تعارف

غلام الثقلین نقوی ۱۲ مارچ، ۱۹۲۲ء کو چوکی ہنڈن، نوشہرہ، ریاست جموں کشمیر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید امیر علی شاہ سری نگر میں معلم تھے۔ ان کے مزید ۶ بہن بھائی تھے جن میں ۲ بہنیں اور ۴ بھائی شامل تھے۔ ان کی کم عمری میں شادی کروادی گئی اور شادی کے بعد انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ ان کے ۴ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان کے تحریری دور میں ان کے سب سے اچھے دوست اور نقاد ان کے چھوٹے بھائی سجاد حسین نقوی تھے ، جو مصنف اور نقاد بھی تھے۔ غلام ثقلین نقوی پاکستانی اردو مصنف تھے۔ جو اپنے افسانوں کے سبب مشہور ہیں۔ ان کے کام نے دیہی زندگی کی تصویر کشی کی ، وہ ہندوستان کے ایک سید خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ادبی زندگی

نقوی نے پاکستان کے معروف اداروں سے تعلیم حاصل کی ، انہیں لکھنے کا شوق تھا۔ انہوں نے اپنی پہلی مختصر کہانی "افسانہ” دس سال کی عمر میں لکھی۔ ان کا مختصر مضمون دسویں جماعت کی اردو کتاب کے نصاب میں شامل ہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں بہت سے مضامین اور کالم لکھے ، ان کا کام پی ٹی وی پر ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔

انہوں نے مرے کالج سیالکوٹ سے گریجویشن، سینٹرل کالج لاہور سے بی ٹی کی ڈگریاں حاصل کیں اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ نومبر ۱۹۶۸ء سے اپنی سبکدوشی تک وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے منسلک رہے۔
غلام الثقلین نقوی نے بیک وقت افسانہ، سفرنامہ، مضامین اور ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی لیکن وہ افسانہ نگاری کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوئے۔ وہ حلقہ احباب ذوق سے وابستگی رکھتے تھے۔

تصانیف

  • ان کی تصانیف میں افسانوں کے مجموعے بند گلی، شفق کے سائے، سرگوشی، نقطے سے نقطے تک وغیرہ شامل ہیں۔
  • مضامین کا مجموعہ "اک طرفہ تماشا” کے نام سے موجود ہے۔
  • ناول بکھری راہیں اور میرا گاؤں قابلِ ذکر ہیں۔
  • ناولٹ چاند پور کی نینا ، شیر زمان اور شیرا سرِ فہرست ہیں۔
  • سفر نامے میں چل بابا اگلے شہر، ارضِ تمنا، مکہ و مدینہ کے نام سرفہرست ہیں۔

ناول نگاری

غلام ثقلین نقوی کا ناول ”میرا گاؤں “ فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ مصنف نے دیہات کو مرکز بنا کر اُس کے ذریعے پاکستانی معاشرے کی عکاسی کی کوشش کی ہے۔ ناول میں غربت، غریبوں کا استحصال اور اور خاص کر ان کی بگڑتی ہوئی زندگی کو اجاگر کیا گیا ہے۔

مضمون نگاری

ان کا ایک مضمون "ایک طرفہ تماشا” مشہور ہے۔ دیہی زندگی کی تصویر کشی کے مصنفین میں پریم چند ، عبد اللہ حسین ، احمد ندیم قاسمی ، قرت العین حیدر ، جمیلہ ہاشمی ، قاضی عبد الستار ، بلونت سنگھ ، غلام اس ثقلین نقوی اور کچھ دوسرے شامل ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب بڑی حد تک تحریروں کے شہرت پر زندہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر لکھنے والوں کا تعلق چھوٹے یا بڑے شہروں سے ہے اور ان کے موضوعات تعلیم یافتہ متوسط ​​طبقے کے بارے میں یا زیادہ سے زیادہ ، شہروں میں رہنے والے نچلے طبقے اور شہری معاشرے کے پچھواڑے پر ہی ہونا چاہئے۔ ان کے پاس لکھنے کے لئے دیہی زندگی کا عملی طور پر کوئی تجربہ نہیں ہے۔

وفات

غلام الثقلین نقوی ۶ اپریل، ۲۰۰۲ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ موضع بھڑتھ، ضلع سیالکوٹ، پاکستان میں سپردِ خاک ہوئے۔