تعارف

جیلانی بانو کی ولادت اتر پردیش کے مردم خیز شہر ضلع بدایوں میں ۱۴ جولائی ۱۹۳۶ کو ہوئی۔ جیلانی بانو نے جس عہد میں ہوش سنبھالا وہ جاگیر دارانہ ماحول و معاشرے کی ٹوٹتی بکھرتی روایتوں اور قدروں، سیاسی و سماجی تغیرات اور تحریک آزادی کا دور تھا۔ اس دور کے حالات و مسائل نے ان کے حساس ذہن کو متاثر کیا۔ اور جب انھوں نے قلم اٹھایا تو اپنی تمام فن کارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی۔ انسانی زندگی کے نشیب وفراز اور دیگر سیاسی، سماجی مسائل کو کہانیوں کے پیرائے میں ڈھال دیا۔

ادبی زندگی

ان کی تخلیقات میں حقیقت پسندی اور سیاسی وسماجی شعور کی پختگی کا بھر پور اظہار ملتا ہے۔ جیلانی بانو نے نثر کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے۔ انھوں نے اپنا تخلیقی سفر ملک کی آزادی کے بعد شروع کیا۔ ان کی پہلی کہانی کا نام ”موم کی مریم“ ہے جو کہ ‘ادب لطیف’ لاہور کے سال نامے میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کا قلم بلا کسی جھجھک کے چل پڑا۔ انھوں نے افسانہ و ناول نگاری کے ساتھ ساتھ کتابوں پر تبصرے بھی کیے ہیں۔ روزنامہ سیاست میں کالم ”شیشہ وتیشہ“بھی لکھا ہے۔ مختلف اخبارات و رسائل میں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں۔
ان کی شہرہ آفاق تحریر ‘موم کی مریم‘ نے ماہنامہ ‘سویرا‘ میں شائع ہوتے ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

افسانہ نگاری

جیلانی بانو نے ۲۰۰۲ء میں ایک افسانہ لکھا تھا جس کا عنوان ہے ’’عباس نے کہا ‘‘ جسے صلاح الدین پرویز نے ادبی جریدے ’’استعارہ ‘‘ میں شائع کیا۔ یہ افسانہ عراق پر ہونے والی جنگ میں امریکہ کی بربریت کی کہانی سناتا ہے۔ اس میں انھوں نے امریکہ کے جابرانہ رویے ، عراق پر اس کے پے در پے حملے اور دہشت و تباہی کی حقیقی تصویریں نہایت فن کارانہ انداز میں پیش کی ہیں۔ عراق میں ہونے والی جنگ انسانی ظلم و بربریت کی ایک ایسی لرزہ خیز داستان ہے جس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دل خراش آہوں، سسکیوں اور قتل و غارت گری کی وہ ساری تصویریں زندہ ہوجاتی ہیں جو امریکہ کے اشارے پر عراق کے چپے چپے کی بے بسی کی داستانیں سناتی ہیں۔ وہ ستم زدہ داستانیں جو سفید حویلی میں مقیم اربابِ اقتدار کے اشارے پر رقم کی گئیں اور اپنی رعونت اور گھمنڈ کی تسکین کا سامان فراہم کیا۔

جیلانی بانو نے افسانوں میں اپنے ماحول کے گرد و پیش کی زندگی اور اس زندگی سے وابستہ شب و روز کے مسائل کو ایمان داری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کے افسانے ان معنوں میں انفرادی اہمیت کے حامل ہیں کہ اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کے اشارے بھی واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ اردو کے نسائی ادب میں وہ فکشن کے حوالے سے بہت بلند مقام پر نظر آتی ہیں اور یہ مقام انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل پر حاصل کیا ہے۔

جیلانی بانو نے کچھ ایسے مسائل کو اپنے ناولوں میں تحریر کیا ہے جو ۴۳ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہمارے اس جدید ترین معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور انسان اس کا مسلسل شکار ہورہا ہے۔
’’پتھروں کی بارش ‘‘کے نام سے ہندی میں ۱۹۸۷؁ء میں دہلی سے شائع ہوا۔ جیلانی بانو کے ناولٹ کا مجموعہ ’’جگنو اور ستارے ‘‘ کے نام سے لاہور سے ۱۹۶۵؁ میں شائع ہوا۔ اس مجموعہ میں تین ناولٹ شامل ہیں۔
(۱) دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر
(۲) جگنو اور ستارے
(۳) رات

جگنو اور ستارے کا ایک اور ایڈیشن پاکٹ بکس سائز میں شائع ہوا ہے اس مجموعے میں صرف دو ناولٹ ہی یکجا ہیں۔
(۱) رات اور (۲) جگنو اور ستارے۔
جیلانی بانو کے دوسرے ناولٹ کا مجموعہ ’’نغمے کا سفر‘‘ہے۔ یہ ۱۹۷۷؁ میں حیدرآباد سے شائع ہوا۔

اعزازات

انہیں مندرجہ ذیل ایوارڈ ملے ہیں۔

  • غالب ایوارڈ،
  • دوشیزہ ایوارڈ (پاکستان)،
  • سویت لینڈ نہرو ایوارڈ (ماسکو)،
  • مہاراشٹر اردو اکیڈمی ایوارڈ،
  • نقوش ایوارڈ (پاکستان)،
  • پدماشری ایوارڈ (بھارت)۔

مشہور تصانیف

ان کی معروف تحریریں یہ ہیں

  • روشنی کے منار،
  • جگنو اور ستارے،
  • نغمے کا سفر،
  • ایوان غزل،
  • بارشِ سنگ،
  • رستہ بند ہے،
  • پرایا گھر،
  • بات پھول کی،
  • یقین کے آگے گمان کے پیچھے،
  • سچ کے سوا۔
  • اس کے علاوہ انہوں نے حیدرآباد شہر پر بننے والی ڈاکومنٹری حیدرآباد ایک شہر ایک تہذیب کا سکرپٹ بھی تحریر کیا تھا۔