اردو تنقید کا آغاز و ارتقا

تنقیدی شعور کے بغیر ادب کا تصور ممکن نہیں۔یوں سمجھئے کہ ادب کے ساتھ ہی ادبی تنقید کا آغاز ہو جاتا ہے۔تخلیقی عمل میں تنقیدی صلاحیت برابر کارفرما رہتی ہے یعنی جب کوئی ادیب یا شاعر کسی فن پارے کی تخلیق میں مشغول ہوتا ہے تو تنقیدی شعور اس کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔کسی تخلیق کا مطالعہ کرتے وقت ہم اس بات سے اکثر بے خبر ہوتے ہیں کہ فنکار نے اسے آخری شکل دینے تک کتنی محنت کی ہے۔

ایک ایک لفظ کو کتنی بار بدلا ہے، الفاظ کی ترتیب میں کتنی دفعہ ردوبدل کیا ہے اور ہم تک پہنچنے سے پہلے ایک ایک سطر کیسی کیسی تبدیلیوں سے دوچار ہوئی ہے۔فنکار کی اس محنت کو تنقیدی محنت کہا جاتا ہے۔جس پارے پر یہ محنت جتنی زیادہ ہوئی ہوگی وہ اتنا ہی زیادہ دلنشین، پر اثر اور کامیاب ہوگا۔مقدمہ شعر و شاعری میں حالی نے لکھا ہے کہ رومی شعر ورجل کا معمول تھا کہ صبح کو شعر کہتا اور دن بھر اس کی نوک پلک سنوارتا۔اس کا خیال تھا کہ:

"جس طرح ریچھنی اپنے بچوں کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت بناتی ہے اسی طرح شاعر بار بار ردوبدل کرکے اپنے شعروں کو سنوارتا ہے اور بہتر بناتا ہے”۔

ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ:

"بعض لکھنے والوں کی تخلیق دوسروں سے اس لیے بہتر ہوتی ہے کہ ان کا تنقیدی شعور زیادہ ترقی عطا ہوتا ہے”
یہ تنقید کا وہ عمل ہے جو فنکار سے تعلق رکھتا ہے۔کوئی تخلیق جب مکمل ہو کہ دوسروں تک پہنچتی ہے تو وہاں تنقید کا اظہار ان کی پسند یا ناپسند کی شکل میں ہوتا ہے۔مشاعروں کی داد یا نقطہ چینی بھی تنقید کی ہے جو ضبط تحریر میں نہیں آتی اور وقت گزرنے پر ذہنوں سے محو ہو جاتی ہے۔

کوئی شاعر جب اپنے شاگرد کے کلام پر اصلاح کرتا ہے،کوئی لفظ رد کرکے دوسرا لفظ تجویز کرتا ہے یا الفاظ کی ترتیب بدل دیتا ہے یا کسی شعر کو یکسر قلم زد کر دیتا ہے اور اکثر اس کا سبب بھی بیان کر دیتا ہے تو گویا وہ اپنی تنقیدی نظر کا استعمال کرتا ہے اور اسکی یہ تنقیدی رائے شعری مسودات میں عموما محفوظ رہ جاتی ہے لیکن جب ہم تنقید کے اولین نمو نو کی جستجو کرتے ہیں تو ہماری نظر قدیم شعراء کے دواوین پر جا کر ٹھہر جاتی ہے۔

اردو ہی نہیں بلکہ تمام عالمی ادب میں ادبی تنقید کے قدیم ترین نمونے شعری مجموعوں اور دیوانوں میں ملتے ہیں۔اکثر شاعروں نے اپنی نظموں اور شعروں میں یہ بتایا ہے کہ ان کے نزدیک شعر کسے کہتے ہیں اور اچھی شاعری میں کیا خوبیاں ہونی چاہیئے۔

مثلا شیکسپیئر کے نزدیک اپنے گرد پھیلی ہوئی دنیا کو گہری نظر سے دیکھنے،قوت تخیل سے اس میں رنگ آمیزی کرنے اور پھر لفظوں میں اس کی خوب بہو تصویر اتار دینے کا نام شاعری ہے۔حسان بن ثابت کی نظر میں اچھا شعر وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو لوگ کہ اٹھیں: سچ کہا ہے۔عرفی کی رائے میں وہ شعر اچھا کہلانے کا مستحق ہے جو حسن صورت کے ساتھ حسنِ معنی بھی رکھتا ہو۔

ہماری قدیم شعرا میں سب سے پہلے وجہی نے اپنے کلام میں شاعری کی بابت اپنی رائے ظاہر کی ہے۔اس کے نزدیک شاعر اسرار غیب کو بے نقاب کرتا ہے۔

ہوا جیو جب شعر یو بولنے
خزینے لگیا غیب کے کھولنے

وہ شعر میں لفظ اور معنی دونوں کو برابر کی اہمیت دیتا ہے۔اس کے علاوہ ربط کلام اور سلاست کو وہ کلام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

غواصی کی رائے میں شاعری کو سلیقہ درکار ہے۔شاعر کو انتخاب و‌ نشست الفاظ کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔اس کے نزدیک نئی نئی تشبیہیں شعر کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ابن نشاطی شعر گوئی میں غور و فکر کو اہمیت دیتا ہے اور درس اخلاق کو شاعری کے لیے ضروری بتاتا ہے۔

ولی کو اس پر فخر ہے کہ اس کا کلام معنی سے لبریز ہے اور اس لیے اثر انگیز ہے۔سراج اپنے شعروں کو رواں اور پرسوز بتاتے ہیں۔آبرو کے نزدیک شاعری معنی آفرینی ہے قافیہ پیمائی نہیں۔یہ تنقیدی نظریات کا منظوم اظہار ہے۔ شعر میں قافیہ، ردیف اور وزن کی پابندی خیال کے مربوط اور مسلسل اظہار میں دشواری پیدا کرتی ہے۔لہذا اپنے قدیم شعری سرمائے کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے ہمیں قدیم ترین تنقیدی افکار کی جستجو ہوتی ہے جو نثر کے پیرائے میں بیان ہوئے ہوں۔اور ان کے لیے ہمیں اردو شاعروں کے تذکروں کی ورق گردانی کرنی پڑتی ہے۔

شعرائے اردو کے تزکرے ہمارا قدیم اور بیش قیمت ادبی سرمایہ ہیں اور ہماری زبان میں تنقید کی بنیاد انہی کے ذریعے پڑی۔ان تذکروں میں تنقید کے جو نمونے ملتے ہیں انہیں باقاعدہ تنقید کہنا تو مشکل ہے البتہ انہیں اردو تنقید کا پہلا نقش ضرور کہا جاسکتا ہے۔

تذکرے میں تفصیل کی گنجائش نہیں ہوتی عام طور پر تذکرہ نگار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ شاعروں کو اپنے تذکرے میں جگہ دے اس لیے وہ مجبور ہوتا ہے کہ شاعر کا مختصر تعارف کرائے، کم لفظوں میں اس کے کلام پر رائے دے اور آخر میں نمونے کے طور پر دو چار شعر پیش کردے۔چناچہ تذکرہ نگار سے شاعر کی مفصل سوانح،مکمل سیرت اور بھرپور تنقید کی توقع عبث ہے۔

اس اختصار سے مایوس ہو کر ہمارے بعض نقادوں نے ان تذکروں کو ردی کہ ایسا ڈھیر قرار دیا جس کا نذرآتش کر دیا جانا ہی بہتر ہے۔کلیم الدین احمد کو ان تذکروں سے اختصار کے علاوہ پراگندگی اور جانبداری کی بھی شکایت ہے۔پول نے لکھا ہے کہ ان تذکروں میں شاعر کی زندگی کا بیان بہت مختصر ہوتا ہے اور کہیں تفصیل ملکی بھی ہے تو بے مصرف اور غیر تسلی بخش۔

اسی طرح شخصیت کی تعمیر بھی ناکافی ہوتی ہے اور اگر بھولے سے کسی شاعر کی شخصیت نگاری کی طرف بطور خاص توجہ کی جاتی ہے تو لفظوں کی کثرت میں معنی گم ہو جاتے ہیں۔تذکروں میں جو تنقیدی عنصر موجود ہے اس سےتو کلیم الدین احمد قطعی مایوس ہیں۔انہیں شکایت ہے کہ بیشتر شعرا کے کلام پر تنقید کی ہی نہیں جاتی اور جہاں کی جاتی ہے وہاں خیال رنگینی بیان اور مبالغہ آرائی کی نذر ہو جاتا ہے۔

کلیم الدین احمد کی اس رائے سے اتفاق مشکل ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تذکروں سے جو تنقیدی معیارمرتب ہوتے ہیں ان پر آج کے ادب کو پرکھنا ممکن نہیں لیکن یہ اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ تنقید کے جدید پیمانے قدیم ادب کو جانچنے کے کام نہیں آ سکتے۔

ہر تذکرے کی اپنی جداگانہ خصوصیات ہیں۔کوئی تذکرہ نگار شعراء کے حالات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے تو کسی کا زور سیرت نگاری پر ہے۔کوئی انتخاب کلام کو اولین فرض خیال کرتا ہے تو کسی کی تنقیدی رائے زیادہ وقعت رکھتی ہیں۔جن تذکروں میں تنقید کلام کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں میر کا نکات الشعرا،مصحفی کا تذکرہ ہندی،شیفتہ کا گلشن بے خار،اور محمد حسین آزاد کا آب حیات۔

تذکروں میں تنقید کے اس مختصر جائزے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ تذکروں میں تنقید موجود تو ہے مگر نقائص سے یکسر پاک نہیں۔ دراصل یہاں ہماری تنقید کا پہلا نقش ملتا ہے اور پہلا نقش بے عیب نہیں ہوسکتا۔ملک پر برطانوی تسلط کے بعد ہماری زبان نے مغربی تنقید سے جو کچھ سیکھا اس کے سامنے یہ قدیم تنقید زیادہ کارآمد نظر نہیں آتی اور یہ تذکرے بے مصرف نظر آتے ہیں ورنہ بقول حنیف نقوی کے حقیقت یہ ہے کہ:

"تذکرے ہمارے سرمایہ ادب کا ایک گراں قدر حصہ ہیں جسے نظرانداز کرکے نہ ہم اردو شاعری کے مطالعےہی میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ اپنے ادبی و تنقیدی شعور کے آغازو ارتقاء کی تاریخ مرتب کرسکتے ہیں۔ہم نے اپنے قدیم شاعروں کو انہیں تذکروں کے ذریعے جانا اور پہچانا ہے۔یہی نہیں بلکہ ہماری ناقدانہ بصیرت بھی انہیں تذکروں کی فضا میں پروان چڑھی ہے”

Close