Advertisement

پروفیسر عبدالقادر سروری کا شمار اردو کے اہم تنقید نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں مغرب کے اثرات نمایاں ہیں۔ انہوں نے شعر و ادب کے متعلق بحث کرتے ہوئے ارسطو، افلاطون اور میتھو آرنلڈ، ان سب کے خیالات کو پیش کیا ہے اور بعض مباحث بھی ایسے چھوڑے ہیں جن کا پتہ ان سے قبل اردو تنقید میں نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر سائنس اور شاعری کی بحث اور شاعری کی اقسام پر اظہار خیال۔ لیکن ان سب میں پروفیسر سروری کے اپنے خیالات کم ہیں اور دوسروں کو خیالات زیادہ ہیں۔ ان کو تنقید کی اس خصوصیت نے اس کو صحیح معنوں میں مغرب سے استفادہ کی عملی شکل بنا دیا ہے۔

Advertisement

ان کے تنقیدی خیالات کا پتہ ان کی تمام تنقیدیتحریروں میں چلتا ہے۔ "دنیائے افسانہ” ” کردار اور افسانہ” "اردو مثنوی کا ارتقاء” ان سب میں کچھ تنقیدی خیالات مل جاتے ہیں لیکن "جدید اردو شاعری” کے پہلے لکھتے ہیں۔ انہوں نے ان نظریات کو ایک مربوط شکل میں پیش کردیا ہے۔

Advertisement

جہاں تک ان کے تنقیدی نظریات کا تعلق ہے ان میں کوئی جدت نہیں ہے، وہ سب کے سب مغرب کے اثرات کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ان کے خیال میں بغیر تخیل اور جذبات کے زور پیدا نہیں ہو سکتا۔

Advertisement

شعر و شاعری پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے یونانیوں کے نظریات شعور کو اپنے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔‌ وہ افلاطون کے نظریے کو ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

"افلاطون شعر کو تقلید اشیاء سمجھتا تھا اور شاعر کو مقلد، اپنی منطق کی رو سے تخلیق اشیاء کے جو تین مدارج ہیں، پیدا کرنے’ بنانے’ اور تقلید قائم کے’ اس نے قائم کیے تھے۔ ان میں شاعری کو وہ سب سے آخر رکھتا ہے۔

Advertisement

پروفیسر سروری نے اردو میں سب سے پہلے سائنس اور شاعری کے موضوع پر بحث کی ہے۔ وہ شاعری کو سائنس کا مدمقابل اور اور تکمیلہ دونوں سمجھتے ہیں۔ یہ بحث بھی ان کے براہِ راست مغربی تنقید سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔

ان کے نزدیک شاعری کا کام جذبات میں اشتعال پیدا کرنا ہے۔ یہ خیال بھی نیا نہیں ہے۔ متعدد نقاد اس خیال کا اظہار کرچکے ہیں لیکن پروفیسر سروری نے اس خیال کی جو کیفیت بیان کی ہے اور جس تفصیل سے اس کو بیان کیا ہے وہ اہم ہے۔ وہ لکھتے ہیں "شعر کا تعلق حیات کے ساتھ نہایت گہرا ہے، ہماری پوشیدہ قابلیتوں کو سنوارنے اور ہمارے جمالی جذبات کو ابھارنے اور اس طرح کے فوائد سے ہمارے زیادہ سے زیادہ بہرہ ور ہونے میں شعر کو بڑی حد تک دخل ہے۔شعر کی اہم ترین خوبی اس کی قوت انکشاف ہے”

Advertisement

اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ وہ جمالی جذبات کو تسکین دینے کو شعر کا مقصد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک جگہ صاف لکھا ہے کہ "شعر ایک صنعت ہے اس لئے اسکا مطبع نظر ہمیشہ انبساط قلب ہونا چاہیے”

یہ تمام خیالات بھی بڑی حد تک مغرب کے اثرات کا نتیجہ ہیں۔ غرضیکہ پسروفیسر سروری کے یہ تمام نظریات اور ان کے پیش کرنے کا یہ انداز بتاتا ہے کہ انہوں نے مغرب سے اثر قبول کیا ہے۔ وہ انگریزی شاعروں سے افسانہ نگاروں اور ادیبوں کے اقوال بھی نقل کرتے ہیں۔ بعض جگہ انہوں نے بالکل انگریزی کے خیالات اخذ کر لیے ہیں اور وہ خود اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ مثلاً "دنیائے افسانہ” میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

Advertisement

"یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ فن افسانہ نگاری پر یہ پہلی کتاب ہے کہ مغربی زبانوں میں افسانہ نگاری پر کافی لٹریچر پیدا ہوچکا ہے اور یہ مختصر سی کتاب ادبیات کی عظیم الشان کمی کو پورا اس وجہ سے نہیں کر سکتی کہ اس میں خود ہم کو شبہ ہے کہ آیا اپنے موضوع پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے یا نہیں۔ تاہم اردو زبان کے لئے اس موضوع پر کتابی شکل میں یہ پہلی کوشش ہے۔”

اس سے واضح ہوتا ہے کہ انگریزی کے کافی لیٹریچر سے انہوں نے استفادہ کیا ہے اور انہی خیالات پر اپنی کتاب کی بنیاد رکھی ہے اور دنیائے افسانہ کو دیکھنے کے بعد اس کا یقین ہو جاتا ہے کہ انہوں نے ان میں سے اکثر خیالات انگریزی سے لئے ہیں۔

Advertisement

پروفیسر سروری نے عملی تنقید کی طرف کوئی خاص انہماک ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس اس کے مواقع موجود تھے۔ انہوں نے تصنیفات: ‘اردو مثنوی کا ارتقاء’ اور ‘جدید اردو شاعری’ میں اپنے موضوعات کا تاریخی جائزہ لیا ہے۔ اس میں تنقیدی پہلو بہت ہی کم ہے۔ حالانکہ اس کو تمام تر تنقیدی بھی بنایا جا سکتا تھا۔

بہر حال جو کچھ تھوڑے بہت عملی تنقید کے نمونے ان کے یہاں ملتے ہیں ان کو دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں قائم کیے ہوئے اصولوں کو ضرور پیش نظر رکھا ہے۔

Advertisement

جدید اردو شاعری میں انھوں نے جن شاعروں پر تنقید کی ہے ان میں خاص طور پر ان باتوں کو پیش نظر رکھا لکھا ہے کہ معنوی اور صوری پہلوؤں کی طرف ان کی توجہ رہتی ہے۔جذبات اور ان کی نوعیت، تخیل،اسلوب، زبان اور انداز بیاں یہ سب چیزیں ان کے پیش نظر رہتی ہیں۔ادبی فضا اور مختلف شاعروں کے اثرات کسی مخصوص شاعر پر وہ ضرور دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی مغربی شاعروں اور ادیبوں سے بھی مقابلہ کرتے ہیں۔

بہرحال مجموعی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو پروفیسر عبدالقادر سروری کی تنقیدیتحریروں میں مغرب کے اثرات مختلف زاویوں سے پڑے ہوئے نظر آئیں گے لیکن اس میں اخذ و ترجمے ہی کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement