• کتاب” اردو گلدستہ "برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر11:نظم
  • شاعر کا نام: ساحر لدھیانوی
  • نظم کا نام: پیسہ

نظم پیسہ کی تشریح

کہتے ہیں اسے پیسہ بچو! چیز بڑی معمولی ہے
لیکن اس پیسے کے پیچھے دنیا رستہ بھولی ہے

یہ شعر ساحر لدھیانوی کی نظم ” پیسہ” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر پیسے کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے لوگوں پیسے سے بچو کہ ویسے تو یہ پیسہ ایک بہت معمولی سی چیز اور ایک بے جان کاغذ یا دھات کا ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ پیسہ اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ اس کے پیچھے دنیا کے بڑے بڑے لوگ اپنی راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔

ہم آج تمھیں اس پیسے کی ساری تاریخ سناتے ہیں
جتنے جگ اب تک بیتے ہیں ان سب کی جھلک دکھلاتے ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آؤ آج میں تم سب کو پیسے کی تاریخ سناتا ہو کہ یہ کیسے اور کیونکر ایجاد ہوا۔ اس پیسے کی ایجاد میں آج تک جتنے مراحل آتے ہیں سن سب کی جھلک آج میں تم لوگوں کو دکھاتا ہوں۔

Advertisement
اک ایسا دور بھی تھا جگ میں جب اس پیسے کا نام نہ تھا
چیزیں چیزوں سے بکتی تھیں چیزوں کا کچھ بھی دام نہ تھا

اس شعر میں شاعر قدیم دور کی بات بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک دور ایسا ہوا کرتا تھا کہ جب اس دنیا میں پیسہ نامی کوئی شے اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔ بلکہ اس زمانے میں لوگوں کا لین دین چیزوں پر ہی ہوا کرتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو اپنی چیزیں دے کر بدلے میں اس سے اپنی ضرورت کی چیز خرید لیتے تھے۔ مثلاً اگر کسی کے پاس دردھ موجود ہے اور اسے آٹے کی ضرورت ہے تو وہ دوسرے آدمی کو دودھ دے کر اپنی ضرورت کے عوض اس سے آٹا لے لیتا تھا۔ یوں ان چیزوں کی کوئی قیمتیں نہ ہوا کرتی تھی اور سب کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی تھی۔

چیزوں سے چیز بدلنے کا یہ ڈھنگ بہت بے کار سا تھا
لانا بھی کٹھن تھا چیزوں کا لے جانا بھی دشوار سا تھا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر دیکھا جائے تو لوگوں کا آپس میں یہ اشیاء کا تبادلہ کچھ بے کار سا محسوس ہوتا تھا کہ بالفرض اگر ایک شخص کو اس چیز کی ضرورت ہی نہیں جو آپ کے پاس موجود ہے تو آپ کا سودا کرنا مشکل ہو جایا کرتا تھا۔ دوسرا ان چیزوں کو اٹھا کر وہاں تک لے جانا اور لے آنا بھی ایک مشکل عمل لگتا تھا۔

انسانوں نےتب مل کر سوچا کیوں وقت اتنا برباد کر یں
ہر چیز کی جو قیمت ٹھہرے وہ چیز نہ کیوں ایجاد کر یں

اس شعر میں شاعر بتاتا ہے کہ پھر انسان نے ایک ترکیب سوچی کہ کیوں نہ سب مل کر ایک ایسا کام کریں کہ ہم اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے کوئی ایسی چیز ایجاد کرتے ہیں جو ان اشیاء کی قیمت مقرر ہو سکے۔ وہ چیز کوئی اور نہیں بلکہ انسان کی ایجاد پیسہ ہی تھی۔

اس طرح ہماری دنیا میں پہلا پیسہ تیار ہوا
انسان کا عزت سے جینا دنیا میں مگر دشوار ہوا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس طرح سب انسانوں کی باہمی مشاورت کے بعد دنیا کا پہلا پیسہ تیار ہوا اور اس پیسے کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی انسانوں کو جینا بھی دشوار ہو گیا کہ ہر انسان اس کے حصول کی تگ و دو میں لگ گیا۔

سوالات:

پیسہ رائج ہونے سے پہلے چیز میں کس طرح حاصل کی جاتی تھیں؟

پیسہ رائج ہونے سے پہلے باہمی ضرورت کی بنا پر ایک دوسرے سے اشیا کے عوض اشیا کا تبادلہ کرکے چیز حاصل کی جاتی تھی۔

چیزوں سے چیز میں بدلنے کا ڈھنگ کیوں بے کار تھا؟

چیزوں سے چیز بدلنے کا ڈھنگ اس لیے بے کار تھا کہ ان چیزوں کو لانا لے جانا نہ صرف مشکل عمل تھا بلکہ بسا اوقات اپنے مطلب کی شے پانا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔

” انسان کا عزت سے جینا دنیا میں مگر دشوار ہوا‘ کا کیا مطلب ہے؟

انسان کا عزت سے جینا مگر دشوار ہوا سے مراد ہے کہ انسان نے پیسے کے حصول کی تگ و دو میں خود کو اتنا تھکا لیا کہ انسان اس پیسے کو حاصل کرنے کے لیے ہر حد سے گزرنے لگا۔