نفسیاتی تنقید

نئے علوم اور جدید سائنس نے عجیب رازوں کے چہروں سے نقاب ہٹائی ہے۔ان میں سے ایک راز یہ ہے کہ ہمارے ذہن کے اندر بہت سی انجانی دنیائیں آباد ہیں۔ہم جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں اس میں ان دنیاؤں کا عکس بہر طور پر نظر آتا ہے۔جو علم ہمارے ذہن کے ان تہ خانوں میں گس کر سراغ رسانی یا جاسوسی کا کام کرتا ہے اسے انسانی نفسیات کا علم کہتے ہیں۔

یہ علم ان باتوں سے سرو کار رکھتا ہے کہ انسان کس طرح سوچتا ہے، کس طرح محسوس کرتا ہے، اور کس موقع پر اس کے کیا جذبات ہوتے ہیں۔نفسیاتی تنقید زیادہ قدیم نہیں ہے لیکن تحلیل نفسی میں انسانی سوچ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔اور مذہب، معاشرہ، اخلاق اور جمالیات کے اصولوں میں انقلاب پیدا کردیا اور نفسیاتی تنقید بھی اصناف ادب اور تخلیقی سانچوں میں بنیادی تبدیلی کا باعث بن گئی۔نفسیاتی تنقید کی بنیاد پہلے فرائیڈ نے ڈالی۔اس نے ذہن کو تین طبقوں میں تقسیم کیا۔

علم نفسیات کی مدد سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارا ذہن ایک تہ خانے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کا سامان محفوظ رہتا ہے۔اسکا ایک حصہ تو وہ ہے جس کے بارے میں ہم خوب جانتے ہیں کہ اس میں کیا کیا موجود ہے۔اسے شعور کہتے ہیں۔دوسرے حصے میں گھپ اندھیرا ہے اس کے بارے میں خود ہمیں کچھ خبر نہیں یہاں وہ ساری چیزیں جمع رہتی ہیں جنہیں ہر طرف ناپسند کیا جاتا ہے مثلا جنسی خواشات،لالچ،خودغرضی وغیرہ۔مطلب یہ کہ انسان کی جو خواہشات پوری نہیں ہوتیں اور جو اتنی بری ہوتی ہیں کہ وہ ان کا ذکر بھی نہیں کرسکتا وہ اس اندھیری کوٹھری میں جا چھپتی ہیں۔

ذہن کے اس حصے کو ایک طرح کا گودام کہا جاسکتا ہے۔اس گدام می وہ مال بھرا رہتا ہے جس کی کہیں کھپت نہیں۔ذہن کے گوشے کا نام لاشعور ہے۔ہماری زندگی میں شعور سے زیادہ لا شعور کی کارفرمائی ہے۔اور اس کی دنیا شعور کی دنیا سے کہیں بڑی اور طاقتور ہے۔ہماری وہ خواہشات جو پوری نہیں ہوپاتیں اور جن کے ذکر تک کو سماج ناپسند کرتا ہے وہ دنیا کے خوف سے لاشعور میں جا چھپتی ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ شعور کے طبقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں لیکن شعور اس موقع پر پولیس کانسٹبل کا کام کرتا ہے اور انہیں پھر لاشعور کے طبقے میں دھکیل دیتا ہے۔

جب ھم سوجاتے ہیں تو ہمارے ساتھ شعور بھی سوجاتا ہے اس وقت ان دبی ہوئی، کچلی ہوئی خواہشوں کو کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور یہ خواب کی شکل میں ہمیں نظر آتی ہیں۔شعور اور لاشعور کے درمیان ایک تیسرا طبقہ بھی ہے جسے تحت الشعور کہا جاتا ہے۔یہاں وہ چیزیں ہوتی ہیں جنہیں پوری طرح بھولے بھی نہیں اور جو اچھی طرح یاد بھی نہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو دماغ پر زور دینے سے شعور کی سطح پر ابھر آتی ہیں۔ذہن کو ان تین طبقوں میں تقسیم کرنے والا فرائیڈ ہے۔وہ تحلیل نفسی کا موجد ہے تحلیل نفسی کا مطلب ہے ذہن کی تہہ میں چھپی ہوئی باتوں کا پتا لگانا۔

فرائیڈ کے شاگرد ایڈلر نے بھی بعض اہم باتیں کہی ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔اس کا خیال ہے کہ احساس کمتری انسانی زندگی میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔احساس کمتری کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز سے محروم ہوتا ہے تو وہ دوسروں کے مقابلے میں خود کو حقیر یا کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ایڈلر کہتا ہے کہ یہ احساس شروع سے آخر تک انسان کو گھیرے رہتا ہے۔

ایڈلر کہتا ہے کہ یہ احساس شروع سے آخر تک انسان کو گھیرے رہتا ہے۔مثلا کمزور جسم، کم ذہنی صلاحیت اور تجربے کی کمی کے سبب بچہ اپنے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔اس لئے یہیں سے اس میں کمتری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔آگے چل کر بھی اسے یہی تجربہ ہوتا ہے کہ وہ قدم قدم پر دوسروں کے سہارے اور سماج کی مدد کا محتاج ہے۔غرض انسان کو ساری زندگی احساس ا کمتری سے نجات نہیں ملتی۔

اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کون اسے کس طرح برداشت کرتا ہے اور کس کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔اسی ردعمل سے انسان کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔کوئی احساس ا کمتری پر قابو پانے کے لیے خود کو دوسروں سے برتر ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسے احساس برتری کہا جاتا ہے۔انگریزی شاعر پوپ بہت لاغر تھا۔وہ خود کو دوسروں سے زیادہ صحت مند ظاہر کرنے کے لئے تلے اوپر کئی کئی جوڑی کپڑے اور نیچے اوپر کئی کئی جرابیں پہن لیتا تھا۔غالب کی داد و دہش ان کی تنگدستی کا ردعمل تھی۔

ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ احساس کمتری سے چھٹکارہ پانے کے لیے انسان خیالی دنیا میں کھو جائے اور جو کچھ وہ حقیقت میں نہ پا سکا اسے فرضی دنیا میں پا لینے کی کوشش کرے یعنی فرض کرلے کہ یہ چیز اسے حاصل ہوگی۔مثلا میر تقی میر اپنی محبوبہ کو نہ پا سکے وہ دیوانے سے ہو گئے تو انہیں چاند میں ایک حسینہ نظر آنے لگی جو رات کی تنہائی میں چاند سے اتر کے ان کے پاس آ بیٹھتی اور ساری ساری رات باتیں کرتی تھی۔احساس کمتری سے نجات پانے کی یہ دوسری صورت خطرناک ہے۔اس سے طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیاں اور ذہنی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

فرائیڈ کے دوسرے شاگرد ژونگ کے نظریات اور زیادہ اہم ہیں۔اس نے اجتماعی لاشعور کا نظریہ پیش کیا۔کہتا ہے جس طرح کسی فرد کی زندگی میں اس کا شخصی لاشعور اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرح اجتماعی لاشعور بھی انجانے طور پر کام کرتا رہتاہے۔اجتماعی لاشعور ان تجربات کی اجتماعی یاداشت ہے جن سے عالم انسانیت گزرتا ہے یہ تجربات انسانی لاشعور میں محفوظ رہتے ہیں اور ممکن نہیں کہ وقتن فوقتن ان کا اظہار نہ ہو۔زونگ دیومالا اور داستانوں کی اہمیت پر بہت زور دیتا ہے۔ان کو وہ قوموں کی زندگی میں وہ درجہ دیتا ہے جو خوابوں کی انفرادی زندگی میں حاصل ہے۔

ادب اصل میں انسان کا مطالعہ ہے اور انسان کو اس کے ذہن میں اترے بغیر سمجھنا ممکن نہیں۔اس لیے انسانی نفسیات سے آگہی کے بغیر ادب کا خالق ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔انیس کو دبیر پر فوقیت حاصل ہے تو اس کا خاص سبب یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کو سمجھنے میں دبیر سے کہیں آگے ہیں۔

لیکن نفسیات کا علم بہت پیچیدہ ہے۔انسانی ذہن بھول بھلیاں کے مانند ہیں کہ اس میں اترنے کے بعد کبھی راستہ ملتا ہے، کبھی نہیں ملتا۔جو انسان جتنا حساس جتنا وسیع المطالعہ جتنے مختلف النوع تجربات کا حامل ہوگا اس کا ذہن اتنا ہی زیادہ پر پیچ ہوگا۔ایک اچھے فنکار میں یہ تینوں چیزیں موجود ہوتی ہیں اس لیے اس کی ذہنی پیچیدگیوں کو سمجھنا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔لیکن تنقید نگار یہ ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور ہے۔

تنقید نگار جب یہ جاننا چاہتا ہے کہ کسی ادبی وفنی کارنامے کے وجود میں آنے کے کیا اسباب تھے تو وہ خارجی اور داخلی دونوں اسباب پر غور کرتا ہے۔مثلا وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ فن پارہ کن معاشی اور معاشرتی حالات اور کس ادبی ماحول کی پیداوار ہے لیکن اس کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس تخلیق کے وقت فنکار کی ذہنی کیفیت کیا تھی اور وہ کیا چیزیں تھیں جو اس کے ذہن میں ہلچل سی مچائے ہوئے تھیں جن کے سبب یہ تخلیق وجود میں آئی۔

لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔نفسیاتی معالج جب کسی نفسیاتی مریض کا علاج کرتا ہے تو مرض کی تشخیص اور مرض کے اسباب جاننے کے لیے اسے مریض سے متعلق معلومات کی ضرورت ہوتی ہے جس کا فراہم ہونا آسان نہیں ہوتا۔اسی لئے نفسیاتی معالج کو اکثر ناکامی ہوتی ہے۔

نفسیاتی تنقید نگار کا کام اور بھی دشوار ہے کبھی کبھی تو اس کا موضوع ایسا فن پارہ یا ایسا فنکار ہوتا ہے جوس تنقید نگار سے سینکڑوں برس یا ہزاروں میل کے فیصلے پر ہوتا ہے۔یہ دوری نہ ہو تب بھی ایک دشواری ہے۔ مریض تو شاید اپنے مرض سے چھٹکارا پانے کے لیے ڈاکٹر سے سچ بول دے لیکن فنکار سے سچ اگلوا لینا کوئی سہل بات نہیں۔میر خان آرزو کو ایک جگہ اپنا محسن بتاتے ہیں دوسری جگہ جانی دشمن۔

غالب کے ہیں خود کو شیعہ لکھتے ہیں کہیں سنی۔کبھی کہتے ہیں میں نے فارسی ملا عبدالصمد سے سیکھی کبھی کہتے ہیں کہ بے استادا نہ کہلاؤں اس لیے یہ کردار میں نے خود گڑھ لیا ہے۔ایسے میں نفسیاتی تنقید نگاروں کی دشواریاں اور بڑھ جاتی ہیں لیکن ہم یہ تسلیم کرنے پر بھی مجبور ہیں کہ یہ گتھیاں کسی حد تک سلجھائی جا سکتی ہیں تو وہ بھی تحلیل نفسی۔

فنکار کا ذہن عالم انسان کے ذہن سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس کے ذہن کی تہ یعنی لاشعور میں کچھ ایسی قوتیں بھی سرگرم عمل رہتی ہیں جن کے بارے میں اور تو اور خود فنکار بھی کچھ نہیں جانتا۔یہ قوتیں کسی فن پارے کی تخلیق کا محرک بن جاتی ہیں اور بالکل انجانے طور پر اس تخلیق میں سرایت کرجاتی ہیں۔ انھیں ڈھونڈ نکالنا ماہر نفسیات کے لیے بھی آسان نہیں لیکن وہ اپنی سی کوشش کرتا ہے اور تھوڑا بہت جو کچھ سمجھ پاتا ہے کبھی کبھی اس سے اہم نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔

بھرپور اور کامیاب تنقید وہ ہے جو کسی ادبی و فنی کارنامے کو کسی ایک عینک اور کسی مخصوص زاویے سے نہ دیکھے بلکہ جتنے وسائل اور جتنے طریقے ممکن ہیں ان سب کو استعمال کرے۔ پروفیسر آل احمد سرور نے اس سلسلے میں لکھا ہے پروفیسر آل احمد سرور نے اس سلسلے میں لکھا ہے:
"تنقید کو نفسیات کی دلدل میں گرفتار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ نفسیات کا علم ہمارے لیے بڑا مفید ہے مگر وہ بڑا پر فریب بھی ہے۔وہ اس آئنے کی طرح ہے جو بڑی چیزوں کو چھوٹا اور چھوٹی چیزوں کو بڑا کر دیتا ہے۔وہ راۓ کو پہاڑ کر کے دکھاتا ہے۔ وہ ایک گروہ کھولتا ہے مگر سینکڑوں ڈال دیتا ہے”۔

انگریزی میں آئی اے رچرڈ سن اور آڈن وغیرہ نے نفسیاتی تنقید کے اچھے نمونے پیش کیے لیکن اردو میں خالص نفسیاتی تنقید کے نمونے کمیاب ہیں۔

وحید الدین سلیم نے کچھ تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں جو ‘افادات سلیم‘ کے نام سے شائع ہوئے ہیں ان میں سے چند مضامین میں نفسیاتی رجحانات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ ان مضامین میں ہمارے شاعروں کی نفسیات، تلمیحات، اردو شاعری کا مطالعہ اور سودا کی ہجو نظمیں قابل ذکر ہیں۔ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نفسیات کی مبادیات سے تو یقینا واقف تھے لیکن اس علم پر گہری نظر نہیں رکھتے تھے۔اس لئے کوئی خاص تنقیدی کارنامہ انجام نہیں دے سکے انھیں اردو کا پہلا نفسیاتی تنقید نگار کہنا غلط ہوگا۔

سلیم کے بعد مرزا محمد ہادی رسوا نے اردو شعر و ادب کو علم نفسیات کے وسیلے سے سمجھنے کی کوشش کی۔انہوں نے یورپ کے نفسیاتی تنقید نگاروں کی طرح شعروادب کے تجزیے میں تحلیل نفسی کو ایک کامیاب حربے کے طور پر استعمال کیا۔انہوں نے جو کچھ نظموں کے علائم و اشارات کو نفسیات کے زاویے سے جانچا اور پرکھا۔ان کے یہ مضامین مختلف رسالوں میں اور پھر "اس نظم میں” کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئے۔

نفسیاتی تنقید کے اصول و مباحث پر اردو میں ریاض احمد نے قابل قدر کام کیا ہے۔اس موضوع پر ان کی کئی کتابیں اور مضامین ہیں۔دوسرا اہم نام پروفیسر شبیہہ الحسن ہے۔جنھوں نے نفسیاتی تنقید کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی کوتاہیوں کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔

اردو میں نفسیاتی تنقید دبستان کی صورت میں نہیں۔انفرادی طور پر بعض نقادوں نے نفسیات سے مدد لی ھے ۔اس حوالے سے میرا جی کا نام بہت اہم ہے۔میرا جی کے ساتھ محمد حسن عسکری، سلیم احمد اور ریاض احمد کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں جنھوں نے نفسیاتی تنقید کے حوالے سے مضامین لکھے ہیں۔

اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ نفسیاتی تنقید اردو میں اس طرح سے مقبول نہیں ہوئی جس طرح سے دوسری تنقیدی دبستانوں کو اہمیت حاصل ہے۔

Close