• کتاب” اردو گلدستہ "برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر10:نظم
  • شاعر کا نام: سکندر علی وجد
  • نظم کا نام: جگنو

نظم جگنو کی تشریح

برسات کی رات تھی اندھیری
کچھ نیند اچٹ گئی تھی میری
پانی جو برس کے کھل گیا تھا
گلشن کا غبار دھل گیا تھا

یہ اشعار سکندر علی وجد کی نظم "جگنو ” سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ برسات کی اندھیری رات تھی۔ ہر جانب گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ ایے میں میری نیند بھی اڑ چکی تھی۔ اس اندھیری رات میں آسمان سے پانی جی بھر کے برسا جس سے موسن نکھر سا گیا۔ اس موسم کے نکھرنے سے باغ کا سارا غبار بھی دھل گیا تھا۔ سارا منظر نکھرا ہوا شفاف ہو چکا تھا۔

بیدار تھی باغ میں اکیلی
پھولوں سے لدی ہوئی چمیلی
اتنے میں جو رو چلی ہوا کی
قسمت ہی چمک گئی فضا کی

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ اس وقت بھی باغ میں ایک شے جاگ رہی تھی اوروہ چنبیلی تھی کہ چنبیلی کا پودا پھولوں سے لدا ہوا تھا۔ اتںے میں جو تروتازہ ہوا چلی تو فضا کی قسمت بھی جاگ گئی کیوں کہ ہر جانب فضا میں چنبیلی کی مہک پھیل گئی۔

Advertisement
ہونے لگی جگنوؤں کی بارش
فطرت کے جمال کی تراوش
روشن تھا اس قدر اندھیرا
گویا ہونے کو تھا سویرا

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ برسات کی اس اندھیری رات میں جیسے ہی فضا نکھری تو ہر طرف جگنوؤں کی بارش ہونے لگی۔جس نے قدرت کی خوبصورتی کو بھی نکھیر دیا۔ اس گہری اندھیری رات میں جگنوؤں کی بدولت اس قدر روشنی ہو گئی کہ یہ اندھیری رات روش ہو گئی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ گویا صبح کا سویرا ہونے والا ہے۔

جگنو اس طرح اڑ رہے تھے
ہیروں میں پر لگے ہوئے تھے
ظلمت موتی لٹا رہی تھی
پریوں کی برات جا رہی تھی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جگنو آسمان پہ اڑتے ہوئے یوں محسوس ہو رہے تھے کہ جیسے یہ جگنو نہ ہوں بلکہ کسی نے ہیروں کو پر لگا دیے ہوں اور وہ آسمان میں اڑ رہے ہوں۔یہ اندھیری رات جگنوؤں کی بدولت یوں لگ رہی تھی کہ جیسے اندھیری رات موتی لٹا رہی ہو۔ جگنو یوں منزل کی جانب بڑھ رہے تھے کہ گویا پریوں کی برات جا رہی ہو۔

سوالات:

جگنوکس موسم میں اور کس وقت نظر آتے ہیں؟

جگنو برسات کے موسم میں اور اندھیری رات میں نظر آتے ہیں۔

جگنو جب اڑتے ہیں تو ان کی روشنی کیسی لگتی ہے؟

جگنو جب اڑتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پریوں کی بارات جا رہی ہو اور فطرت کے جمال کا ظہور ہو رہا ہو۔

جگنوؤں کے چپکنے سے پیپل کیسا لگ رہا ہے؟

جگنوؤں کے چمکنے سے پیپل نکھر کہ روشن ہو چکا تھا۔

اس نظم کا مفہوم اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نے برسات کی اندھیری رات کا ذکر کیا ہے کہ گہری اندھیری رات تھی اور میری آنکھ کھل گئی۔ جم کر بادل برسنے کی وجہ سے فضا نکھر چکی تھی جبکہ باغ میں چنبیلی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ایسے میں جگنوؤں کی برسات ہونے لگی۔ اور گہری اندھیری رات میں روشنی یوں پھیل گئی گویا سویرا ہونے کو ہو۔اس اندھیری رات میں اڑتے ہوئے جگنو یوں محسوس کو رہے تھے کہ جیسے کسی نے ہیروں کو پر لگا دیے ہوں یا پریوں کی برات جا رہی ہو۔ یہ جگنو برسات کی رات کو مزید روشن اور خوبصورت بنا رہے تھے۔