شبلی کے تنقیدی خیالات

حالی کے بعد شبلی ہمارے دوسرے بڑے نقاد ہیں جن کے تنقیدی خیالات نے اپنے زمانے کے ادبی ذوق کو بے حد متاثر کیا اور ان کے نظریات کی صدائے باز گشت کسی نہ کسی شکل میں آج تک سنائی دیتی ہے۔ان کی تصانیف کا مطالعہ کیجئے تو قدم قدم پر یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے بیشتر خیالات حالی کے خیالات کی ضد ہیں۔

حالی شعر و ادب سے افادیت کا مطالبہ کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک شاعری کا اصل کام اخلاق کو درست کرنا اور زندگی کو سنوارنا ہے۔شبلی کے نزدیک شاعری کا مقصد ہے پڑھنے یا سننے والے کو مسرت عطا کرنا۔ان کی نظر اس حقیقت پر رہتی ہے کہ فنکار نے فن کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کیا۔اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شبلی جمالیاتی نقاد ہیں۔ان کے نزدیک شعر و ادب میں حسن کاری ہی اصل شے ہے۔

شعر میں لفظ زیادہ اہم ہیں یا معنی یہ بحث حالی نے بھی اٹھائی ہے اور شبلی نے بھی۔اس سلسلے میں عرب علماء دو گروہوں میں تقسیم ہیں۔ایک لفظ کو اہمیت دیتا ہے اور دوسرا معنی کو۔حالی لفظ اور معنی دونوں کی اہمیت کے قائل ہیں مگر ان کا جھکاؤ معنی کی طرف ہے۔اس کے برعکس شبلی لفظ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کے نزدیک مواد سے زیادہ اہم اسلوب ہے۔لکھتے ہیں:

” مضمون تو سب پیدا کر سکتے ہیں۔شاعر کا معیار کمال یہی ہے کہ مضمون ادا کن لفظوں میں کیا گیا ہے اور بندش کیسی ہے” پھر فرماتے ہیں"حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشاء پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ پر ہی ہے۔گلستان میں جو مضامین اور خیالات ہیں ایسے اچھوتے اور نادر نہیں لیکن الفاظ کی فصاحت اور ترتیب و تناسب نے ان میں سحر پیدا کر دیا ہے”

یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ شبلی شاعری میں سادگی سے زیادہ میناکاری کے قائل ہیں اور تشبیہ و استعارے کو شعر کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ان کی رائے ہے کہ تشبیہ و استعارے سے کلام میں جو وسعت و زور پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور طریقے سے پیدا نہیں ہو سکتا مثلا دو آدمیوں کی کثرت کا مضمون یوں ادا کیا جائے کہ وہاں آدمیوں کا جنگل تھا تو کلام کا زور بڑھ جائے گا۔جنگل کے پودوں اور درختوں کا شمار ممکن نہیں۔شاعر نے انسانوں کے ہجوم کو جنگل سے تشبیہ دے کر یہ بات واضح کر دی کہ وہاں ان گنت آدمی تھے۔ایک جاتا تھا تو دس آتے تھے اور یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔

شبلی کے نزدیک شاعری دو چیزوں کا نام ہے۔محاکات اور تخیل۔اگر ان دونوں میں سے ایک چیز بھی پائی جائے تو شعر وجود میں آتا ہے ورنہ نہیں۔محاکات سے شبلی کی مراد کسی چیز یا کسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اسکی تصویر آنکھوں میں پھر رہے۔گویا محاکات وہ شے ہے جسے ہم تصویرکشی یا آج کی زبان میں شعری پیکر کہتے ہیں۔محاکات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے شبلی کئی اہم باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

پہلی تو یہ کہ لفظوں سے بنائی ہوئی تصویر رنگوں سے بنائی ہوئی تصویر سے بازی لے جاتی ہے۔مصور کیسی ٹھہری ہوئی چیز کی تصویر کھینچ سکتا ہے لیکن شاعر اس شے کی تصویر کھینچنے کی بھی قدرت رکھتا ہے جو حرکت میں ہو۔شبلی اس کی مثال فارسی سے پیش کرتے ہیں مگر ساری اردو شاعری ایک ایسی آرٹ گیلری ہے جس میں ہزار ہا موبولتی اور چلتی پھرتی تصویریں موجود ہیں۔

دوسری بات یہ کہ نہ جانے کتنی چیزیں ہیں جو نظر نہیں آتی اور مصور ان کی تصویر کشی نہیں کرسکتا مثلا رنج، خوشی، فکر، بے قراری اور ان جیسے بے شمار انسانی جذبات و احساسات۔مگر لفظوں کے ذریعے ان کی بہترین تصویر کشی ممکن ہے۔اسی طرح مصور کسی چیز کا طول وغرض تو اپنی تصویر میں پیش کر سکتا ہے مگر اس کی گہرائی یا موٹائی دکھانے سے قاصر ہے جب کہ یہ شاعر و ادیب کی دسترس میں ہے۔

شاعری کے لئے دوسریضروری چیز ہے تخیل اور بقول شبلی یہ محاکات سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ”محاکات میں جو جان آتی ہے وہ تخیل سے آتی ہے ورنہ حالی کا محاکات نقالی سے زیادہ نہیں”تخیل کو شبلی قوت اخترع یعنی نت نئی چیزیں پیدا کرنے کی قوت کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔

تخیل وہ شے جو بات سے بات نکال لیتی ہے اور وہ چیزیں جو آنکھ سے اوجھل ہیں انہیں سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔اسی کے سہارے ماضی اور مستقبل دونوں ہمارے پیش نظر ہو جاتے ہیں۔بقول شبلی قوت تخیل ایک چیز کو سو دفعہ دیکھتی ہے اور ہر دفعہ اس میں ایک نیا کرشمہ نظر آتا ہے۔مثال کے طور پر ایک ہی پھول ہے جس میں کبھی شاعر خدا کا جلوا دیکھتا ہے، کبھی اس سے محبوب کے لب و عارض کی خوشبو آتی ہے،کبھی اس میں عشق کے چاک گریباں کی تصویر نظر آتی ہے تو کبھی یہی پھول بے ثباتی دنیا کا استعارہ بن جاتا ہے۔

تخیل کی تعریف کرنے کے بعد شبلی لکھتے ہیں کہ شاعر قوت تخیل سے تمام اشیاء کو نہایت دقیق نظر سے دیکھتا ہے۔وہ ہر چیز کی ایک ایک خاصیت، ایک ایک وصف پر نظر ڈالتا ہے پھر اور چیزوں سے ان کا مقابلہ کرتا ہے، ان کے باہمی تعلقات پر نظر ڈالتا ہے،ان کے مشترک اوصاف کو ڈھونڈ کر ان سب کو ایک سلسلے میں مربوط کرتا ہے اور کبھی اس کے برخلاف جو چیز یکساں اور متحد خیال کی جاتی ہیں ان کو زیادہ نقطہ سجنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان میں فرق و امتیاز پیدا کرتا ہے۔شبلی کے یہ خیالات کولرج کے خیالات سے بہت ملتے ہیں۔تخیل کی سب سے مکمل تعریف کولرج نے ہی کی ہے۔ممکن ہے کولرج کے خیالات تک کسی ذریعہ سے شبلی کی رسائی ہوگی ہو۔

شعر و ادب کے سلسلے میں شبلی کا نقطۂ نظر رومانی ہے۔وہ شاعر پر پابندی عائد کرنے کے خلاف ہیں اور اسے مکمل آزادی دلانا چاہتے ہیں۔خطیب پر چونکہ طرح طرح کی پابندیاں ہوتی ہیں اس لیے وہ خطابت و شاعری میں امتیاز کرتے ہیں۔خطیب سامعین سے سروکار رکھنے پر مجبور ہے۔

جبکہ شاعر کا معاملہ اداکار کا سا ہے۔ایک اداکار خوب جانتا ہے کہ ہزاروں آنکھیں اس کی اداکاری پر لگی ہوئی ہیں لیکن بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان سے بے خبر ہے۔ایسا نہ ہو تو اس کی ساری محنت رائیگاں ہو جائے۔یہی حال شاعر کا ہے "اس سے دوسروں سے غرض نہیں ہوتی۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ کوئی اس کے سامنے ہے بھی یا نہیں۔

اس کے دل میں جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ بے اختیار ان جذبات کو ظاہر کرتا ہے جس طرح درد کی حالت میں بے ساختہ آہ نکل جاتی ہے۔ بے شبہ یہ اشعار اوروں کے سامنے پڑے جائیں تو ان کے دل پر اثر کریں گے لیکن شاعر نے اس غرض کو پیش نظر نہیں رکھا تھا جس طرح کوئی شخص اپنے عزیز کے مرنے پر نوحہ کرتا ہے تو اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کے لوگوں کوسنائے لیکن کوئی شخص سن لے تو ضرور تڑپ جائے گا۔غرض اصلی شاعر وہی ہے جس کو سامعین سے کچھ غرض نہ ہو۔شبلی کا یہ نظریہ انھیں شاعری کے جدید تصور سے بہت نزدیک کر دیتا ہے۔

رومانی شاعر و نقاد ورڈزورتھ نے کہا تھا کہ شاعری جذبات کے بے اختیار بہ نکلنے کا نام ہے۔شبلی بھی جذبات کے فوری اور بے ساختہ اظہار کو شاعری کہتے ہیں۔شبلی فرماتے ہیں کہ خدا نے انسان کو دو قوتیں دی ہیں۔ ایک ادراک اور دوسری احساس ادراک کا کام سوچنا، غور کرنا اور مسائل کو حل کرنا ہے۔احساس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی اثر انگیز واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے۔غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی میں سرور ہوتا ہے۔حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے۔ یہی قوت جس کو احساس کہہ سکتے ہیں،شاعری کا دوسرا نام ہے یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔

شبلی شاعری کو خطابت سے مختلف اور برتر خیال کرتے ہیں۔وہ اسے تنہا نشینی اور مطالعہ نفس کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن وہ اس معاملے میں حالی کے ہم خیال ہیں کے شاعری صرف تفریح یا تفنن طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ "ایک قوت ہے جس سے بڑے بڑے کام لیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح طور سے کیا جائے”

عربوں نے اس فن سے بڑے بڑے کام لیے ہیں یہ شاعری کی تاثیر ہی تو تھی کہ کسی زمانے میں عرب قوم کی باگ شاعروں کے ہاتھ میں تھی وہ جدھر چاہتے اس کا رخ موڑ دیتے۔اور یہ کہ اخلاق کی تعلیم دینے کا شاعری سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں۔کبھی کبھی ایک شعر سے ایسی اخلاقی تعلیم دی جاسکتی ہے جو ایک ضخیم کتاب سے بھی ممکن نہیں۔شعر میں بڑی تاثیر ہوتی ہے اس لیے جو خیال شعر کے ذریعہ ادا کیا جائے وہ دل میں اتر جاتا ہے اور جذبات کو بر انگیختہ کرتا ہے۔طلوع اسلام سے پہلے عربوں میں کتنی خوابیاں تھیں مگر عربی شاعری نے ان میں شجاعت، ہمت، غیرت، حمیت، اور مہمان نوازی کے بیش بہا اوصاف پیدا کر دیے تھے۔

شبلی مورخ بھی ہیں اور تنقید نگار بھی مگر ان کا مزاج بنیادی طور پر شاعرانہ ہے۔یہ مزاج ان کی نثر میں پوری طرح جلوہ گر ہے۔ ان کی نثر میں بہت کشش اور دلآویزی ہے۔تصنیف و تالیف سے شبلی کے مزاج کو بہت مناسبت تھی۔ان کا سارا وقت مطالعے میں صرف ہوتا تھا یا لکھنے پڑھنے میں۔

انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں مگر ان کے تنقیدی افکار کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم تصنیف "شعرالعجم” ہے اور خاص طور پر اس کا چوتھا حصہ جس میں تنقیدی نظریات پیش کیے گئے ہیں۔شعرالعجم شعرائے فارسی کا انتخاب ہے اس لئے باقی حصوں میں بھی جابجا شاعری پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔شبلی کے تنقیدی افکار کو سمجھنے کے لئے "موازنہ انیس و دبیر” اور "مقالات شبلی” کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

Close