پنڈت برج نارائن چکبست

پنڈت برج نارائن چکبست ایک ایسے معروف شاعر گزرے ہیں جن کا نام اردو کے شیدائی آج بھی انتہائی گرم جوشی سے لیتے ہیں۔ ان کے والد پنڈت اُدت نارائن شیوپُری چکبست بھی مشہور شاعر تھے۔ برج نارائن چکبست کی پیدائش 1882 میں فیض آباد کے ایک کشمیری پنڈت خاندان میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم فیض آباد میں ہی ہوئی۔ بعدازاں چکبست خاندان وہاں سے ہجرت کرکے لکھنؤ کے ایک کشمیری محلے میں رہائش پزیر ہوا۔ چکبست نے لکھنؤ کو ہی اپنی اصل کرم بھومی بنالیا۔

چکبست نے اپنی بی۔ اے کی ڈگری 1905 میں اور ایل- ایل- بی کی ڈگری 1908 میں حاصل کی اور وکالت شروع کردی۔ انھوں نے ۹ سال کی عمر سے ہی شاعری کی شروعات کی۔ عام طور پر ان کی شاعری لکھنے کا انداز بے حد سادہ، مختصر، دلچسپ اور پُر معنی ہوتا تھا۔ وہ اپنی شاعری میں آسان زبان کے استعمال سے زندگی کی پیچیدگیوں کو مختصر جملوں اور سادہ الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ ان کی نظموں میں حب الوطنی کا عکس جھلکتا ہے۔

ہے آج کل کی ہوا میں وفا کی بربادی
سنے جو کوئی تو سارا چمن ہے فریادای

چکبست نہایت حساس اور جذباتی مزاج کے شاعر تھے۔ انھوں نے اپنے کلام کی ابتدا غزل گوئی سے کی۔ بعد ازاں قومی، سیاسی اور سماجی نظمیں لکھنے لگے۔ ان کی نظموں کے مجموعہ کو "صبح وطن” کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے "کلیاتِ چکبست، مضامینِ چکبست، جنت کی ڈاک (خطوط)، کملا (ڈرامہ)، چکبست اور باقیات چکبست اور مقالاتِ چکبست” بھی تصنیف کی۔ چکبست نے رامائن کی کہانی کا اردو ترجمہ اس دور میں تصنیف کیا جب اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان مانا جاتا تھا۔ انھوں نے متعدد اردو جرنل میں سماجی برابری پر مختلف مضامین لکھے جسے لوگوں نے بہت سراہا۔ تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی مناظر نے ان کی شخصیت پر گہرے چھاپ چھوڑے۔ انھوں نے سماجی اصطلاحات کی ذمہ داری ان دنوں لی جب ان کی اپنی برادری کے لوگ بہت کڑے سماجی قواعد و روایات پر قائم تھے۔

جس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہے
عشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہے

1872 میں شری شیو نارائن باہر نے ایک مذہبی جرنل مرسلہِ کشمیر جاری کیا، ان کا مقصد اپنی موثر تحریروں سے ہندوں برادری میں سماجی بیداری پیدا کرنا تھا۔ شری باہر کی وفات کے بعد چکبست اس تحریک کے اہم معمار بنے۔ انھوں نے کشمیری محلہ میں کتب خانہ تعمیر کیا جس میں اردو اور فارسی کی نایاب کتابیں اور دستاویز خصوصی طور پر کشمیری نوجوانوں کے لیے دستیاب تھی۔ ان کا مقصد نوجوانوں کی رہنمائی کرنا تھا کہ کس طرح وہ بہتر ہندوستانی بن سکے۔ چکبست کشمیری محلہ میں سالانہ آل انڈیا مشاعرہ منعقد کرتے تھے جس میں اردو کے تمام مشہور و معروف شاعروں کو مدعو کیا جاتا تھا۔

چکبست ہی غالباً ایک ایسے شاعر گزرے ہے جن کا کوئی تخلص نہیں ہے۔ فروری 1926 میں ایک مقدمہ سے لوٹتے وقت رائے بریلی ریلوے اسٹیشن پر انھیں فالج کا دورہ پڑنے پر ان کا انتقال ہو گیا۔ چکبست کی ناگہانی موت اردو ادب کے لیے ایک عظیم نقصان تھا لیکن ان کے کلام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

دردِ دل پاسِ وفا، جذبہِ ایمان ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انسان ہونا

written by

Tehreem Shaikh

Close