فارسی تنقید

فارسی تنقید میں شاعری کی پرکھ کے اصول عربی تنقید کی روایت سے اخذ کیے گے ہیں۔فارسی میں شاعری کی تنقید شروع سے ہی دیکھی جا سکتی ہے۔شروع شروع میں فارسی تنقید میں عربی کی طرح علم معانی اور علم بیان وغیرہ پر توجہ دی جاتی تھی۔دراصل فارسی تنقید عربی تنقید کا ہی تسلسل ہے یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عربی کی تنقیدی روایت فارسی کے سانچوں میں ڈھل گئی۔

لیکن فارسی کی ادبی تنقید نے عربی کے تنقیدی تصورات سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اپنی الگ شناخت بنائی۔فارسی تنقید کو ایک خودمختیار تنقیدی روایت کی حیثیت دینے میں جن نقادوں نے اہم رول ادا کیا ان میں نظامی عروضی سمرقندی، شمس قیس رازی اور امیر عنصر المعالی کیکاوس بن اسکندر کے نام قابل ذکر ہیں۔

فارسی تنقید کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے جس مصنف پر سب سے پہلے نظر ٹھہرتی ہے وہ ایک ایرانی بادشاہ امیر عنصر المعالی کیکاوس بن اسکندر ہے۔اس کا زمانہ اب سے تقریبا ایک ہزار سال پہلے کا ہے۔اس نے اپنے بیٹے گیلان شاہ کے لئے ایک کتاب ‘قابوس نامہ‘ لکھی۔یہاں ایک باپ اپنے بیٹے کو طرح طرح کی نصیحتیں کرتا نظر آتا ہے اور باتوں کے علاوہ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ شاعری میں کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

عنصرالمعالی کہتا ہے کہ شعر اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے کہا جاتا ہے اس لیے اسے قابل فہم ہونا چاہیے۔یہ کہہ کر وہ ابلاغ کا نازک مسئلہ چھیڑ دیتا ہے یعنی فنکار اپنی بات دوسرے تک کس طرح پہنچاۓ۔کہتا ہے شاعر کو ایسی بات نہ کہی چاہیے جو سننے والے کے تجربے میں نہ آئی ہو اور وہ اس کے سمجھنے سے قاصر ہو۔شاعر کو بیان کی پیچیدگی سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔وہ شاعری میں حسن کاری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔

استعاراتی زبان کا استعمال اس کے نزدیک شاعری کے لیے نہایت مناسب ہے بشرطیکہ استعاروں تک عقل کی رسائی دشوار نہ ہو۔مشکل الفاظ کا استعمال اس کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔شیرینی زبان اور لطف پیان اس کی رائے میں بہرحال ضروری ہے۔علم عروض سے واقفیت کو وہ شاعر کے لیے لازمی قرار رہتا ہے۔لیکن اس کا غلام بن کے رہ جانے کو وہ پسند نہیں کرتا۔

‘قابوس نامہ‘ کے کچھ عرصے بعد ‘چہار مقالہ‘ لکھا گیا۔نظامی عروضی اس کا مصنف ہے۔فارسی تنقید نگاروں میں نظامی سمرقندی کا نام سب سے اہم ہے ان کی کتاب ‘چہار مقالہ’ بہت مقبول ہوئی۔نظامی شاعری کو ایک فن قرار دیتا ہے اس کے نزدیک شاعری ایک ایسا فن ہے جس سے شاعر بڑے سے بڑے کام لے سکتا ہے۔اس کے نزدیک تخیل کی بھی بڑی اہمیت ہے۔شاعری کی قدروقیمت کا اندازہ وہ اس بات سے لگا تا ہے کہ ان کے اشعار کتنے مقبول ہوئے اور کتنے اشعار زبان عام ہوئے ۔

نظامی کا ماننا ہے کہ شاعر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ علم عروض سے واقف ہو۔علوم شعر میں سب سے زیادہ اہمیت بحر اور وزن سے خارج شعر کو نہیں مانتے۔شاعری کے تمام فنی لوازمات کو وہ ضروری قرار دیتے ہیں۔کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی فن کار ان کی تخلیق میں وہ تمام خصوصیات شامل کر دیں جو اس کے فن کے لیے ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ نظامی نے اپنی تنقیدی کتاب ‘چہار مقالہ‘ میں ان تمام باتوں کی وضاحت کی ہے۔نظامی نے اچھے شعر کی خصوصیات کے سلسلے میں جو کچھ بھی کہا ہے وہ اس کتاب میں موجود ہے۔ان کے خیالات سے شاعر اور شاعری کے بارے میں کچھ نئی اور اچھوتی باتیں ضرور سامنے آتی ہیں۔

نظامی شاعری کو ایسی صنعت بتاتا ہے جو اعلی کو ادنیٰ اور ادنیٰ کو اعلیٰ کر دکھانے کی قدرت رکھتی ہے۔اس کے نزدیک اعلی درجے کی شاعری میں اختصار و جامعیت کی صفت پائی جانی چاہیے۔عربی نقادوں کی طرح اساتذہ کے کلام کے مطالعے پر نظامی بھی زور دیتا ہے۔اس کے خیال میں شاعر کے لیے ضروری ہے کہ بیس ہزار ںشعر اس کی نظر سے گزر چکے ہوں۔

چہار مقالہ‘ کے بیس برس بعد شاعری سے متعلق ایک کتاب ‘حدائق السحر فی دقائق الشعر‘ لکھی گئی۔اس کا مصنف فارسی شاعر رشیدالدین وطواط ہے۔یہ شاعری میں صنائع کے استعمال کو بہت اہمیت دیتا ہے۔یہ کتاب اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔

شمس قیس رازی بھی فارسی کا ایک اہم نقاد گزرا ہے۔اس کا زمانہ اب سے آٹھ سو برس پہلے کا ہے۔اس کی کتاب کانام ‘المعجم فی معاییر اشعار العجم‘ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شعر کو اتنا سہل ہونا چاہیے کہ جب پڑھا یاسنا جائے تو آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔شاعر کو مناسب وزن اور سہل قافیوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔شعر میں استعمال کئے جانے والے لفظ ایسے ھوں جو کانوں کو خوشگوار لگیں۔

تشبیہ و استعارہ کے استعمال کی وہ سفارش کرتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ذہن کو مفہوم تک پہنچنے میں دشواری نہ ہو۔وہ شاعروں کو قدما کے نقش پر چلنے کا مشورہ دیتا ہے اور روایت سے انحراف کو صرف اس صورت میں پسند کرتا ہے کہ اس سے شاعری میں کوئی خوشگوار اضافہ ہوتا ہو۔

یہ تھا فارسی تنقید کے ارتقا کا مختصر سا جائزہ۔یہ بالکل واضح ہے کہ فارسی تنقید عربی تنقیدکی خوشہ چین ہے۔بعض معاملات میں تو یہ عربی تنقیدکی کاربن کاپی معلوم ہوتی ہے۔فارسی تنقید بھی ہر دور میں کسی نہ کسی حد تک اخلاقی تعلیم پر زور دیتی رہی ہے۔

مواد کی اہمیت کا ہر زمانے میں اعتراف کیا جاتا رہا ہے اور سنجیدہ موضوعات کو ہمیشہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے لیکن زیادہ توجہ ان امور پر رہی ہے کہ عبارت سہل و آسان سمجھ میں آجانے والی ہو،الفاظ شریں ہوں،کافیے درست ہوں،فصاحت و بلاغت کا خاص خیال رکھا گیا ہو،تشبیہات و استعارات ضرور ہوں مگر ایسے کہ جن کے سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔کلام تعقید اور پیچیدگی سے پاک ہو،شاعر عروض کا غلام نہ ہو لیکن اس سے پوری واقفیت رکھتا ہو۔خلاصہ یہ کہ یہاں بھی تنقید کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔–معانی،بیان،بدیع،عروض اور علم قافیہ۔اس طرح یہ ثابت ہوا کہ فارسی تنقید میں ان چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے۔

Close