جمالیاتی تنقید

ہمارے عہد کا ایک مفکر سارتر شاعری کو مصوری، موسیقی اور سنگتراشی کی صف میں جگہ دیتا ہے۔ظاہر ہے مصوری، موسیقی اور سنگتراشی۔۔ ان تینوں فنون لطیفہ (fine arts)کا صرف ایک ہی مقصد ہے۔۔لطف اندوزی یا حصول انبساط۔آسان لفظوں میں اس بات کو یوں کہہ لیجئے کہ ان تینوں چیزوں سے صرف مسرت حاصل کی جاسکتی ہے۔

انسان گانے سنے اور خوش ہوجائے، تصویر یا مجسمہ دیکھے تو اسے ایک سرور حاصل ہو اور بس! سارتر کا کہنا ہے کہ یہی کام شاعری ہے۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مصوری، موسیقی، سنگ تراشی اور شاعری میں وہ کیا شے ہے جو ہمیں خوش کر دیتی ہے۔وہ شے ہے حسن کاری۔

گویا اظہار حسن کے بغیر فنون لطیفہ کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔شعر اگر حسن مجسم ہے تو تنقید نگار کا یہ فرض ٹھرا کہ شعر میں حسن کی جتنے عناصر موجود ہیں ان کا پتا لگائے۔جو تنقید یہ ذمہ داری قبول کرے اسے جمالیاتی تنقید کہا جاتا ہے۔جارج سنتیانا اس تنقید کو تنقید ہی نہیں مانتا جو شعر میں حسن کاری کے عمل کو نظر انداز کرے۔آسبورن کے نزدیک ایسا تنقیدی فیصلہ جو شاعری میں حسن کاری کے عمل پر غور کیے بغیر کیا گیا ہو، درست نہیں ہو سکتا۔بالکل یہی بات نثر کے سلسلے میں کہی جاسکتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ تنقید نہ تو سائنس ہے اور نہ ہی ہو سکتی ہے۔اس پر کہا گیا کہ جمالیاتی تنقید تو سائنس کے آس پاس بھی نہیں پہنچ سکی کیونکہ یہی سمجھنا مشکل ہے کہ حسن آخر ہے کیا اور انسان کے حواس پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

لیکن آج یہ کہنا ممکن ہے کہ جمالیاتی تنقید مکمل سائنس نہ بھی بن سکے تو سائنس کے نزدیک ضرور پہنچ سکتی ہے۔ایک نقاد کے الفاظ میں شعر اطلاعاتی زبان سے گریز کرتا ہے اس لیے شعر میں نظریے کی تلاش لا حاصل ہو سکتی ہے لیکن شعر میں جمالیاتی وسائل کی تلاش ضرور نتیجہ خیز ہو گی۔اس لیے شعر کا پارکھ ان وسائل کی دریافت میں سرگرداں رہتا ہے جن سے کسی فن پارے میں حسن و دلکشی پیدا ہوتی ہے گویا جمالیاتی تنقید کا مقصد ہے ادب میں جمالیاتی عناصر کی شناخت اور اس بنیاد پر کسی فن پارے کی قدر و قیمت کا تعین کرنا۔

شعر کی جمالیاتی قدروں کا اعتراف آج کی بات نہیں۔ جب تنقید کا باضابطہ وجود نہیں تھا اس وقت بھی شعر پڑھنے یا سننے والے کو اس کا احساس ضرور تھا کہ شیر میں یقینا کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو دل پر جادو سا کر دیتی ہے۔مگر اس جادو کا تجزیہ کرنا آسان نہ تھا اس لیے ناقدین بھی سرسری طور پر تعریفی کلمات ادا کرکے یہ سمجھتے رہے کے تنقید کا حق ادا ہو گیا۔یہاں تک کہ اٹھارہویں صدی کے وسط میں بام گارڈن نے فلسفہ ادب کے لیے ایک اصطلاح ‘aesthetics’استعمال کی۔اس کے بعد سے اس علم میں ترقی کرنی شروع کی۔

ڈیکارٹ،کانٹ اور گوئٹے وغیرہ نے فلسفہ جمال پر غور کیا وہ اس سلسلے میں اہم باتیں کہیں۔ان کے بعد ہیگل کا نام آتا ہے۔ اس نے کہا کہ حیاتی صورتوں کے ذریعے تصور کے اظہار کا نام حسن ھے۔ہیکل بہت بڑا مفکر گزرا ہے اس کے خیالات نے یورپ کو بہت متاثر کیا۔جدید زمانے میں کروچے نے جو نظریہ پیش کیا وہ اظہاریت (expressionism) کہلایا۔اس نے کہا کہ فنکار جب کوئی فن پارہ پیش کرتا ہے تو اس سے پہلے اس کے ذہن میں فن پارے کی مکمل تحقیق ہوچکی ہے۔پیشکش اس تخلیق کا ظاہری عمل ہے۔اس نظریہ سے بہت سے مفکروں نے اختلاف کیا۔اس کے بعد جارج ستیانہ اور آسبورن وغیرہ نے اس میدان میں قابل قدر کارنامے انجام دیے۔

یہ جان لینے کے بعد کے شعر و ادب میں دلکشی وہ رعنائی کا راز وہ حسن ہے جو اس کے اندر موجود ہے یہ غور کرنا لازمی ہو جاتا ہے کہ حسن آخر ہے کیا۔اس مسئلہ پر صدیوں سے غور کیا جاتا رہا ہے حسن کے بارے میں علماء و مفکرین مختلف نظریہ پیش کرتے رہے ہیں۔قدیم یونانی حسن کو تنزیہی مانتے تھے۔یعنی خسن کی کوئی شکل نہیں اور اس سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ دیکھا نہیں جا سکتا تو اس کی تصویر کشی بھی ممکن نہیں لہٰذا یہ حسن فنون لطیفہ کے لیے بے کار و بے مصرف ٹھہرا۔ارسطو کے اثر سے حسن کا تجسیمی تصور عام ہوا۔مطلب یہ کہ حسن کی کوئی شکل نہیں ہوتی ہے اسے دیکھا جا سکتا ہے، اسے تصویر میں سمویا جاسکتا ہے۔حسن کا یہی تجسیمی تصور ہے جس سے فنون لطیفہ کو سروکار ہے۔

حسن ایک پراسرار شے ہے اور چند سطروں میں اس کی تعریف ممکن نہیں لیکن مفکرین اس سلسلے میں جن خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں یہاں ان کا خلاصہ پیش کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔بام گارڈن نے حقیقت اور حسن کو ایک ہی شے کے دو روپ بتایا اور کہا کہ جس چیز کا علم ہمیں تعقل کے ذریعے ہوتا ہے اسے حقیقت کہتے ہیں۔اور جس چیز کا علم احساس کے ذریعے ہوتا ہے اسے حسن کا نام دیتے ہیں۔

حسن کے بارے میں اور بہت سی باتیں کہی گئی ہیں مثلا یہ کہ حسن تناسب اور ہم آہنگی کا نام ہے یا یہ کہ حسن ترتیب و تنظیم کا نام ہے۔مگر اس کی تردید یہ کہہ کر کی گئی کہ آسمان پر بکھرے بے ترتیب ستارے بھی حسین لکھتے ہیں۔افلاطون بہت پہلے یہ کہہ چکا تھا کہ حسن ایک نور ہے جو توازن، ہم آہنگی، ترتیب و تناسب سے بالاتر ہے۔کسی نے کہا خوبصورت رنگ اور روشنی ہی حسن ہے۔

کسی کو سیدھی، ترچھی اور لہریا دار لکیروں میں حسن نظر آتا ہے۔اسی طرح کسی نے سادگی کو حسن کہا کسی نے صناعی کو۔اسی طرح جمال و جلال کی بحث چلی اور نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ہی حسن کے روپ ہیں۔ننھے سے پھول کی دلکشی بھی ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمالیہ کی عظمت و رفعت بھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ شعر و ادب میں حسن کس طرح جلوہ گر ہوتا ہے اور اس کی نوعیت کے ہوتی ہے۔سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ شعر و ادب میں حسن کاری کا عمل صرف ظاہری شکل وصورت تک محدود نہیں۔صدیوں پہلے افلاطون نے یہ کہہ کر کہ علوم، اعمال اور قوانین بھی حسین ہوتے ہیں اس حقیقت کی وضاحت کر دی تھی کہ حسن صرف پیشکش میں نہیں بلکہ جو چیز پیش کی جا رہی ہے اس نے بھی ہوتا ہے۔گویا شعر میں حسن معنی کی بھی کم سے کم اتنی ہی اہمیت ہے جتنی حسن صورت کی۔

یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ شاعری میں فکری عنصر کا سرے سے دخل نہیں نہیں۔ ہیگل نے بہت پہلے اس تصور کو غلط قرار دے دیا تھا کے وجدانیات کے سوا شاعری کو کسی چیز کی ضرورت نہیں۔اس کا خیال ہے کہ غوروفکر کے بغیر کامیاب شاہکار وجود میں آ ہی نہیں سکتا۔آرنلڈ میں شاعر کے لیے مفکر ہونا ضروری قرار دیا ہے۔

ایلیٹ نے بصارحت کہا ہے کہ شاعری بے شک کسی احساس یا جذبے کا اظہار ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شاعری معنی یا مضمون سے بے نیاز ہے یا بڑی شاعری میں اس کی ضرورت نہیں۔والٹر پیٹر نے ادب کو دو حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ اچھا ادب اور اعلی ادب۔جو ادب صرف حسن صورت رکھتا ہو اس سے اچھا ادب کہا جاسکتا ہے مگر اعلی ادب کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ظاہری حسن کے ساتھ موضوع کی عظمت بھی پائی جائے۔چناچہ جمالیاتی تنقید کے ضابطے میں پہلا مقام فکر کی عظمت کا ہوا۔

لفظوں اور فقروں کی خوش آویزی تخلیق کو دل آویز بناتی ہے۔بے شک منظر کے مطالبات الگ ہیں اور شاعری کے الگ مگر خوش آوازی دونوں کے لئے ضروری ہے۔نثر کا بھی ایک اہم ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ نثر ایسی ہونی چاہیے جسے باآواز بلند پڑھا جاسکے جبکہ شیر زیادہ کامیاب ہوگا اگر اسے گایا بھی جا سکے۔بقول سید عبداللہ: لفظوں کی خوش آوازی، لفظوں میں مناسب حروف کا خاص اہتمام، فکروں کی اندرونی ترکیب میں آواز فکری یا مصروں کے سلسلوں میں ترنم، صوتی مدوجزر،ترتیب الفاظ میں مناسب موسیقیت،ادب پارے کا طول اور اشعار یا نثر پاروں کی موزوں ضخامت،یہ سب امور حسن کی صفات میں شامل ہیں۔

نثر اور شاعری کی دنیائیں بقول سارتر ایک دوسرے سے الگ ہیں اور بہت دور۔جمالیاتی نقاد شعر سے ابہام کا مطالبہ کرتا ہے تو نثر سے وضاحت، صراحت اور قطعیت کا۔نثر ہو یا بیانیہ نظم موضوع کی مناسبت سے اس کے اختصار یا طوالت کا فیصلہ کرنا ہوگا،تصنیف کے مختلف حصوں میں تناسب اور موضوع ترتیب بھی ضروری ہے۔مصنف جملوں اور فقروں کے اختصار و طوالت کا فیصلہ بھی موضوع کا لحاظ رکھتے ہوئے کرتا ہے۔مثلا چھوٹے چھوٹے فکرے ہیجان کو ظاہر کرتے ہیں،فقرے اور جملے طویل ہوں تو غوروفکر کی حالت اور سکون کے عالم کا پتہ دیتے ہیں۔

شعر و ادب میں صناعی بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے مختلف صنعتوں سے کام لیا جاتا ہے۔نثر میں کم اور شاعری میں زیادہ مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ صنعت غالب نہ ہو جائے یعنی ایسا نہ ہو کہ ذہن اسی میں الجھ کے رہ جائے۔اگر ایسا ہوتو یہ عجیب ہے۔یہ وہ اہم نقعے ہیں جنہیں جمالیاتی نقاد کسی ادب پارے پر تنقید کے وقت پیش نظر رکھتا ہے۔

اس بنیادی گفتگو کے بعد اردو میں جمالیاتی تنقید کے آغاز ارتقاء کا جائزہ لینا چاہیے۔اس سلسلے میں ہماری نظر سب سے پہلے مشاعروں پر جاتی ہے جن کا رواج زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ایسے ثبوت موجود ہیں کہ مشاعروں میں داد کے ساتھ کبھی کبھی شعر کے حسن و قبح پر بھی روشنی ڈالی جاتی تھی۔اس وقت زیادہ زور زبان و بیان پر تھا۔تذکروں کی تنقید کا انداز بھی یہی ہے۔

جب تنقید نے ہماری زبان میں باقاعدہ فن کا درجہ حاصل کرلیا تو اہل نظر اس طرف متوجہ ہوئے۔ان کی تنقید کا غالب رحجان جمالیاتی ہی تھا۔ان بزرگوں میں محمد حسین آزاد،مولانا شبلی نعمانی،مہدی افادی،عبدالرحمن بجنوری،نیاز فتح پوری،محمد حسن عسکری،اثر لکھنوی،فراق گورکھپوری وغیرہ اہم ہیں۔ان بزرگوں نے ان وسائل کا پتہ لگانے کی کوشش ضرور کی جن سے شاعری میں حسن پیدا ہوتا ہے مگر دشواری یہ ہے کہ ان میں اکثر نقاد تنقید کرتے کرتے جذبات کی رو میں بہہ گئے اور ان کی تنقید میں تاثرات کا غلبہ ہوگیا۔

عہد حاضر میں ہمارے صف اول کے نقادوں نے مطالعہ ادب کا سائنٹفک طریقہ اختیار کیا۔انہوں نے شعر و ادب کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور اسے پرکھنے کے لیے قوانین مرتب کیے۔ ان کےنظام تنقید میں جمالیات نے اپنے استحاق کے مطابق جگہ پائی۔مثلا کلیم الدین احمد کی نظر شعر میں حسن اور فکر دونوں کو تلاش کرتی ہے۔انہیں ترقی پسندوں سے یہی شکایت ہے کہ انہوں نے آداب فن کو فراموش کردیا۔آل احمد سرور کو اصرار ہے کہ ادب پہلے ادبی تقاضوں کو پورا کرے۔اس کے بعد وہ زندگی کا خدمت گزار ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔پروفیسر سرور ان قدروں کو اہمیت دیتے ہیں جو ادب کو ابدی اورآفاقی بنا دیتی ہیں۔

پروفیسر خورشید الاسلام کا فنکار سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق میں فنی تکمیل موجود ہو۔ان کی رائے میں شاعری اگر موسیقی و مصوری نہ بن سکے تو وہ کامیاب شاعری نہیں۔ہمارے عہد کے مارکسی نقادوں نے بھی اعتدال کا راستہ اختیار کیا۔محمدحسن، قمر رئیس اور سید محمد عقیل ادب کی پیغمبری کو ہی کافی نہیں سمجھتے، بلکہ ادب میں حسن کاری کی اہمیت کے بھی قائل ہیں۔گوپی چند نارنگ نے اسلوبیاتی اور ساختیاتی تنقید کو فروغ دیا۔اور شعر و ادب کی تفہیم و تحسین کی نئی راہیں نکالیں۔شمس الرحمن فاروقی، وحید اختر، عنوان چشتی نے بھی جمالیات کی طرف خاطر خواہ توجہ کی۔

آخر میں اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ آدب کو ایک جمالیاتی تجربہ سمجھ کر پڑھنے والوں کے دو طبقے ہیں۔ایک ان لوگوں کا جو محض اپنے تاثر یا محض اپنے ذوق کی رہنمائی میں خط بھی اٹھاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر یہ فیصلہ بھی صادر کرتے ہیں کہ ادب پارے نے اپنے مقصد کی تکمیل کی یا نہیں۔یہ گروہ تاثراتی گروہ کہلاتا ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جو محض ذوق کی رہنمائی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ اپنی رائے کی تائید میں عقلی دلیلیں پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔یہ دلیلیں دراصل وہ اصول ہیں جو فلسفہ جمالیات کی صورت میں مرتب ومنظم موجود ہیں۔یہ مسلک جمالیاتی تنقید کا مسلک ہے اور اسی سے تنقید کی سائنٹیفک اساس قائم ہوتی ہے۔اس لئے سید عبداللہ کا یہ مشورہ صائب ہے کے جمالیاتی تنقید اور تاثراتی تنقید کو ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔.

Mock Test For Tanqeed And Tahqeeq Questions

جمالیاتی تنقید 1
Close