Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر05:لوک کہانی
  • سبق کا نام: فلسفی نوکر

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ایک شخص کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے جو اپنے نوکر اور ایک تیز رفتار گھوڑے کے ساتھ سرائے میں قیام کیے ہوئے تھا۔رات جب وہ سونے لگے تو مالک نے نوکر کو اس شہر کے چور بڑے بےدرد اور چوری کرنے میں نہایت دلیر ہیں۔

اس لیےوہ اپنے اس قیمتی اور تیز رفتار گھوڑے کی خود نگرانی کروں گا۔ تم شوق سے سو جاؤ یہ سن کر نوکر کہنے لگا کہ آقا جاگے اور نوکر سوئے یہ مناسب نہیں اس لیے یہ ناچیز نوکر ساری رات جاگ کر گھوڑے کی نگرانی اورپاسبانی کرے گا۔آپ بے فکر رہیے اور اطمینان سے سو جائیے۔

Advertisement

نوکر کی بات سن کر مالک آرام سے سو گیا۔ پہلے پہر مالک کی آنکھ کھلی تو نوکر یہ سوچنے میں غرق تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے زمین کو پانی پر کیوں ٹھہرا رکھا ہے؟ یہ سن کر مالک نے کہا مجھے ڈر ہے کہ تو یوں ہی واہی تباہی سوچتا رہا تو تیری اس بے خبری سے فائدہ اٹھا کر چور ہمارا مال اسباب نہ چرا لے جائیں۔نوکر نے پھر سے مالک کو تسلی دی۔اور سونے کا کہا۔

Advertisement

آدھی رات جب مالک کی آنکھ کھلی تو فلسفی نوکر یہ سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ لمبا چوڑا اور بے کنار آسمان بغیر ستونوں کے کس طرح کھڑا کر رکھا ہے۔اور کیل گاڑنےمیں زمین کی مٹی کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ جس پر مالک نے پھر سے اپنا گھوڑا چوری ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تو نوکر کہنے لگا کہ وہ پوری طرح سے ہوشیار ہے۔

Advertisement

رات کے تیسرے پہر جب مالک کی آنکھ کھلی تو فلسفی نوکر کہنے لگا کہ اب میں سوچ رہا ہوں کہ اونٹ کے پیٹ میں گولیاں کون باندھتا ہے اور کیلے کے پتوں پر خود بہ خود استری کس طرح ہو جاتی ہے؟ یوں کرتے کرتے رات بیت گئی صبح جب مالک کی آنکھ کھلی تو نوکر کہنے لگا کہ عجیب بات ہے بعض چور بھی دانش مند اور اپنے کام میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ایسا ہی کوئی منہ زور چور سرنگ لگا کر گھوڑا لے اڑا ہے۔

گھوڑا چوری ہونے کی خبر سن کر آقا کے ہوش اڑ گئے اور اسے بے حد افسوس ہوا۔ نوکر کہنے لگا کہ آپ کا یہ غلام اس فکر میں ہے کہ گھوڑا چوری ہو جانے کے بعد اس کی زین اور خوگیر آپ کو اپنے سر پر رکھنا پڑے گا یا مجھ کو اپنے سر پر لاد کر چلنا ہو گا۔آقا نے نوکر کو بہت سخت سست سنائیں۔لیکن اب تو چڑیا کھیت چک گئیں تھیں کیا ہو سکتا تھا۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

مالک نے نوکر سے کیا کام کرنے کو کہا؟

مالک نے نوکر سے شوق سے پاؤں پھیلا کر سو جانے کو کہا۔

مالک کے بار بار پوچھنے پر نوکر کیا جواب دیتا تھا؟

مالک کے بار بار پوچھنے پر نوکر کہتا کہ آپ بے فکر رہیے اور اطمینان سے سو جائیے۔

Advertisement

فلسفی نوکر آسمان کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا؟

فلسفی نوکر یہ سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ لمبا چوڑا اور بے کنار آسمان بغیر ستونوں کے کس طرح کھڑا کر رکھا ہے۔

تین پہر رات سے پہلے مالک کیوں اطمینان سے سو گیا ؟

تین پہر رات سے پہلے مالک نوکر کی باتوں میں آ کر بے فکری سے سو گیا۔

Advertisement

گھوڑا کس طرح چوری ہوا؟

منہ زور چور سرنگ لگا کر گھوڑا لے اڑا۔

گھوڑا چوری ہونے کے بعد آ قا پر کیا گذری؟

گھوڑا چوری ہونے کی خبر سن کر آقا کے ہوش اڑ گئے اور اسے بے حد افسوس ہوا۔

Advertisement

آقا نے نوکر کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

آقا نے نوکر کو بہت سخت سست سنائیں۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

اس شہر کے چور بڑے بےدرد اور چوری کرنے میں نہایت دلیر ہیں۔
اس کے ساتھ اس کا نوکر بھی تھا۔
اپنے اس قیمتی اور تیز رفتار گھوڑے کی خود نگرانی کروں گا۔
ناچیز نوکر ساری رات جاگ کر گھوڑے کی نگرانی اورپاسبانی کرے گا۔
آپ بے فکر رہیے اور اطمینان سے سو جائیے۔
آسمان بغیر ستونوں کے کس طرح کھڑا کر رکھا ہے اور کیل گاڑنےمیں زمین کی مٹی کہاں غائب ہو جاتی ہے۔

Advertisement

نیچے دیے گئے جملوں کو صحیح ترتیب سے لکھیے۔

  • بعض چور بھی دانش مند اور اپنے کام میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔
  • غرض کہ مالک بے چارہ پھر نوکر کی باتوں میں آ کر بے فکری سے سو گیا۔
  • اگر تیرا جی سونے کو چا ہے تو سوجا۔
  • مجھے ڈر ہے کہ تو یوں ہی واہی تباہی سوچتا رہا تو تیری اس بے خبری سے فائدہ اٹھا کر چور ہمارا مال اسباب نہ چرا لے جائیں ۔
  • تو شوق سے پاؤں پھیلا کر سو جا۔
  • آقا تو تمام رات جاگے اور دو پیسے کا نوکر ساری رات آرام سے سوۓ ۔
  • ایسا ہی کوئی منہ زور چور سرنگ لگا کر گھوڑا لے اڑا۔

صحیح ترتیب:

  • تو شوق سے پاؤں پھیلا کر سو جا۔
  • آقا تو تمام رات جاگے اور دو پیسے کا نوکر ساری رات آرام سے سوۓ ۔
  • غرض کہ مالک بے چارہ پھر نوکر کی باتوں میں آ کر بے فکری سے سو گیا۔
  • مجھے ڈر ہے کہ تو یوں ہی واہی تباہی سوچتا رہا تو تیری اس بے خبری سے فائدہ اٹھا کر چور ہمارا مال اسباب نہ چرا لے جائیں ۔
  • اگر تیرا جی سونے کو چا ہے تو سوجا۔
  • بعض چور بھی دانش مند اور اپنے کام میں بڑے ماہر ہوتے ہیں
  • ایسا ہی کوئی منہ زور چور سرنگ لگا کر گھوڑا لے اڑا۔

نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

شخصاجنبی شخص نے مجھ سے علی کے مکان کا پتا دریافت کیا۔
مالکاس مکان کا مالک کون ہے؟
نگرانیہمیں اپنے تمام کام اپنی نگرانی میں کروانے چاہیے۔
دلیرعلی ایک دلیر نوجوان تھا۔
آقاآقا نے نوکر کو رات بھر جاگنے کا حکم دیا۔
اطمینانبچے کو صیحیح سلامت دیکھ کر ماں نے اطمینان کا سانس لیا۔
غلامقدیم دور میں غلام آزاد کروانے کا رواج تھا۔
آسمانآسمان کا رنگ نیلا ہے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

نوکرمالک
ناکامکامیاب
زمینآسمان
لمباچھوٹا
فائدہنقصان
خوابحقیقت
آرامبے سکونی
دلیربزدل
شامصبح
بے وقوفسمجھ دار

واحد سے جمع بنائیے:

واحدجمع
گھوڑاگھوڑوں
اونٹاونٹوں
آنکھآنکھوں
طرفاطراف
پیسےپیسوں
عزیزعزیزوں
ںوکرنوکروں
شہرشہروں

عملی کام:اس سبق سے اپنی پسند کے پانچ جملے لکھیے۔

  • آپ کا یہ ناچیز نوکر ساری رات جاگ کر گھوڑے کی نگرانی اور پاسبانی کرے گا۔
  • اس وقت یہ غلام سوچ رہا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے زمین کو پانی پر کیوں ٹھہرا رکھا ہے؟
  • مجھے ڈر ہے کہ تو یوں ہی واہی تباہی سوچتا رہا تو تیری اس بے خبری سے فائدہ اٹھا کر چور ہمارا مال اسباب نہ چرا لے جائیں۔
  • اب میں سوچ رہا ہوں کہ اونٹ کے پیٹ میں گولیاں کون باندھتا ہے اور کیلے کے پتوں پر خود بہ خود استری کس طرح ہو جاتی ہے؟
  • آپ کا یہ غلام اس فکر میں ہے کہ گھوڑا چوری ہو جانے کے بعد اس کی زین اور خوگیر آپ کو اپنے سر پر رکھنا پڑے گا یا مجھ کو اپنے سر پر لاد کر چلنا ہو گا۔

اس کہانی کو اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اوپر ملاحظہ کیجیے”خلاصہ سبق”

Advertisement
Advertisement