سوال ۲ : رشید احمد صدیقی نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اسے اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

تعارفِ سبق : سبق ” مولانا محمد علی جوہر “ کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی “ ہے۔ یہ سبق کے آپ کی کتاب ”گنجہائے گرانمایہ“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

تعارفِ مصنف

رشید احمد صدیقی ایک اچھے استاد محقق اور ناقد بھی تھے مگر ان کی اصل وجہ شہرت طنز و مزاح کے میدان میں ان کی جولانی طبع کی بدولت مستحکم ہوتی ہے۔ رشید صاحب کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی طبعیت میں غور و فکر ہے۔ رشید احمد صاحب نے طنز و ظرافت کا پیرایہ اختیار کیا اور نصف صدی تک اس میدان کے نمایاں شہ سوار بنے رہے، مگر ان کے مطالعے میں ایک ایسی منزل بھی ہے جب وہ اپنے دور کے بعض ادبی میلانات اور ان کی اہمیت یا عدم اہمیت کے بارے میں قطعی فیصلہ بھی صادر کرتے ہیں، اس مقام پر ان کی شخصیت کا جو پہلو بہت نمایاں معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ رشید صاحب اپنی لطیف الطبعی کے باوصف بے حد سنجیدہ بھی تھے۔

خلاصہ

”ولادت و مادر زاد ہوتی ہے لیکن
محمد علی کی موت خانہ زاد تھی۔“


اس سبق میں مصنف دراصل یہ بتا رہے ہیں کہ ہر انسان کو پیدا اس کی ماں کرتی ہے اور ہر بچہ اپنے والدین کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت اتنی منفرد تھی کہ ان کی موت بھی انہوں نے خود چُنی تھی اور ان کی موت سے یوں لگا تھا جیسے پورا خاندان کی موت ہوگئی ہو۔ اور یہی بات انھیں منفرد بناتی تھی۔

مصنف کہتے ہیں کہ مولانا محمد علی جوہر قدرت کا ایک ایسا نمونہ تھے جسے ہم قدرت کا آرٹ کہہ سکتے ہیں۔ وہ منفرد تھے اور ہر بات میں اپنے آپ کو صحیح گردانتے تھے۔ وہ ہمیشہ ہر کام میں اگے اگے نظر آتے تھے۔

مصنف مولانا جوہر کے منفرد ہونے کی حد کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کی موت کے بعد ہر نشیب فراز میں بدل گیا تھا اور فراز اور زیادہ اونچا ہوگیا تھا۔ یعنی آپ کی موت نے انسانوں کو بہت سا فائدہ دیا۔

مصنف لکھتے ہیں کہ محمد علی نے ہمارے خون کی رگوں میں دوڑنا پھرنا ہی نہیں بتایا بلکہ وہ آج خود ہماری آنکھوں سے خون بن کر ٹپک رہے ہیں۔

یہاں مصنف مولانا جوہر کے کارنامے بیان کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولانا نے مسلمانوں کے لہو کو گرمایا اور ان ہی کی ہمت دلانے کی وجہ سے مسلمانوں کا لہو آنکھوں سے ٹپکنا شروع ہوا اور وہ اتنے باہمت بنے کہ اپنا ملک حاص کرسکیں۔

وہ کہتے ہیں مولانا ہر ماں کی آغوش کا چاند تھے ، آپ ہر نوجوان کی ہمت تھے اور ہر عزیز شخص کی راحت کا ساماں کرتے تھے۔ آپ ہر کسی کو اس کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرتے تھے۔ مصنف کہتے ہیں کہ جب مولانا تقریر کرتے تھے تو یوں لگتا تھا کہ ابوالہول کی آواز مصر کے اہرام سے ٹکرا رہی ہے۔ وہ لکھتے بھی اتنا جاندار تھے کہ پڑھنے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے تھے اور جب وہ سوچتے تو لگتا تھا کہ اتنا منفرد ہے جتنا شاہجہاں کا محل منفرد تھا۔

مصنف کہتے ہیں کہ مولانا صاحب قناعت پسند تھے۔ آپ کو اتنا امیر کردیا جاتا کہ آپ کے پاس سریر سلیماں ہوتی یا آپ کی غربت کا یہ عالم ہوتا کہ آپ کے پاس بوریائے بوذر ہوتی آپ کے لیے یہ دونوں حالتیں یکساں تھیں اور آپ کو اس سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس لیے موت بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔

سوال ۱ : مندرجہ ذیل عبارات کی وضاحت کیجیے۔

(الف) ولادت و مادر زاد ہوتی ہے لیکن محمد علی کی موت خانہ زاد تھی۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے میں مصنف دراصل یہ بتا رہے ہیں کہ ہر انسان کو پیدا اس کی ماں کرتی ہے اور ہر بچہ اپنے والدین کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت اتنی منفرد تھی کہ ان کی موت بھی انہوں نے خود چُنی تھی اور ان کی موت سے یوں لگا تھا جیسے پورا خاندان کی موت ہوگئی ہو۔ اور یہی بات انھیں منفرد بناتی تھی۔

(ب) شخصیت کی اسی جلوہ گری کا نام آرٹ ہے۔۔۔صحیح اور گراں مایہ۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے میں مصنف کہتے ہیں کہ مولانا محمد علی جوہر قدرت کا ایک ایسا نمونہ تھے جسے ہم قدرت کا آرٹ کہہ سکتے ہیں۔ وہ منفرد تھے اور ہر بات میں اپنے آپ کو صحیح گردانتے تھے۔ وہ ہمیشہ ہر کام میں اگے اگے نظر آتے تھے۔

(ج) ان کی موت نے ہر نشیب کو فراز اور ہر فراز کو پرشوکت بنادیا۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے میں مصنف مولانا جوہر کے منفرد ہونے کی حد کو بتارہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کی موت کے بعد ہر نشیب فراز میں بدل گیا تھا اور فراز اور زیادہ اونچا ہوگیا تھا۔ یعنی آپ کی موت نے انسانوں کو بہت سا فائدہ دیا۔

(د) محمد علی نے ہمارے خون کی رگوں میں دوڑنا پھرنا ہی نہیں بتایا بلکہ وہ آج خود ہماری آنکھوں سے خون بن کر ٹپک رہے ہیں۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے میں مصنف مولانا جوہر کے کارنامے بیان کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولانا نے مسلمانوں کے لہو کو گرمایا اور ان ہی کی ہمت دلانے کی وجہ سے مسلمانوں کا لہو آنکھوں سے ٹپکنا شروع ہوا اور وہ اتنے باہمت بنے کہ اپنا ملک حاص کرسکیں۔

(ہ) وہ آغوش مادر، ہازوئے برادر اور راحت عزیزاں تھے۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے سے مصنف کی مراد یہ ہے کہ مولانا ہر ماں کی آغوش کا چاند تھے ، آپ ہر نوجوان کی ہمت تھے اور ہر عزیز شخص کی راحت کا ساماں کرتے تھے۔ آپ ہر کسی کو اس کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرتے تھے۔

(د)بولتے تو معلوم ہوتا ابوالہول کی آواز اہرام مصر سے ٹکرارہی ہے۔ لکھتے تو معلوم ہوتا کرپ کے کار خانے میں توپیں چل رہی ہیں یا پھر شاہجہاں کے ذہن میں تاج کا نقشہ مرتب ہو رہا ہے۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے میں مصنف کہتے ہیں کہ جب مولانا تقریر کرتے تھے تو یوں لگتا تھا کہ ابوالہول کی آواز مصر کے اہرام سے ٹکرا رہی ہے۔ وہ لکھتے بھی اتنا جاندار تھے کہ پڑھنے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے تھے اور جب وہ سوچتے تو لگتا تھا کہ اتنا منفرد ہے جتنا شاہجہاں کا محل منفرد تھا۔

(ز) بوریائے بوذر اور سریر سلیمان کو یکساں سمجھنے والے کی موت آخر کیا شہادت دیتی۔

حوالہ سبق : یہ اقتباس ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ” مولانا محمد علی“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”رشید احمد صدیقی“ ہے۔

وضاحت : اس جملے میں مصنف کہتے ہیں کہ مولانا صاحب قناعت پسند تھے۔ آپ کو اتنا امیر کردیا جاتا کہ آپ کے پاس سریر سلیماں ہوتی یا آپ کی غربت کا یہ عالم ہوتا کہ آپ کے پاس بوریائے بوذر ہوتی آپ کے لیے یہ دونوں حالتیں یکساں تھیں اور آپ کو اس سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس لیے موت بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔

سوال ۳ : "اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد” اس عنوان سے ایک مضمون لکھیے۔

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد :

جو دین محمد عربی ﷺ نے امت تک پہنچانے کی زمہ داری پوری کی وہ دین چند دہائیوں بعد یکسر بدل گیا۔ لوگ کم تولنے لگے، منافقت کرنے لگے، وعدوں کی پاسداری ہرگز نہ کرتے تھے۔ لوگوں میں قتل و غارت طول پکڑتی جارہی تھی۔ تب حاکم وقت کے سامنے نوسہ رسول ﷺ نے حق گوئی کا اعلان کیا۔ یہ فقط اس بات کا ثبوت تھا کہ میرے نانا کا دین یوں نہیں جو اس وقت اقتدار میں ہے۔ ظالم جابر حکمران نے رعایا پر ہر قسم کا جبر کیا تو بلآخر حسین ابن علی علیہ سلام نے دعوت حق کے لیے میدان میں علم بلند کیا۔ وہ حق کے لیے کھڑے ہوئے اور حق کے لیے ہی جان بھی دے دی۔

انھوں نے ناصرف اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا بلکہ اپنے کنبے و ہم خیال لوگوں کو بھی حق کے لیے صف اول میں لاکھڑا کیا۔ ان کی بے دردی سے شہادتیں آج تک ہمیں ان کی قربانی کو یاد دلاتی ہیں، جو انھوں نے دین کی خاطر دیں۔ تمام لوگ دین کی بےحرمتی پر خاموش تھے، مگر نواسہ رسول ﷺ نے جان دے کر دین کے اصل معنی واضح کر دیئے۔ ہم آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں اور ان کے شکرگزار ہیں کہ ان کی وجہ سے ہم دین کی اصل پہچان کر سکتے ہیں۔ ہر کربلا کے بعد دین زندہ ہوتا ہے جو کہ حسین علیہ سلام اور ان کے قافلے کی دین ہیں۔ اور اس وقت کا حکمران جو چاہتا تھا اسے یاد رکھا جائے اور جو خدائی دعوی کرتا تھا وہ اسی وقت بےموت مارا گیا جب کہ حسین علیہ سلام اور ان کا قافلہ آج تک زندہ ہے اور انھیں آج تک یاد کیا جاتا ہے اور ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔

سوال ۵ : ایسے پانچ جملے لکھیے جن میں فاعل کے ساتھ تو حرف استعمال کیا گیا ہو لیکن مفعول کے ساتھ کوئی حرف نہ ہو۔

۱) لڑکی کو پیسے دئیے گئے۔
۲) لڑکیوں کو کھانا دیا گیا۔
۳) لڑکوں کو کھیل کھلایا گیا۔
۴) پرندے کو پانی دیا گیا۔
۵) جانوروں کو مارنے سے منع کیا گیا۔

سوال ٦ : آپ "کیوں کہ” کو حرف علت کے طور پر تین جملوں میں استعمال کیجیے۔

۱) خاموش رہا کرو کیوں کہ خاموشی عبادت ہے۔
۲) دوسروں کی مدد کیا کرو کیوں کہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔
۳) صبح سویرے اٹھا کرو کیوں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں رزق بانٹتے ہیں۔