Advertisement
  • باب نمبر01: حصہ نثر (مضمون)
  • ماخوذ مضمون
  • سبق کا نام : میگھالیہ

مضمون میگھالیہ کا خلاصہ:

یہ مضمون صوبہ میگھالیہ کے محلے وقوع، رسم ورواج، ثقافت اور طرز بود و باش کے بارے میں ہے۔ صوبہ میگھالیہ کی تہذیب ملک کے دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہ صوبہ خوبصورت پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہے۔اس کو 2 اپریل 1970ء میں آسام کے جنوبی حصے گارو،گھاسی اور جنیتا کے پربتوں کو الگ کرکے تشکیل دیا گیا۔اس صوبے کا کل رقبہ بائیس ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر ہےاور آبادی دس لاکھ کے قریب ہے۔

میگھالیہ کا علاقہ سال بھر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام رکھا گیا ہے۔یہاں کی راجدھانی شیلانگ ہے جو کہ اس کے دیوتا کا نام تھا۔ شیلانگ کے دیوتا کو ناچ گانا پسند تھا اسی لیے یہاں کے باسی بھی ناچ گانے کے شوقین ہیں۔ یہ علاقہ قدیم و جدید تہذیب کا سنگم ہے۔ یہاں کی “وارڈ لیک” جھیل اور “بوٹینیکل پارک” مشہور ہیں۔

Advertisement

یہاں کھاسی اور گارو قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ نسلاً منگول اور ان کے سر چپٹے اور رنگ پیلا ہے۔ یہاں کی تہذیب میں عورت کو خاص مقام حاصل ہے۔عورت وراثت کی حقدار ہوتی ہے۔ مختلف رسوم کے مطابق لڑکی اپنے لئے لڑکے کا انتخاب بھی خود کرتی ہے۔یہاں بازاروں میں خرید و فروخت کا کام بھی عورتیں ہی انجام دیتی ہیں۔ یہاں چاول،گوشت، مچھلی اور ساگودانہ شوق سے کھایا جاتا ہے۔

Advertisement

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ چیراپونجی بھی اسی صوبے میں واقع ہے۔یہاں کے گاؤں میں پنجایت کے ذریعے جھگڑوں کے فیصلے چکائے جاتے ہیں۔یہاں کی فصلوں میں چاول،مکا،جوار ،آلو،اروی،سنگترے،کیلے،لیموں اور تربوز وغیرہ شامل ہیں۔ صوبے میں آبشاریں بھی ہیں۔ یہاں کھاسی، گارو اور آسامی زبانیں بولی جاتی ہیں اور صوبے میں تعلیم کی شرح کل آبادی کے دوتہائی ہے۔یہاں پر ہسپتال،سکول اور کالج بھی موجود ہیں اور حکومت صوبے کی ترقی کے لئے مزید اقدامات کر رہی ہے۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر 01: میگھالیہ صوبہ کس طرح تشکیل دیا گیا؟

صوبہ میگھالیہ ،آسام کے جنوبی حصے گارو،گھاسی اور جنیتیا پربتوں کے علاقوں کو الگ کرکے تشکیل دیا گیا۔

سوال نمبر 02: میگھالیہ کو خوبصورت صوبہ کیوں کہا گیا ہے؟

میگھالیہ میں اونچے نیچے پہاڑی سلسلوں،گہری کھائیوں اور ان کے درمیان راگ الاپتی،آڑی ترچھی بل کھاتی ہوئی ندیوں اور پہاڑیوں کی چوٹیوں سے گرتے ہوئے آبشار دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ یہاں پر خوبصورت عمارتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ ایک خوبصورت صوبہ ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 03:اس صوبہ کا نام میگھالیہ کیوں رکھا گیا؟

یہ صوبہ سال بھر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس لیے اسے میگھالیہ یعنی بادلوں کا گھر کہتے ہیں۔

سوال نمبر 04: میگھالیہ کی راجدھانی کا نام ” شیلانگ” کس مناسبت سے ہے؟

شیلانگ یہاں کے ایک دیوتا کا نام تھا۔جسے ناچ اور گانے کا بہت شوق تھا اسی مناسبت سے اس شہر کا نام شیلانگ رکھا گیا۔ شیلانگ کو پہاڑوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 05: میگھالیہ میں کون کون سے قبیلے آباد ہیں؟

میگھالیہ میں گھاسی اور گارو قبیلے کا لوگ آباد ہیں۔یہ لوگ نسلاً منگول ہیں۔

سوال نمبر 06: میگھالیہ کے خاص رسم ورواج کون کون سے ہیں؟

میگھالیہ کے رسم و رواج میں یہ ہے کہ یہاں وراثت کی حقدار عورت ہوتی ہے۔شادی کے بعد شوہر کو بیوی کے گھر رہنا پڑتا ہے۔ یہاں شادی سے پہلے تمام لڑکے “نوک پانتھے” نام کے ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں۔ لڑکی اپنے لئے لڑکے کا انتخاب خود کرتی ہے۔ یہاں نشانے بازی کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ سر پنج یہاں کے فیصلے لیتے ہیں۔

Advertisement

زبان و قواعد:

ان لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجئے۔

قدیم وجدیدلکھنو کی معاشرت میں قدیم و جدید کا امتزاج پایا جاتا ہے۔
رسم ورواجہندوستان اور پاکستان کے رسم و رواج میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔
شوروغلاستاد کی غیر موجودگی میں بچے کمرہ جماعت میں شوروغل مچا رہے تھے۔
خرید و فروختدن کا آغاز ہوتے ہی بازار میں خرید وفروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
فلاح و بہبودہندوستان میں غریب عوام کی فلاح وبہبود کے ادارے سرگرم ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے جملوں کو صحیح لفظ سے پورا کیجئے۔

  • شیلانگ کو پہاڑوں کی ملکہ کہا جاتا ہے۔
  • دنیا کا سب سے زیادہ بارش والا علاقہ چیراپونجی ہے۔
  • ایک قبیلے کا یہ دستور ہے کہ شادی سے پہلے تمام لڑکے نوک پانتھے نام کے مکان میں رہتے ہیں۔

درج ذیل عبارت میں سے اسم اور صفت کی نشان دہی کیجئے۔

یہاں کے آدی باسی کھاسی اور گارو قبیلے کے ہیں۔ یہ کوگ نسلاً منگول ہیں۔ گول چہرہ، چپٹا سر، چوڑی پیشانی، چوڑی ناک،آنکھیں چھوٹی اور رنگ پیلا ہوتا ہے۔

اسمصفت
کھاسی ،گارو،منگول گول چہرہ،چپٹا سر،چوڑی پیشانی،چوڑی ناک،آنکھیں چھوٹی، رنگ پیلا۔

عملی کام:

صوبہ میگھالیہ کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے دوست کے نام ایک خط لکھیے۔

ازکمرہ امتحان
2 فروری 2022ء
! پیارے دوست احمد
اسلام وعلیکم۔امید کرتا ہوں تم خیریت سے ہو گے۔ کل مجھے تمھاراخط موصول ہوا۔تم نے ایک ہفتہ پہلے یہ خط مجھے ارسال کیا تھا مگر میں چونکہ گھر پر موجود نہیں تھا اس لیے اسے پڑھ اور تمھیں بروقت جواب نہ دے پایا۔ میں اپنے کزنز کے ساتھ تفریح کے لئے “میگھالیہ” گیا ہوا تھا۔ میرا یہ سفر بہت شاندار رہا۔میگھالیہ ہے تو ہندوستان کا ہی صوبہ مگر میں نےاس کی تہذیب یہاں کے دیگر صوبوں سے بہت منفرد پائی۔یہاں عورت سربراہ کی حیثیت رکھتی ہے۔یہاں کئ خوبصورت اور قابل دید مقامات بھی ہیں۔یہاں کھاسیوں کے اسمارک،قلعوں کے کھنڈرات اور پتھروں کے خوبصورت مجسمے ہیں۔ یہاں کئی خوبصورت آبشاریں بھی موجود ہیں۔ یہاں کے رسم و رواج کو بھی میں نے بہت منفرد پایا۔ مختصراً یہ کہوں گا کہ یہ صوبہ بہت خوبصورت اور قابل دید ہے اگر کبھی کسی تفریحی مقام پر جانے کا ارادہ ہو تو صوبہ میگھالیہ کے بارے میں ضرور سوچنا۔
انکل اور آنٹی کو سلام اور علی اور سائرہ کو پیار۔
وسلام
تمھارا دوست عدنان۔
Advertisement

Advertisement