تعارف

سائرہ ہاشمی ناول نگار، افسانہ نگار، ادیب اور شاعرہ تھیں۔ ۱۹۸۵ءکی بات ہے کہ اردو کی محترم اور معروف ادیبہ سائرہ ہاشمی نے ایک ادبی تنظیم ’بزم ہم نفساں‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ بزم گروہی تعصب، ذاتی حسد اور صفاتی چپقلش سے ماوریٰ تھی۔ دیکھتے دیکھتے سائرہ ہاشمی نے لاہور کے تمام جیّد اور قابل ذکر ادیبوں، شاعروں اور خواتین و حضرات کو اس پلیٹ فارم پر جمع کر لیا۔

اس ایک بات پر سارے دانشور متفق ہوئے کہ ہر ماہ کسی ایک اہل قلم کے گھر پر ’بزم ہم نفساں‘ سجائی جائے۔ یوں باقاعدگی سے باری باری سب کے ہاں ایک خوبصورت ادیبانہ شاعرانہ شام سجائی جانے لگی۔ گنگناتی مسکراتی اور فکر کے موتی لٹاتی ہوئی ہر محفل میں افسانہ، سفرنامہ، کوئی باب، کوئی صنف سخن، سنی جاتی۔ شعرو شاعری کا دور بھی چلتا۔ یہ ایک عظیم کارنامہ تھا جو سائرہ ہاشمی نے تقریباً بیس سال بغیر کسی تعطل کے اور صلہ و ستائش کی پرواہ کئے بغیر جاری رکھا۔

تصانیف

  • ردی کاغذ کا ٹکڑا ،
  • اور وہ کالی ہوگئی (افسانے)
  • تماشا ہو چکا (افسانے)
  • سنگ زیست (۱۲ افسانے)
  • ریت کی دیوار (افسانے)
  • درد کی رت (ناول)
  • سیاہ برف  (ناول)
  • زندگی کی بند گلی (ناولٹ)
  • ایک تاثر دو شخصیتیں۔

سائرہ ہاشمی کے بارے میں تنازعہ

مادرملت کے قتل کی بازگشت کئی مرتبہ میڈیا کی زینت بنی۔ بی بی سی کی چند سال قبل نشر ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُن کی موت کے بارے میں تنازع کو سب سے زیادہ ہوا سائرہ ہاشمی کی کتاب نے دی۔ سائرہ ہاشمی کی کتاب ”ایک تاثر دو شخصیات ” میں مادرِ ملت کے قتل کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ محترمہ کے گلے پر نشانات تھے اور ان کے بستر پر خون کے چھینٹے بھی تھے۔