• باب سوم: مختصر افسانہ
  • سبق کا نام: لمحے
  • صنف: مختصر افسانہ
  • مصنف کا نام:بلونت سنگھ

تعارف مصنف:

بلونت سنگھ 1920 سے 1921 کے دوران ضلع گوجرانولہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے جبکہ میٹرک دوہرہ دون کے کیمبرج سکول سے پاس کیا۔کرسچین کالج الہ آباد سے انٹر اور الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد تلاش روزگار کے لیے کراچی اور لاہور بھی گئے۔

دہلی میں رسالہ "آج کل” کے نائب مدیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جبکہ الہ آباد سے ہی اردو میں ” فسانہ” اور ہندی میں "اردو ساہیتہ ” رسائل جاری کیے۔ بلونت سنگھ نے کئی طویل اور مختصر ناول بھی تحریر کیے۔ "رات چور اور چاند” اور ” چک پیراں کا جسا” ایسے ناول ہیں جو پہلے اردو زبان میں شائع ہوئے۔جبکہ ناگری رسم الخط میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں اور ناولوں کی تعداد تیس کے لگ بھگ ہے۔

Advertisement

ان کا پہلا افسانہ”سزا”1937 میں رسالہ ساقی میں شائع ہوا۔ "جگا” ،” تارو پود”،”ہندوستان ہمارا”، ” پہلا پتھر”،”بلونت سنگھ کے افسانے” اور "سنھرا دیس” ان کے اہم افسانوی مجموعوں میں شامل ہیں۔ بلونت سنگھ کے افسانوں میں دیہی کرداروں اور زندگی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے ۔

سوالات

سوال نمبر 1:اس افسانے کا عنوان لمحے کیوں رکھا گیا ہے؟

افسانے کا عنوان لمحے اس لیے رکھا گیا ہے کہ افسانوی کرداروں کی زندگی پر کہیں نہ کہیں ان لمحوں کے اثرات موجود ہیں جن کا سبب تقسیم کی صورت میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات تھے۔ ایک وہ لمحہ تھا جب یہ ظلم و ستم لوگوں پر بیت رہا تھا اور ایک یہ لمحہ ہے جب افسانے کے کردار ” اماکانت” پر ان لمحات کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔

سوال نمبر2:بس کے مسافروں کے بارے میں افسانہ نگار نے جو تفصیل پیش کی ہے اسے اپنے لفظوں میں بیان کیجئے۔

افسانہ نگار کے مطابق سردی کا موسم ہونے جی وجہ سے بس میں اکا دکا مسافر ہی موجود تھے۔بس میں موجود مسافرا یک دوسرے سے پرے پرے بیٹھے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔افسانہ نگار نے بس میں موجود مسافروں کا جائزہ لیا۔بس میں کل تین لڑکیاں اور دو عورتیں موجود تھیں۔لڑکیاں گوری اور دودو چوٹیاں کیے ہوئے تھیں۔ان کی آنکھیں درمیانی اور باتیں میٹھی پھیکی تھیں۔دو عورتوں میں سے ایک عورت دیکھنے میں آیا معلوم ہوتی تھی جبکہ دوسری عورت دو بچوں کے ساتھ موجود تھی۔بچوں کے ساتھ موجود عورت نہایت حسین تھی۔

سوال نمبر 3:اس افسانے کا مرکزی خیال کیا ہے؟

افسانے لمحے کا مرکزی خیال انسانیت کا دکھ سمیٹے ہوئے کہانی ہے۔کہانی کے مرکزی کردار میں موجودعورت جو دیکھنے میں نہایت حسین مگر اس کی ٹانگ میں لنگڑا پن ہے جو قدرتی نہیں بلکہ تقسیم کی صورت میں ہونے والے فسادات کی دین ہے۔اس عورت کی کہانی میں موجود یہ کمی یا خامی افسانہ نگار کو گہرے دکھ میں مبتلا کرتی ہےاور یہ دکھ محض اس عورت کا نہیں بلکہ ان فسادات میں انسانیت پر ہوئے اسی طرح کے کئی مظالم کا دکھ بھی ہے۔یہ ہی اس افسانے کا مرکزی خیال بھی ہے۔

عملی کام۔

سوال: اس افسانے میں جس واقعے کو بیان کیا گیا ہے اسے اپنے لفظوں میں لکھیے۔

افسانے لمحے کی کہانی ایک کردار اماکانت کے گرد گھومتی ہے۔جو کام کاج اور گھر کے ہر طرح کے جھنجھٹوں سے آزاد ایک اکیلا مرد ہے۔پیر کے روز اماکانت اپنے گھر سے دوستوں کو ملنے کے لیے روانہ ہوتا ہے۔بس اسٹینڈ پر پہنچنے کے بعد وہ کناٹ پیلس جانے والی ایک تیار کھڑی بس میں سوار ہوجاتا ہے۔سوار ہونے کے بعد وہ سب سے پہلے بس میں موجود سواریوں کا جائزہ لیتا ہے۔

بس میں چند مسافر موجود ہوتے ہیں جن میں کچھ مرد ،تین لڑکیاں اور دو عورتیں تھیں۔اماکانت لڑکیوں کا جائزہ لینے کے بعدعورتوں کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ایک عورت اسے شکل سے آیا جب کہ دوسری دو بچوں کی ماں معلوم ہوتی ہے۔دوسری عورت کے ساتھ اس کا ایک بیٹا اور بیٹی موجود تھے۔کوئی حسین چہرہ نہ پاکر پہلے پہل تو اما کانت مایوس ہوتا ہے اور دو بچوں کی ماں کو بھی بہن سمان ماننے لگتا ہے۔

مگر کچھ دیر بعد جب اس کی نظر دو بچو ں کی ماں پر پڑتی ہے تو وہ اس کا بے پناہ حسن دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور دل ہی دل میں اس سے بات کرنےکے بہانے تلاشنے لگ جا تا ہے۔دفعتا وہ اس عورت سے گفتگو کے آغاز کاسرا تلاش لیتا ہے ۔عورت کو اپنی جانب متوجہ کرنے کےلیے اس کے کندھے پر موجود بچے کو پیار کرنے لگ جاتا ہے۔پھر یکدم بچے کے کان کے پاس داد کی بیماری کے نشان پا کر اس سے بات کرتا ہے جوابا عورت بھی اس سے گفتگو کرنے لگ جاتی ہے۔

عورت اماکانت سے اس کی شادی اور کاروبار وغیرہ کے مطلق جرح کرتی ہے۔ جن کا جواب دینے کے بعد اماکانت عورت کی بچی کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔بچی کا نام پوچھنے پر جب اما کانت کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت مسلمان ہے تو وہ اس سے اس بات کی تصدیق چاہتا ہے ۔پھر یہ معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ فسادات کے دنوں میں دہلی میں موجود تھی کہ نہیں۔جوابا عورت اس کو فسادات کے دوران دہلی میں اپنی موجودگی اور ہونے والے نقصان سے آگاہ کرتی ہے۔اتنے میں بس اسٹینڈ آجاتا ہے۔

اماکانت عورت کی مدد کرنا چاہتا ہے مگر عورت اپنے بچوں کو لے کر خود ہی بس سے اتر آتی ہے۔لیکن کچھ دیر بعد اماکانت جب پلٹ کر اس عورت کو دیکھتا ہے تو اس کی ٹا نگ میں موجود لنگڑاہٹ اس کو حیران کر دیتی ہے۔وہ سوچتا ہے کہ یہ نقص نہ ہوتا تو اس عورت کا حسن یقیناً آگ لگا دینے کے قابل تھا۔

مگر جب وہ اس کے نقص کی وجہ جانتا ہے کہ وہ نقص قدرتی نہیں بلکہ فسادات کی ہی دین ہے تو اماکانت ایک گہرے دکھ سے دوچار ہوجاتا ہے۔اور تصور ہی تصور میں اس عورت کے قدموں میں سر رکھ کر اپنی قوم کی طرف سے کی جانے والی خطاکی معافی مانگنے لگتا ہے۔یوں کہانی کا اختتام ایک دوسرے سے دور ہوتے اور دونوں کرداروں کی ایک دوسرے کی قوم کو معاف کردینے والی شکر گزار نظروں سے دکھایا گیا ہے۔