• کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر18:کہانی
  • سبق کا نام : آدی باسی

خلاصہ سبق:

ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے جہاں زرخیز میدان,پہاڑ،جنگلات وغیرہ موجود ہیں۔بعض علاقے آبادیوں سے دور ہیں اور وہاں پہنچنا بہت مشکل ہے۔ پرانے زمانے میں ہندوستان میں مختلف خطوں سے بہت سے لوگ آتے رہے۔ یہ سلسلہ دس ہزار سال تک چلتا رہا۔

زبان تہذیب اور مذہب کے اعتبار سے مختلف لوگوں کی آبادیاں قائم ہو گئیں۔کچھ لوگ جا کر جنگلات میں رہنے لگے۔ ملک کے دور دراز مقامات پر کچھ لوگ عام آبادی سے الگ اپنے پرانے ڈھنگ سے زندگی گزارتے ہیں انہیں آدی باسی یعنی ‘پرانے بسنے والے ‘ کہتے ہیں۔یہ گروہ مختلف علاقوں میں آباد ہیں اور ان کی اپنی خصوصیات ہیں۔

Advertisement

ہندوستان کے آدی باسی قبیلے تین بڑے خطوں میں سے ہیں۔ ایک جنوبی ہند کے ساحلی سمندر کے پہاڑی علاقوں میں ، دوسرے وسطی ہندوستان کے پہاڑوں اور جنگلوں میں اور تیسرے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔

وسطی ہندوستان میں سنتھال،بھیل،گونڈ اور منڈا قابل ذکر ہیں۔کچھ گروہ نیفا پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ وسطی ہندوستان کے قبیلے بڑی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔جنوبی ہندوستان کے قبیلوں کی شکل و صورت اور طور طریقوں میں بہت مماثلت ہے۔ جنوب مغربی ساحل میں آباد قبائل خانہ بدوش ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے ہیں۔

دس بارہ خاندن کے لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔ وہ پہاڑ کی اونچی چوٹیوں پر جھونپڑی بناتے ہیں۔ آدی باسیوں کی گزر بسر کا انحصار جنگلوں کی پیداوار اور شکار پر ہے۔یہ لوگ شہد اور جنگلی جڑی بوٹیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ شہد نکالنے کے لیے آدی باسی شہد کے چھتے والے درختوں میں کھونٹیاں گاڑ دیتے ہیں تاکہ ان پر چڑھنے میں آسانی ہو۔

رات کے وقت یہ ہاتھ میں مشعل لے کر درختوں کے قریب جاتے ہیں تاکہ شعلے کی چمک اور دھنویں کی وجہ سے مکھیاں ڈنک نہ مار سکیں۔ شہد اکٹھا کرنے کا کام ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔آدی باسی نرم جڑوں کو بھون کر کھاتے ہیں۔ کچھ جڑیں ابال کر کھاتے ہیں۔

جنگلی جانوروں کا شکار ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔آدی باسی کتوں کی مدد سے ہرنوں کو تنگ گھاٹیوں کے راستے چشموں کے کنارے تک لے آتے ہیں اور پھر ہر طرف سے ان کا راستہ بند کر دیتے ہیں۔ ہرنوں کو بچنے کے لیے پانی میں کودنا پڑتا ہے جہاں ہرنوں کی رفتار سست ہوجاتی ہے اور اس طرح آدی باسی ان کو پکڑ لیتے ہیں۔

یہ لوگ پانی کو گڑھوں میں روک لیتے ہیں ان میں مچھلیاں پل جاتی ہیں تو پانی میں کسی درخت کی چھال کا سفوف چھڑک دیتے ہیں۔ سفوف پانا میں ملتے ہی مچھلیاں بے دم ہونے لگتی ہیں اور یہ انہیں پکڑ لیتے ہیں۔قدرت نے آدی باسیوں کو قناعت کی بڑی دولت دی ہے۔

یہ اپنی محنت مشقت کی زندگی کو ہنسی خوشی گزارتے ہیں۔یہ اپنے لوک گیت اور تقریبوں سے اپنی خوشیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔آدی باسی ہمارے ملک کی رنگا رنگ زندگی کا نہایت اہم حصہ ہیں۔آدی باسیوں کے طور طریقے اور رسم و رواج قدیم ہندوستان کی یاد دلاتے ہیں۔ان کی تعلیم و تربیت کی جانب توجہ کی ضرورت ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

آدی باسی کسے کہتے ہیں؟

دور دراز مقامات پر کچھ لوگ عام آبادی سے الگ اپنے پرانے ڈھنگ سے زندگی گزارتے ہیں انہیں آدی باسی ‘پرانے بسنے والے’کہتے ہیں۔

ہندو ستار،، کے آدی باسی قبیلے کہاں کہاں آباد ہیں اور ان کی کیا خصوصیات ہیں؟

ہندوستان کے آدی اسی قبیلے تین بڑے خطوں میں سے ہیں۔ ایک جنوبی ہند کے ساحلی سمندر کے پہاڑی علاقوں میں ، دوسرے وسطی ہندوستان کے پہاڑوں اور جنگلوں میں اور تیسرے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔

آدی باسیوں کی عام غذا کیا ہے ؟

آدی باسیوں کی عام غذا جنگلی پیداوار اور شکار ہیں۔

جنوب مغر بی ساحل پر آباد قبائل کس طرح زندگی گزارتے ہیں؟

جنوب مغربی ساحل میں آباد قبائل خانہ بدوش ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ دس بارہ خاندن کے لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔ وہ پہاڑ کی اونچی چوٹیوں پر جھونپڑی بناتے ہیں۔ آدی باسیوں کی گزر بسر کا انحصار جنگلوں کی پیداوار اور شکار پر ہے۔

آدی باسی درختوں سے شہد کس طرح حاصل کرتے ہیں؟

شہد نکالنے کے لیے آدی باسی شہد کے چھتے والے درختوں میں کھونٹیاں گاڑ دیتے ہیں تاکہ ان پر چڑھنے میں آسانی ہو۔ رات کے وقت یہ ہاتھ میں مشعل لے کر درختوں کے قریب جاتے ہیں تاکہ شعلے کی چمک اور دھنویں کی وجہ سے مکھیاں ڈنک نہ مار سکیں۔ شہد اکٹھا کرنے کا کام ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔

آدی باسی ہرن اور مچھلی کا شکار کس طرح کرتے ہیں؟

آدی باسی کتوں کی مدد سے ہرنوں کو تنگ گھاٹیوں کے راستے چشموں کے کنارے تک لے آتے ہیں اور پھر ہر طرف سے ان کا راستہ بند کر دیتے ہیں۔ ہرنوں کو بچنے کے لیے پانی میں کودنا پڑتا ہے جہاں ہرنوں کی رفتار سست ہوجاتی ہے اور اس طرح آدی باسی ان کو پکڑ لیتے ہیں۔ یہ لوگ پانی کو گڑھوں میں روک لیتے ہیں ان میں مچھلیاں پل جاتی ہیں تو پانی میں کسی درخت کی چھال کا سفوف چھڑک دیتے ہیں۔ سفوف پانا میں ملتے ہی مچھلیاں بے دم ہونے لگتی ہیں اور یہ انہیں پکڑ لیتے ہیں۔

قدرت نے آدی باسیوں کو کس دولت سے نوازا ہے؟

قدرت نے آدی باسیوں کو قناعت کی بڑی دولت دی ہے۔ یہ اپنی محنت مشقت کی زندگی کو ہنسی خوشی گزارتے ہیں۔

خالی جگہ کو بھریے:

  • نئے آنے والوں اور پرانے بسنے والوں میں ٹکراؤ بھی ہوا۔
  • جنوبی ہندوستان میں بھی آدی باسیوں کے بہت سے قبیلے آباد ہیں۔
  • وہ پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر پانی کے چشموں کے قریب جھونپڑی بناتے ہیں۔
  • آدی باسیوں کے لیے جنگلی جانوروں کے شکار کی بڑی اہمیت ہے۔
  • مچھلی کے شکار میں عورتیں اور بچے بھی شوق سے حصہ لیتے ہیں۔
  • آدی باسی ہمارے ملک کی رنگا رنگ زندگی کا نہایت اہم حصہ ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

دوردرازانٹرنیٹ نے دوردراز کے علاقوں تک رسائی آسان بنا دی ہے۔
قدوقامتسرو کے درخت کو محبوب کے قدوقامت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
خانہ بدوش آدی باسی خانہ بدوش قبائل ہیں۔
دارومدارہندوستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔
دشوار گزارآدی باسی قبائل ہندوستان کے دشوار گزار جنگلات میں رہتے ہیں۔

صحیح بیان کے سامنے ✅اور غلط کےسامنے ❎ کا نشان لگائیے۔

  • بعض علاقے آبادیوں سے دور ہیں اور وہاں پہنچنا بہت مشکل ہے۔✅
  • جولوگ عام آبادی کے ساتھ مل جل کر نئے ڈھنگ سے زندگی گزارتے ہیں انھیں آدی باسی کہتے ہیں۔❎
  • وسطی ہندوستان کے قبیلے بڑی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔✅
  • زیادہ تر قبائلی آبادی کھیتی باڑی کر کے اپنا پیٹ پالتی ہے۔ ✅
  • پانی میں تیرتے ہوئے ہرنوں کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔❎
  • پانی میں سفوف ملتے ہی مچھلیاں اسے کھانے لگتی ہیں ۔ ❎
  • آدی باسیوں کے طور طریقے اور رسم و رواج قدیم ہندوستان کی یاد دلاتے ہیں۔✅

ان لفظوں کے واحد لکھیے:

جمعواحد
جنگلاتجنگل
ترقیاتترقی
مشکلاتمشکل
مکاناتمکان
قبائلقبیلہ
خصوصیاتخصوصیت
ممالکملک
مقاماتمقام
مذاہبمذہب

عملی کام:

آدی باسیوں کے بارے میں دس جملے لکھیے۔

دور دراز مقامات پر کچھ لوگ عام آبادی سے الگ اپنے پرانے ڈھنگ سے زندگی گزارتے ہیں انہیں آدی باسی کہتے ہیں۔
آدی باسی ہمارے ملک کی رنگا رنگ زندگی کا نہایت اہم حصہ ہیں۔
ہندوستان کے آدی اسی قبیلے تین بڑے خطوں میں سے ہیں۔
ایک جنوبی ہند کے ساحلی سمندر کے پہاڑی علاقوں میں ، دوسرے وسطی ہندوستان کے پہاڑوں اور جنگلوں میں اور تیسرے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔
وسطی ہندوستان کے قبیلے بڑی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔
وہ پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر پانی کے چشموں کے قریب جھونپڑی بناتے ہیں۔
آدی باسیوں کے لیے جنگلی جانوروں کے شکار کی بڑی اہمیت ہے۔
آدی باسیوں کی گزر بسر کا انحصار جنگلوں کی پیداوار اور شکار پر ہے۔
قدرت نے آدی باسیوں کو قناعت کی بڑی دولت دی ہے۔ یہ اپنی محنت مشقت کی زندگی کو ہنسی خوشی گزارتے ہیں۔
آدی باسیوں کے طور طریقے اور رسم و رواج قدیم ہندوستان کی یاد دلاتے ہیں۔