خیابانِ اردو برائے بارہویں جماعت۔

  • باب نمبر 03:کہانیاں
  • مصنف کا نام:نرمل ورما
  • سبق کا نام: جلتی جھاڑی (ہندی کہانی)

کہانی جلتی جھاڑی کا خلاصہ:

اس کہانی کا مرکزی کرادر اپنی کہانی کو خود کلامی کے انداز میں بیان کر رہا ہے جو انجان شہر میں آ کر ہوٹل میں رکتا ہے اور کچھ خط پوسٹ کرنے جب باہر نکلتا ہے تو اپنی کھوج میں ادھر ادھر کے راستوں پر نکل جاتا ہے۔ اسی طرح راستے کی کھوج میں وہ ایک جزیرے کی طرف نکل آتا ہے جہاں پت چھڑ کے آثار موجود ہوتے ہیں۔وہاں ایک مچھوارا، جو کہ بوڑھا آدمی تھا ایک چھوٹی سی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔بالکل خاموش،بے حس و حرکت،منھ میں پائپ دبی تھی جو نہ جانے کب سے بجھ چکی تھی۔

ہاتھ میں مچھلی پکڑنے کا کانٹا تھا۔وہ جزیرے سے پرے شہر کی پلوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔یہ اس کے برابر بیٹھ کر اس کی حرکات دیکھنے لگ جاتا ہے مگر اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ مچھوارا اس کی موجودگی کو خاطر میں نہیں لاتا کہ جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو اور کچھ ہی دیر بعد وہ اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ اس کے قدموں کے نشان تا دیر اس کی نگاہوں کے سامنے رہتے ہیں۔

کچھ دیر بعد دو لڑکے آتے ہیں جو کچھ پتھر ندی میں بہاتے ہیں۔ وہ اس کو یہاں روز آنے والا مچھوارا کہتے ہیں مگر یہ ان کو بھرپور یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ وہ شخص نہیں ہے بلکہ وہ تو جا چکا ہے اور اس کے قدموں کے نشان ان کے سامنے ہیں۔ ان نوجوانوں کے جانے کے بعد شام ڈھلنے کا منظر اور اس کرادر کی تنہائی کہانی کا حصہ ہیں۔

غروب آفتاب ہوتے ہی شہر کی پہاڑیاں اندھیرے میں چھپ گئی تھیں۔گوتھک گرجا کے مینار نیم فراموش خواب کی طرح ہوا میں معلق تھے۔ جزیرے کے پار شہر کے پرانے پل کی بتیاں ایک کے بعد ایک جلنے لگی تھیں۔بہتے پانی میں ان کا سایہ ٹمٹماتی موم بتیوں کی طرح کانپ رہا تھا۔ اس سب سے اس کی تنہائی کی کیفیت بڑھنے لگی بلکہ اس کو اپنے وجود کا بہاؤ محسوس ہونے لگا۔جہاں اندھیرے نے اس کی تنہائی کو بڑھا دیا وہیں جلتی جھاڑی میں اسے ایک سگریٹ پیتی لڑکی اور اوو کوٹ میں ملبوس شخص کا سایہ بھی دکھائی دیا۔

سوالات:

سوال نمبر01:نرمل ورما نے سیرو سیاحت کے دوران مسافر کی جن کیفیات کا ذکر کیا ہے انھیں اپنے لفظوں میں بیان کیجئے۔

نرمل ورما نے سیاحت کے دوران مسافر کی کیفیات کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ ایک انجان شہر میں تنہائی کا مارا ہوا ہے۔ وہ جب مچھوارے کے برابر میں بیٹھتا ہے اور اس کے اس کی جانب متوجہ نہ ہونے پر اسے اپنے اندر بے چینی کا احساس ہوتا ہے۔بہتے پانی کو دیکھ کر اسے اس کے ساتھ اپنے وجود کا کچھ حصہ بہتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اسے اپنے اکیلے پن سے خوف محسوس ہوتا ہے۔

سوال نمبر02:افسانہ نگار نے بوڑھے مچھوارے کی تصویر کشی کس انداز میں کی ہے؟

افسانہ نگار نے بوڑھے مچھوارے کی منظر کشی یوں کی ہے۔وہ بوڑھا آدمی تھا ایک چھوٹی سی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔بالکل خاموش،بے حس و حرکت،منھ میں پائپ دبی تھی جو ناجانے کب سے بجھ چکی تھی۔ہاتھ میں مچھلی پکڑنے کا کانٹا تھا۔وہ جزیرے سے پرے شہر کی پلوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔

سوال نمبر 03:جزیرے کے کنارے اور پل کے ساتھ غروب آفتاب کے جو مناظر نرمل ورما نے پیش کیے ہیں ان پر تبصرہ کیجیے۔

شہر کی پہاڑیاں اندھیرے میں چھپ گئی تھیں۔گوتھک گرجا کے مینار نیم فراموش خواب کی طرح ہوا میں معلق تھے۔ جزیرے کے پار شہر کے پرانے پل کی بتیاں ایک کے بعد ایک جلنے لگی تھیں۔بہتے پانی میں ان کا سایہ ٹمٹماتی موم بتیوں کی طرح کانپ رہا تھا۔مصنف کے پیش کردہ یہ مناظر غروب آفتاب کے اس لمحے کومسحور کن بنانے کے ساتھ ساتھ تنہائی اور اکیلے پن کے احساس کو بھی بڑھا رہے تھے۔ان مناظر کی بدولت جہاں مصنف نے اپنی ذات کے خالی پن کو محسوس کیا وہیں اس اندھیرے نے کچھ لوگوں کو ایک بھی کیا تھا۔

سوال نمبر 04:نرمل ورما کے اس افسانے (جلتی جھاڑی) کو مختصراً اپنے لفظوں میں بیان کیجئے۔

نرمل ورما کا افسانہ "جلتی جھاڑی” ایک ایسی کہانی ہے جو انسان کے اکیلے پن اور اس کے اندر کی تنہائی اور اس کرب کو بیان کرتی ہے۔جیسا کہ اس کہانی کا کرادر دوسرے شہروں میں اپنی جان پہچان کے لوگ نہ ہونے کے باعث خود کو ان انجان شہروں کی گلیوں میں کھوجنے نکلتا ہے مگر وہ یہاں اپنی پہچان تلاش نہیں کر پاتا ہے کہ کیونکہ یہاں اسے کوئی نہیں جانتا ہے بلکہ کچھ انجان لڑکے اس کو جزیرے کے کنارے روز آیا مچھوارا سمجھنے لگتے ہیں۔