تعارف

سریندر پرکاش ۱۹۳۰ء میں لائیل پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔وہ ممبئی انڈیا کے رہائش پذیر تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی گھر پر حاصل کی۔سریندر پرکاش نے باقاعدہ تعلیم کہیں سے بھی حاصل نہیں کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ساڑھے تین برس کی عمر میں لائل پور کے ایک سکول میں داخلہ لیا لیکن پہلے روز ہی ماسٹر نے ایک ایسا تھپڑ مار ڈالا کہ پھر کبھی اسکول کا رخ نہ کیا۔بعد میں میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ تاجور سامری کی تحریک سے 1945ء میں شروع کیا اور اپنا قلمی نام سریند وشٹ رکھا۔

افسانہ نگاری

سریندر پرکاش اردو افسانہ نگاروں میں ایک منفرد شخصیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے ملک کی تقسیم کا درد محسوس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں ملک کے بٹوارے کا کرب اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کی منظر کشی ملتی ہے۔ جب سریندر پرکاش اپنے افسانے تخلیق کر رہے تھے تب ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس کے اثرات افسانوں پر بھی پڑ رہے تھے لیکن انھوں نے اپنے لئے ایک نئی راہ منتخب کی اور نئی طرزِ تحریر کو اختیار کیا۔

ہم عصر افسانہ نگار

ان کے ہم عصروں میں انتظار حسین، بلراج کومل، کمار پاشی، بلراج مینرا، انور سجاد، رشید امجد، شفق اور شوکت حیات کا شمار ہوتا ہے۔ لیکن ان کا فن ِتخلیق ان کو سب قلم کاروں کی محفل میں منفرد مقام دلاتا ہے۔

تکنیک

سریندر پرکاش اپنے افسانے عقل اور منطقی مطالبات کے تقاضوں کے تحت پیش کرتے ہیں۔ انہیں علامتوں کو استعمال کرنے کا ہنر بہت اچھی طرح آتا ہے۔ ان کے افسانوں میں ڈرامائی انداز کے ساتھ ساتھ جذبات اور نفسیات کی ایک دنیا آباد رہتی ہے۔ ان کے افسانوں میں جیتی جاگتی دنیا کے کردار نظر آتے ہیں۔ انھوں نے خالص ہندوستانی آب و ہوا میں اپنے افسانوں کا محل تعمیر کیا ہے۔ اس کی مثال میں ہم ان کا افسانہ ’بجوکا‘ پیش کر سکتے ہیں جو خالصتاً ہندوستانی معاشرے کی آب و ہوا میں سانس لیتا نظر آتا ہے۔

اس پر مزید کمال یہ کہ مصنف نے اس کو علامتی پیکر میں پیش کر کے اس کی وسعتوں کو بے کنار کردیا ہے۔ یہ ہر اس عہد اور ہر اس مقام کے ماحول پر صادق اترتا ہے جہاں پر عوام اور حکومتوں کا نظام قائم ہے اور جو عوام کا استحصال کرنے پر آمادہ ہیں۔

کردار نگاری

انھوں نے اپنے افسانے "بجوکا” کا کردار ’ہوری‘ پریم چند کے افسانے سے ادھار لیا ہے۔ کہانی کا تانا بانا اسی کردار کے چاروں طرف بنا گیا ہے۔ اس افسانے میں ہوری ایک ہندوستانی کسان کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اس کے کھیتوں میں فصل تیار کھڑی ہے۔ اس کو اس بات کی خوشی ہے کہ اس کی فصل اب صرف اس کی ہے، اس پر کسی ظالم و جابر حکومت کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ اب ملک آزاد ہو چکا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے کھیت پر فصل کاٹنے جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کوئی اس کی فصل کاٹ رہا ہے۔ یہ کوئی اور نہیں اس کے ذریعہ بنایا ہوا  ’بجوکا‘ ہے۔ جس کو کھیتوں کی حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔

انھیں پریم چند کی طرح ہندوستانی گاؤں کی مکمل تصویرکشی کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔اپنے اس افسانے میں انھوں نے’ ہوری‘ کو کردار بنا کر ہندوستانی دیہاتوں میں رہ رہی مفلس اور مجبور عوام کی سچی منظر نگاری کی ہے کہ کسان کس طرح محنت اور مشقت کے باوجود بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے یا اسے معمولی معمولی چیزیں جن سے زندگی کا کاروبار چلنے میں آسانی ہوتی ہے، ان کو حاصل کرنے میں کس دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کیسے وہ بنیادی حقوق کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔

افسانوی مجموعے

سریندر پرکاش کے چار افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔

  • دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم (۱۹۶۸)
  • برف پر مکالمہ (۱۹۸۱ء)
  • بازگوئی (۱۹۸۸)
  • حاضر حال جاری (٢٠٠٢)

ان کے علاوہ درجن بھر افسانے مختلف رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔ سریندر پرکاش جدید افسانہ نگاروں میں اس اعتبار سے منفرد و ممتاز ہیں کہ انھیں اپنے میڈیم پر فنکارانہ دسترس حاصل ہے۔ وہ الفاظ کو روایتی تلازمات سے آزاد کر کے استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جدید انسان کی ذہنی و جذباتی کیفیات کی ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو دوسروں سے نمایاں طور پر منفرد ہوتی ہے۔

وہ تجرید اور اسطور دونوں کو فنکارانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ قدیم ہندو دیومالائی اساطیر اور اسلامی اساطیر سے کام لیتے ہیں اور خود اساطیر خلق بھی کرتے ہیں اور ان کے پرسے میں صنعتی دور کے تھکے ہوئے اور ستائے ہوئے انسان کے روحانی کھوکھلے پن ، ذہنی پراگندگی، رشتوں کی شکست و ریخت، اقدار کی پامالی، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفاق اور تشدد نیز سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں انسانی ذہن پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی فنکارانہ انداز میں کرتے ہیں۔

ان کے یہاں موضوع سے زیادہ اس کی پیشکش پر زور ملتا ہے اور وہ موضوع کی پیشکش کے لیے مختلف فنی تدابیر اختیار کرتے ہیں جس کے سبب ان کی کہانیاں ایک دوسرے کی فوٹو اسٹیٹ کاپی نہیں معلوم ہوتیں، جیسا کہ بعض جدید افسانہ نگاروں کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں ایک پراسرار ، خوابناک، مبہم اور انجانی دنیا خلق کرتے ہیں جن میں کردار پرچھائیاں نما معلوم ہوتے ہیں۔ ان کرداروں کی شناخت ان کے ظاہری اعمال اور ان کے ناموں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی باطنی صورتِ حال سے ہوتی ہے۔

مجموعہ ’’ برف پر مکالمہ‘‘ میں گیارہ افسانے ہیں۔ اس مجموعے کے افسانوں میں دیومالائی عناصر کار فرما نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھیں انتظار حسین سے مدد ملی۔

مختصر یہ کہ سریندر پرکاش کا شمار اردو کے ممتاز علامتی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے یہاں موضوعات ، اسالیب اور تکنیک میں تنوع پایا جاتا ہے۔ زبان و بیان پر غیر معمولی قدرت داستانی فضا کی تعمیر میں چابکدستی ، بظاہر غیر متعلق اور غیر اہم واقعات کو نزاکت و لطافت سے جوڑنے اور تجریدی علامتی رنگ و آہنگ تیار کرنے کی بے پناہ صلاحیت نے ان کے افسانوں کو انفرادیت کا حامل بنا دیا ہے۔
سریندر پرکاش کا انتقال ۲۰۰۲ کو ممبئی میں ہوا۔