• کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر12: مضمون
  • سبق کا نام: حسرت موہانی

خلاصہ سبق: حسرت موہانی کی شخصیت

اس سبق میں ” حسرت موہانی” کی شخصیت کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔آپ 1875 میں قصبہ موہان ضلع انا و، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ اپ ایک کامیاب شاعر ،بے باک صحافی اور آزدی کی جدوجہد کے سرگرم مجاہد تھے۔

عربی فارسی کی ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی۔بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ بارہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔1903 کا سال حسرت کی زندگی میں اہم ہے کیوں کہ اس سال وہ اپنے باغیانہ خیالات کی وجہ سے کالج سے نکالے گئے۔ اسی سال ان کی شادی چچازاد بہن نشاط النسا بیگم سے ہوئی۔

Advertisement

اس سال اردوئے معلی میں ادبی و سیاسی دونوں طرح کے مضامین شائع ہوتے تھے۔اس نے اہل ہند کے مسلمانوں کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور انگریزی حکومت کی کھل کی مخالفت کی۔آپ نے اردو معلی میں ایک مضمون شائع کیا۔اپریل 1908 کے اردوئے معلی میں اس مضمون کی اشاعت پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے انہیں دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی۔ اور 500 روپے جرمانہ کیا۔

قید سے رہائی کے بعد ان کے خیالات میں شدت آگئی۔سودیشی تحریک کے حامی رہے اور کامیاب سودیشی اسٹور کھولا۔مزاج اور رہن سہن میں بہت سادگی اپناتے تھے۔ 1913ء میں ان کا پریس ضبط ہوا جبکہ 1916ء میں دوبارہ جیل بھیجے گئے۔حسرت موہانی کی سیاسی سرگرمیاں لوگوں کے اندرسیاسی بیداری اور باغیانہ جذبہ پیدا کرتی تھیں۔ جس کی وجہ سے انگریز حکومت کو ان کی یہ سرگرمیاں پسند نہ تھیں۔

1921ء میں حسرت موہانی نے احمد آباد کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی اور حکیم اجمل خاں کی مخالفت کے باوجود مکمل آزادی کی قرار داد پیش کی۔1924ء میں کانگریس کی بجائے مسلم لیگ سے منسلک ہو گئے۔ 1942 یوپی میں حسرت موہانی مسلم لیگ کے نمائندے کی حیثیت سے یو پی اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ ان کی شخصیت میں بہت سادگی تھی۔

درویشی کا یہ عالم تھا کہ سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے۔ اصولوں کے اس قدر پکے تھے کہ ایک مرتبہ کسی کے گھر مہمان بن کر گئے اور ساری رات سردی میں تڑپتے رہے مگر کمبل کو اس لیے نہ اوڑھا کہ یہ سو دیشی ہے۔اپ ایک سچے مذہبی انسان تھے۔پوری زندگی جدو جہد میں گزاری۔انھیں آزادی کی کوششوں کے سلسلے میں رئیس الاحرار کا لقب دیا گیا۔13 مئی 1951ء کو انتقال ہوا۔فرنگی محل کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ کیکن ایسے محب وطن انسان کی جگہ ہر محب وطن شہری کے دل میں موجود ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

حسرت موہانی کا نام کیا تھا؟

حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔

1903 کا سال حسرت کی زندگی میں کیوں اہم ہے؟

اس سال وہ اپنے باغیانہ خیالات کی وجہ سے کالج سے نکالے گئے۔ اسی سال ان کی شادی چچازاد بہن نشاط النسا بیگم سے ہوئی۔ اس سال انہوں نے ایک علمی و ادبی رسالہ اردوئے معلی جاری کیا۔

حسرت نے کون سا رسالہ نکالا۔ اس میں کس طرح کے مضامین شائع ہوتے تھے؟

حسرت موہانی نے علمی و ادبی رسالہ اردوئے معلی جاری کیا۔ اردوئے معلی میں ادبی و سیاسی دونوں طرح کے مضامین شائع ہوتے تھے۔

حسرت کو 1908 میں جیل کیوں بھیجا گیا ؟

آپ نے اردو معلی میں ایک مضمون شائع کیا۔اپریل 1908 کے اردوئے معلی میں اس مضمون کی اشاعت پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے انہیں دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی۔ اور 500 روپے جرمانہ کیا۔

انگریزی حکومت کو حسرت موہانی کی سیاسی سرگرمیاں کیوں پسند نہ تھیں؟

حسرت موہانی کی سیاسی سرگرمیاں لوگوں کے اندرسیاسی بیداری اور باغیانہ جذبہ پیدا کرتی تھیں۔ جس کی وجہ سے انگریز حکومت کو ان کی یہ سرگرمیاں پسند نہ تھیں۔

حسرت نے مکمل آزادی کی قرارداد کب اور کہاں شروع کی تھیں ؟

1921ء میں حسرت موہانی نے احمد آباد کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی اور حکیم اجمل خاں کی مخالفت کے باوجود مکمل آزادی کی قرار داد پیش کی۔

صحیح بیان کے سامنے ✅ اور غلط کے سامنے ❎کا نشان لگائیے۔

  • سیدفضل الحسن حسرت 1875 میں قصبہ موہان ضلع انا و، اتر پردیش میں پیدا ہوۓ۔✅
  • وہ ایک کامیاب شاعر اور بے باک صحافی نہیں تھے۔❎
  • 1903 کا سال حسرت کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔❎
  • حسرت نے اردوئے معلی جاری کر کے اپنی ادبی اور سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔✅
  • 1942 یوپی میں حسرت موہانی مسلم لیگ کے نمائندے کی حیثیت سے یو پی اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ ✅
  • حسرت ایک مذہبی انسان نہیں تھے۔✅
  • انگریزی حکومت کو حسرت موہانی کی سیاسی سرگرمیاں بہت پسند تھیں۔❎
  • ان کی پوری زندگی جد وجہد میں گزری۔✅

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

باہمت کم ہمت
مستقل مزاج غیر مستقل مزاج
مخالفتطرف داری
مکملنامکمل
انکاراقرار
نشاطغمگین

نلکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

صحافیصحافی کا نڈر اور بے باک ہونا ضروری ہے۔
باغیانہہمیشہ سے باغیانہ سرگرمیوں کی سزا جیل ہے۔
خیر بادکہنابلاآخر ہم اپنے کالج کو خیرباد کہہ آئے۔
آبدیدہ ہوناپیاروں سے الوداعی ملاقات میں آبدیدہ ہونا فطری عمل ہے۔
خود داریہمیں کسی کی خوداری کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔

عملی کام:

آپ نے حسرت موہانی کے بارے میں اپنے سبق میں پڑھا۔ آپ ان کی شخصیت سے کتنے متاثر ہوۓ کم سے کم ایک صفحہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔

بلا شبہ حسرت موہانی کی شخصیت ایک نڈر ،بے باک اور حق کے راستے پر چلنے والے انسان کی شخصیت ہے۔ حسرت موہانی تمام عمر اپنے اصولوں پر کار بند رہے۔ انھوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے کھک کر انگریزوں کی مخالفت کی اور اپنے ذاتی مفادات کو کبھی بھی ملکی و قومی مفاد پر ترجیح نہ دی۔ ان کی زندگی ،سادگی،درویشی،قلندری ،خودرادی اور عالی ہمت انسان کی زندگی ہے۔ان کی زندگی کا ہر پہلو خواہ وہ علمی و ادبی ہو یا سیاسی یا محب وطن انسان کا ہو متاثر کن ہے۔