،مرکبات کے اصول اور معنوی کرابت کے لحاظ سے دنیا کی زبانوں کو مختلف خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔

خاندانی اور گروہی رشتوں کی تلاش ہند یورپی خاندان کے مطالعے سے شروع ہوتی ہے۔اس مطالعے کے سلسلے میں تاریخی اور تقابلی طریقے واضح کئے گئے۔ہند یورپی خاندانوں کے قواعد کو لے کر دوسرے خاندانوں کا مطالعہ کیا گیا لیکن تفصیلی مطالعہ صرف ترقی یافتہ زبانوں کا ہی ہو سکا۔ہندوستانی زبانوں کا تعلق ہندوستان میں آریوں کی آمد سے کسی نہ کسی طرح جڑا ہوا ہے۔

آریوں کو تاریخ کی روشنی میں سب سے پہلے ہم شمال مغربی ایران میں (2000ق م )دیکھتے ہیں۔ہندوستان میں آریوں کے داخلہ کی تاریخ(1500ق م) مقرر کی جا سکتی ہے ۔ہند یورپی زبان بولنے والے آریا اپنے داخلہ ہند سے قبل عرصے تک مشرقی ایران میں قیام کر چکے تھے، جہاں ان کی زبان ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی (2000ق م) تک ہند ایرانی منزل پر پہنچ چکی تھی۔ ہند یورپی زبان کی یہ ہند ایرانی شکل ہی ان تمام زبانوں کی ماں کہی جا سکتی ہے جو بعد کو ایران میں پھیلی اور جسے آریا بولتے ہوۓ ہندوستان میں داخل ہوئے۔

ہندوستان میں آریوں کا سابقہ دراوڑی اور آسٹرک قوموں سے پڑا۔آسٹرک زیادہ تر مشرقی اور وسط ہند کے علاقوں میں آباد تھے۔ان قوموں کو زیر کرنے میں آسٹرک کو کافی جدوجہد کرنا پڑی۔اس جدوجہد کی جھلک رگ وید کی بعض قصوں میں پائی جاتی ہے۔ہندوستان میں منڈا خاندان کی، برما اور چینی، تبت، تھائی لینڈ وغیرہ میں مون کھمیر خاندان کی بہت سی زبانیں آسٹرک خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

تبت چینی خاندان

تبت چینی خاندان کے بولنے والے ہندیورپی کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ یہ خاندان چین، تبت ،میگھالیا ،ناگالینڈ،تری پورہ، تھائی لینڈ پر پھیلا ہوا ہے۔یہ زبانیں ایک رکنی مادوں پر مشتمل غیر ترکیبی ہیں۔چینی کی مختلف بولیوں میں بڑا فرق ہے۔اسی لیے ایک بولی کا بولنے والا دوسری بولی سمجھ نہیں سکتا۔ان بولیوں میں تلفظ کا اختلاف علاقائی اور تاریخی وجوہات سے بھی نظر آتا ہے۔چینی کی معیاری بولی "کواں” ہے جو پیکنگ کی بولی ہے جسے منڈارین بھی کہا جاتا ہے۔چینی میں دو ادبی اسلوب ہیں۔ایک قدیم زبان، دوسری جدید زبان۔قدیم زبان کا اسلوب پیچیدہ اور مرصع ہے۔جدید چینی زبان کا اسلوب سہل تر ہے۔اس میں بہت کا ادب پیدا ہو رہا ہے۔ چینی زبان کی چند اہم اور دلچسپ خصوصیات ہیں۔

  • ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ اس میں لفظوں کو سر کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ایک ہی لفظ کو مختلف سروں میں بولنے سے معنی بدل جاتے ہیں۔
  • دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس زبان میں قواعد نہیں ہیں ۔حتیٰ کہ چینی میں قواعد کے لیے کوئی لفظ ہی نہیں ہے ۔
  • تیسری خصوصیت یہ ہے کہ چینی میں انفی آوازوں کی کثرت ہوتی ہے۔چینی تحریری لفظ نقش ہوتا ہے۔ یہ بظاہر نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن خود چینی اسے مشکل نہیں سمجھتے۔ جاپانیوں نے بھی یہی خط اختیار کیا ہے۔

تبت چینی خاندان کی ایک شاخ تبت برمی ہے۔اس کی خاص زبان تبتی ہے جسے” بھوٹیاں” بھی کہتے ہیں۔اس پر سنسکرت کا کافی اثر ہے۔ اس کا رسم الخط بھی براہمی کی شاخ ہے۔اس میں چھٹی صدی سے سنسکرت اور پالی کتابوں کے ترجمے شروع ہوگئے۔

دوراوڑ خاندان

اس خاندان کے بولنے والے جنوبی ہند کے علاوہ بہار، اڑیسہ اور مدھیہ پردیش میں ملتے ہیں۔دراوڑی زبانوں کے ایک بڑے ماہر بشپ کا ڈوبل تھے،جنہوں نے انیسویں صدی میں دراوڑی زبانوں کی تقابلی قواعد لکھی ہے۔ کاڈ ویل کا خیال ہےکہ دراوڑی زبان میں دوسری زبانوں کا بڑا امتزاج ملتا ہے۔ دراوڑ زبان کو تین علاقہ واری حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

  • جنوبی دراوڑی میں تامل، کنڑ، تلو اور ملیالم مشہور ہیں۔
  • وسطی دراوڑی میں تیلگو، گونڈی اور کوی کو بڑی اہمیت ہے۔
  • شمالی دراوڑی میں کرکھ اور براہوی دو زبانیں شامل ہیں۔
  • دراوڑی زبانوں کی چند مشترکہ خصوصیات ہیں:
  • ان میں معکوسی مصمتوں کا افراط ہے۔
  • جنس کا نظام دوسری ہندوستانی زبانوں سے مختلف ہے۔

بنیادی طور پر جنس کی تقسیم جاندار اور بے جان کی ہے صرف ضمیر غائب ہیں’۔مذکر اور مونث ہیں اور انہیں صفت کے آخر میں بھی لاحقے کے طور پر جوڑ دیا جاتا ہے۔فعل مجہول یعنی (passive voice ) نہیں۔

جنوبی دراوڑی زبانوں میں تامل زبان سب سے پرانی ہے ۔تامل والوں کا تو دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی موجودہ زبانوں میں سب سے قدیم ہے ۔تامل ادب بھی بڑھا دقیع ہے۔” تل کا پبم”تامل کی سب سے قدیم شعری تصنیف ہے ۔جو دوسری صدی ق۔م میں لکھی گئی۔دنیا میں تکلم معرا کا یہ سب سے قدیم نمونہ ہے۔تامل کا ادبی اسلوب منی پر وال میں سنسکرت الفاظ کی بہتات ہے۔

ملیالم نویں صدی میں تامل سے الگ ہوئی۔یہ کیرلا کی زبان ہے اس میں سنسکرت الاصل الفاظ 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ ملبار کے موپلا مسلمانوں کی بولی سنسکرت اثرات سے مبرا ہے۔

کنڑ کرناٹک کی زبان ہے۔ یہ تامل اور تیلگو سے ملتی جلتی ہے اس کا رسم الخط تیلگو کا ہے اس زبان کے تین دور ہے پہلا دور ۱۲۵۰ءتک،دوسرا دور ۱۲۵۰ءسے ۱۵۰۰ءتک اور تیسرا دور یعنی جدید دور ۱۵۰۰ء کے بعد شروع ہوتا ہے۔کنڑ میں چوتھی صدی عیسوی سے ادب ملتا ہے ۔کنڑ کا ہر لفظ مصوتے پر ختم ہوتا ہے۔

تلو،کرگ اور مہاراشٹر کی سرحد پر منگلور میں بولی جانے والی ایک چھوٹی سی زبان ہے ۔اس میں ادب نہیں ہے۔کالڈ ویل تمام دراوڑی زبانوں میں اسے سب سے ترقی یافتہ زبان قرار دیتا ہے۔یہ کنڑ سے بہت ملتی جلتی ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین اسے کنڑ کی” بولی” ہی کہتے ہیں۔

تیلگو دراوڑی زبانوں میں تیلگو بولنے والے سب سے زیادہ ہے اس میں سنسکرت الفاظ کثرت سے ملتے ہیں ۔لفظوں کے آخر میں مصوتہ ہوتا ہے۔ اس میں مصوتی ہم آہنگی ہے اس لیے یہ زبان بڑی شیریں زبان ہے ۔اس سے مشرقی اطالوی کہا جاتا ہے اس کا ادب گیارویں صدی سے ملتا ہے۔

دراوڑی زبانوں نے ہند آریائی زبانوں کو بھی متاثر کیا۔ آریائی زبانوں میں معکوسی آوازیں یہیں سے آئی ہیں۔

Mock Test Dec. 2011 Paper

ہندوستانی زبانوں کے خاندان 1
Close