خیرہ   نہ  کر  سکا   مجھے   جلوہ   دانش  فرنگ
سرمہ  ہے  میری  آنکھ  کا  خاکِ  مدینہ و نجف

علامہ اقبال برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر اور مصلح ہیں کہ جنہوں نے اپنے خیالات اور انقلابی افکار کے اظہار کے لیے بیک وقت اردو، فارسی اور انگریزی زبان کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری اردو اور فارسی میں جبکہ خطبات اور مقالات انگریزی زبان میں موجود ہیں جبکہ انہوں نے مکاتیب اردو زبان میں لکھے۔ ان کا فکر و فلسفہ محض شاعرانہ خیال یا فلسفیانہ تصور نہیں۔

اقبال مفکر اسلام، حکیم الامت، شاعر مشرق، دانائے راز، ترجمان خودی اور نجانے کتنے القابات و خطابات کے حقدار ہیں۔ اقبال نے پوری دنیا اور اس کے ادب کو متاثر کیا۔ انہوں نے ہی قوم کو پستی سے نکالا اور خود شناسی کا پیغام پھیلا دیا۔ اقبال ہمارے ماضی قریب کی عظیم شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ دنیا ئے علم و ادب، فلسفہ و سائنس اور تاریخ و سیاست میں اقبال ایک ایسی منفرد حیثیت رکھتے ہیں کہ مشرق و مغرب ان کی عظمت اور اہمیت کے قائل ہیں۔ علامہ اقبال کا کلام اور ان کا فکر محض براعظم کی وسیع و عریض حدود تک ہی محدود نہ رہا بلکہ وہ سیاسی، جغرافیائی اور نسلی حدود کو عبور کرکے ہر طرف پھیل گیا۔

جو لوگ اقبالیات یا اقبال شناسی کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں ان کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ان دو اصطلاحات کے اندر فرق موجود ہے۔ اقبالیات کو ایک شعبہ علم کہا جا سکتا ہے۔ جس میں اول اقبال کی شعری و فکری تصانیف اور مقالات و مکاتیب و بیانات شامل ہیں اور دوسری ایسی تمام تحریرات و تحقیقات جو حیات و تصانیف اقبال کی تشریح و توضیح اور تنقیدی مطالعات پر مبنی ہے۔ اقبال شناسی ایک وہ علمی روایت ہے جس کی بنیاد حیات و افکار اقبال کی تفہیم کے سلسلہ میں کی جانے والی اب تک کی تمام تر کاوشوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے، اور اقبال شناسی کی روایت سے وابستہ اہل علم کو اقبال شناس، اقبال سکالر یا پھر ماہر اقبال کہا جاتا ہے۔

”نیرنگ خیال“ ایک پر آشوب زمانے میں جاری ہوا تھا۔ اس زمانے میں اس کی تعداد اشاعت 4500 ہوا کرتی تھی۔ اس میں عصری رجحانات پر بحث ہوتی تھی۔ آئندہ جاری ہونے والے شماروں کی جھلکیاں اور خبریں وغیرہ کچھ مضامین، افسانے، انشائیے، جو اخلاقی اور ادبی نوعیت کے ہوتے تھے، اور اس کے حصہ نظم میں ایک آدھ غزلیں نظمیں اور رباعیات وغیرہ ہوتی تھیں۔ بہت سارے اقبال شناسوں اور ماہرین اقبالیات نے اس نیرنگ خیال مجلے میں اپنے تحقیقی مضامین لکھے جن کے نام درج ذیل ہیں:

  • 1۔ علامہ اقبال اور فلسفہ تصوف از حضرت ادیب اے آبادی
  • 2۔ علامہ اقبال از شہزادہ احمد علی خان
  • 3۔ اقبال کی شاعری پر قیام یورپ کا اثر از ممتاز حسین
  • 4۔ علامہ اقبال کی شاعری از صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
  • 5۔ کلام اقبال کی ادبی خوبیاں از محمد اکبر خان
  • 6۔ اقبال ایک مصلح کی حیثیت سے از شیخ عبدالرحمن
  • 7۔ پیام مشرق از ڈاکٹر نکلسن
  • 8۔ ٹیگور اور اقبال از مرزا عسکری علی خان
  • 9۔ شاعران عالم اور شاعرِ اسلام از ظفر قریشی دہلوی
  • 10۔ میر، غالب، اقبال از حامد حسن قادری
  • 11۔ اقبال اور فلسفہ مغرب از ممتاز حسن احسن
  • 12۔ عالمگیر از محمد دین فوق
  • 13۔ اقبال از جناب خاور علی خان
  • 14۔ تصویر خیالی از احسان بن دانش

1932ء کے شمارے میں لکھنے والے تمام ماہرین اقبالیات اور اقبال شناس تھے۔ انہوں نے عرق ریزی سے کام لیتے ہوئے اقبال کی شاعری اور مجموعی کلام کے فکر اور حسن کو عام قارئین کے لیے اس قدر سہل بنا کر پیش کیا کہ اقبال ہر زاویے سے عام قاری پر منکشف ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی اقبال کو سمجھنے والے لوگ تھے اور اس وقت اقبال کا طوطی بول رہا تھا لیکن مجلہ نیرنگ خیال ہی کی بدولت اقبال کو سمجھنے اور چاہنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔

نیرنگ خیال نے اقبالیات کی روایت کو اس قدر تقویت دی کہ آج تک کوئی بھی ادارہ یا کتاب نیرنگ خیال سے آگے نہ جا سکا۔ لہذا نیرنگ خیال نے اقبالیات کے حوالے سے اپنی ایک منفرد پہچان قائم کی اور آنے والی تمام نسلوں کے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہوا ہے۔ نیرنگ خیال ہی کی بدولت اقبال کی فکر اور فلسفے کو سمجھنے اور اس سے آگاہ ہونے میں مدد ملتی ہے اور آج بھی نیرنگ خیال اس حوالے سے سب سے مقدم، زندہ و جاوید نام ہے۔

تحریرامتیاز احمد
 [email protected]
نیرنگ خیال، اقبال نمبر 1932ء 1