Advertisement

ادبی تنقید کے اپنے اصول اور ضوابط ہیں جن کا احاطہ کرنے کے لیے ایک پوری کتاب درکار ہوتی ہے۔ یہاں اس مضمون میں نہایت اختصار کے ساتھ ان کا ذکر کیا جا رہا ہے اور دو تین صفحوں میں صرف اس کی گنجائش بھی ہے۔
فن پارے کو دو پہلوؤں سے دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔۔اس میں کیا پیش کیا گیا ہے، اور کس طرح پیش کیا گیا ہے۔اس کیا؟ اور کیسے؟ کے لئے ہماری زبان میں دو نام موجود ہیں۔۔۔’مواد اور ہیئت’۔ ان دونوں کا آپس میں جان و تن کا رشتہ ہے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا لیکن فن پارے کو سمجھنے اور سمجھانے اور اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے نقاد انھیں الگ الگ کر کے دیکھنے پر مجبور ہے۔

Advertisement

ادبی تنقید کا پہلا کام یہ دیکھنا ہے کہ فن پارے میں جو تجربہ پیش کیا گیا ہے یا یوں کہیے کہ جو جذبہ یا خیال سمویا گیا ہے اس کی کیا اہمیت ہے۔جو بات کہی گئی ہے وہ معمولی اور فرسودہ ہے یا تازہ اور فکر انگیز!۔
ادبی تنقید کا اگلا قدم یہ دیکھنا ہے کہ فنکار اپنے تجربے کو پر اثر انداز میں پیش کر سکا ہے یا نہیں۔کیونکہ پیشکش کا اندازہ ہی وہ شے ہے جو کسی فن پارے میں دلکشی پیدا کرتا ہے اور اس کے لیے فنکار کو متعدد فنی وسائل سے کام لینا پڑتا ہے۔

Advertisement

جس طرح مصور اپنے تجربے کو رنگوں کے ذریعے پیش کرتا ہے اسی طرح شاعر یا ادیب اپنے خیالات وجذبات کو لفظوں کے ذریعے پیش کرتا ہے۔لفظ ہی اس کا میڈیم یعنی ذریعہ اظہار ہوتے ہیں۔شعر و ادب محض لفظوں کا کھیل نہیں لیکن ادب پارہ الفاظ اور انکی موزوں ترتیب سے ہی وجود میں آتا ہے اس لئے یہی ادبی تنقید کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔

Advertisement

ادبی تنقید کے کئی ایسے دبستان ہیں جو ادب کو کسی خاص نظریے کی روشنی میں جانچتے ہیں۔کوئی یہ دیکھتا ہے کہ اس سے کسی خاص نظریے مثلا اشتراکیت کا پرچار ہوتا ہے یا نہیں، کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ اس سے مذہب یا اخلاق کی تعلیم ملتی ہے کہ نہیں،کسی کو ادب سے عہد و ماحول کی عکاسی کی توقع ہوتی ہے۔بعض علمائے ادب نے شاعر کو ان چیزوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ شعر و ادب میں نظریے کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ادبی تنقید یہ دیکھتی ہے کہ ادب واقعی ادب ہے بھی کہ نہیں۔

ادبی تنقید اس محنت اور کاوش کو بھی نظر میں رکھتی ہے جو کسی فن پارے پر صرف ہوئی ہے۔فنکار کی محنت سے ہم اکثر بے خبر ہوتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اسکی تخلیق کتنی تراش خراش کے بعد ہم تک پہنچی ہے۔مسودے نہ مل جاتے تو کون جان سکتا تھا کہ ولیم بلیک کی سادہ سی شاعری اور شیکسپیئر کے ڈراموں کی نوک پلک کتنی بار سنواری گئی ہے اور اقبال نے ایک ایک مصرعے کو چالیس چالیس بار بدلا ہے۔اسی سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ادب الہام نہیں، شعوری کوشش اور فنکار کی محنت و کاوش کا ثمرہ ہوتا ہے۔

Advertisement

یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ادب پارے کی ترسیل ہوئی ہے یا نہیں،یعنی وہ پڑھنے یا سننے والے تک پہنچا بھی ہے یا نہیں۔ہیگل نے کہا ہے کہ جب فنکار اپنے تجربے کو دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے تبھی فن وجود میں آتا ہے۔یہ البتہ درست ہے کہ علمی نثر کی خوبی وضاحت و صراحت ہے تو افسانہ و شاعری میں ابہام سے حسن پیدا ہوتا ہے۔شرط یہ کہ ابہام اس درجے کو نہ پہنچے کہ تخلیق پہیلی بن کے رہ جائے۔

ادبی تنقید کے لیے بے تعصبی اورغیرجانبداری بہت ضروری ہے۔نقاد منصف مزاج نہ ہو تو وہ تنقید کا حق ادا نہیں کر سکتا۔وہی ادب پارہ قابل قدر ہے جو زمان ومکاں کی حدود سے بلند ہوکر ابدی اورآفاقی ہوجائے۔

Advertisement

تنقید کا حق صحیح معنوں میں اسی کو ہے جس کا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہو۔کلیم الدین احمد کے الفاظ میں نقاد کو جس ساز و سامان کی ضرورت ہے وہ علم کی مختلف شعبوں کے بہترین خیالات سے آگہی ہے۔یہ نہیں کہ وہ ہر فن مولا ہو،وہ سارے علوم میں مہارت رکھتا ہو۔یہ ناممکن سی بات ہے لیکن یہ تو اس کے بس کی بات ہے کہ وہ بہترین خیالات،تازہ ترین اور فرحت بخش تصورات سے واقفیت بہم پہنچائے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement