پیدائش

اشفاق احمد ۲۲ اگست ۱۹۲۵ءکو ہندوستان کے صوبے اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں غازی آباد میں حاصل کی۔ تقسیم کے بعد ہجرت کرکے لاہور آئے۔

تعلیم

گورنمٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد ریڈیو آزاد کشمیر سے منسلک ہوگئے۔ اس کے بعد اشفاق احمد نے دیال سنگھ کالج لاہور میں بحیثیت لیکچرر ملازمت اختیارکی۔ دو سال بعد آپ روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ وطن واپسی کے بعد آپ نے ادبی مجلہ "داستان گو” جاری کیا جو اردو کے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فن اور ادب کی خدمت کرتے ہوئے کچھ ہی عرصے میں آپ مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔

ابتدائی زندگی

قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمد اپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے کے بعد اشفاق احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور کے ”شعبہ اردو “ میں داخلہ لیا۔ جہاں کل چھ طلباء و طالبات زیرِ تعلیم تھے۔ کتابیں بھی انگریزی میں تھیں، جبکہ اپنے وقت کے معروف اساتذہ پروفیسر سراج الدین، خواجہ منظور حسین ، آفتاب احمد اور فارسی کے استاد مقبول بیگ بدخشانی گورنمنٹ کالج سے وابستہ تھے اور یہ سب اشفاق احمد کے استاد رہے۔

ازدواجی زندگی

جن دنوں اشفاق احمد گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم-اے اردو کے طالب علم تھے۔ بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھیں۔ ذہنی ہم آہنگی دونوں کو اس قدر قریب لے آئی کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ بانو قدسیہ فیروز وپور مشرقی پنجاب ( بھارت ) میں ۲۸ نومبر ۱۹۲۸ء میں پیداء ہوئیں۔ بچپن اور لڑکپن وہیں گزارا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے لاہور میں آکر قیام کیا۔

منفردیت

”سفر درسفر “ اشفاق احمد کا پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحت کا سفر نامہ ہے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ کچھ ادیب اور شاعر دوست بھی ان کے ہمسفر تھے۔ جن میں مسعود قریشی اور ممتاز مفتی کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔”یہ سفر نامہ بھی ہے اور وطن پاک کے شمالی علاقہ جات کے حسین مناظر پر لکھا گیا رپورتاژ بھی ہے۔“

”سفر در سفر “ میں اشفاق احمد کی حسن ظرافت طنز کے کٹیلے نشتروں کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ جب اس کی کسی بات پر پڑھنے والا قہقہہ لگاتا ہے تو دوسرے ہی لمحے اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ہنس رہا ہے۔

کچھ عرصہ اشفاق احمد پاکستان ٹیلی وژن پر ’’زاویہ‘‘ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے، زوایہ کتاب کی تین جلدیں ہیں۔

ادبی خدمات و تصانیف

اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیامِ پاکستان کے فوراََ بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔ ۱۹۵۳ء میں ان کا افسانہ ”گڈریا” ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کیا جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔

”ایک محبت سو افسانے” اور ”اجلے پھول” ان کے ابتدائی افسانوں کا مجموعہ ہیں۔ بعد میں ”سفر در سفر (سفرنامہ)، ایک محبت سو افسانے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز)” ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔
۱۹۶۵ء سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور ذومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔ آپ کی چند تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :

  • ایک زخم اور سہی
  • کھٹیا وٹیا
  • مہمان بہار
  • پھلکاری
  • وہ آدمی
  • پنجاب کا ڈوپٹہ
  • امی
  • ترقی کا ابلیسی ناچ
  • بابا کی تعریف

انہیں ادب کی دنیا میں جو مقام نصیب ہوا وہ ادبی افق پر کم ہی ادیبوں کو نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اپنے فرضی انتقال کا احوال اور آنے والوں کے احساسات کا حال لکھا اور پھر ۷ ستمبر ۲۰۰۴ کو آپ کے انتقال کے بعد چاہنے والوں نے دیکھا اور آج بھی اہل فہم و فراست اشفاق احمد کو یاد کرتے ہیں کیونکہ ادیب تو مرجاتا ہے مگر اس کی تحریر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔