Advertisement

کھڑی بولی دہلی کے شمال مشرق کی بولی ہے۔ اس میں یو-پی کا وسیع علاقہ بھی شامل ہے۔ ہندی بھی کھڑی بولی سے پیدا ہوئی ہے جس کا رسم الخط دیوناگری ہے لیکن اس کا ارتقاء اردو کے ادبی ارتقاء کے بعد ہوا۔

Advertisement

کھڑی بولی نے ہی اردو کا روپ اختیار کیا اور دھیرے دھیرے معیاری اور ترقی یافتہ زبان بن گئی۔گریرسن نے کھڑی بولی کو ‘ہندوستانی’ اور اردو کو ‘ادبی ہندوستانی’ کہا ہے۔ضلع انبالہ کی تحصیل انبالہ، ضلع بلندشہر کا شمالی حصہ، بجنور، مرادآباد، رامپور، میرٹھ، مظفرنگر، سہارنپور کے اضلاع دہرادون کے میدانی علاقے میں کھڑی بولی کا ہی چلن ہے۔

Advertisement

میرٹھ، مظفرنگر اور سہارنپور کی کھڑی بولی معیاری سمجھی جاتی ہے۔مظفر نگر میں تشدید کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ ان علاقوں کی کھڑی بولی میں افعال کی صورت یہ ہے کہ” میں مارتا ہوں” کے ساتھ "میں ماروں ہو” بھی کہا جاتا ہے۔اسماء کی جمع کھڑی بولی میں (اں) سے بنائی جاتی ہے مثلاً: عورتاں، قلماں، مکاناں وغیرہ۔

Advertisement

ضمیر میں ‘تیرا’ کی جگہ ‘تجھ مجھ’ بھی ملتا ہے۔کھڑی بولی کی ابتدائی جھلک اپ بھرنش کی قدیم ترین تصنیفات میں نظر آتی ہے۔کھڑی بولی ایک طرف دوسری بولیوں کے مقابلے میں قدیم ترین ہے۔ اس کا کوئی نمونہ پندرھویں صدی سے قبل نہیں ملتا تو دوسری طرف مسلمانوں کی آمد سے پہلے یہ میرٹھ اور مضافات میں بولی جاتی تھی۔اس کے اثرات ہمہ گیر تھے۔ کھڑی بولی اپنے علاقے سے آگے بڑھ کر پنجابی کو بھی متاثر کرتی رہی ہے۔

پروفیسر گیان چند جین نے اس کا نام "کھڑی” ہونے کی وجوہات اپنی معرکہ آراء تصنیف "عام لسانیات” میں درج ذیل بتائی ہیں۔

Advertisement
  • برج کے مقابلے میں کھڑی کا لہجہ (آ) کا ہے اس لیے اسے کھڑی کہا گیا ہے۔اس کے مقابلے میں برج کو، جس کا لہجہ (او) کا ہے "پڑی” سمجھا گیا۔
  • برج کے مقابلے میں کھڑی میں تشدید کا رجحان زیادہ ہے اور معکوسی مصمتے ڈ،ڑ کا استعمال بھی زیادہ ہے۔ برج میں کھڑی کا ‘ڈ’ (ڈال) کئی موقعوں پر ‘ڑ'(ڑے) ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے برج میں شیرنی آگئی ہے۔
  • تیسری توجیہ کے مطابق کھڑی دراصل کھری ہے۔ کھری بولی یعنی صاف ستھری فصیح۔

اردو اور ہندی دونوں کھڑی بولی کے دو ادبی روپ ہیں۔ اردو کھڑی بولی کا وہ روپ ہے جس میں سنسکرت تت سم الفاظ نہ ہونے کے برابر ہیں اور عربی و فارسی کے الفاظ زیادہ ہیں۔

Mock test 22

کھڑی بولی کے اوصاف 1
Advertisement

Advertisement

Advertisement