میرے دوستوں جیسے استاد ڈاکٹر ظہیر عباس کا پہلا افسانوی مجموعہ ‘مدفن کی تلاش’ عکس پبلیکیشنز سے شائع ہو چکا ہے ۔اس میں کل آٹھ کہانیاں ہیں جن میں ” کردار کا ماتم ” ، ” مدفن کی تلاش” ، اجنبی شہر میں” ، ” قافلہ” ، ” مزدور منڈی ” ، ” ساجو کی ماں کی۔ ” اعمال نامہ ” اور الجھے رشتے شامل ہیں۔

ظہیر عباس موجودہ دور کے فکشن پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک اچھے لکھاری کو ایک اچھا قاری بھی ہونا چاہیے۔ اپنے پہلے ہی افسانے میں انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ، ہم عصر لکھنے والوں کا مطالعہ اس قدر وسیع نہیں ہے کہ وہ ایک اچھی کہانی لکھنے کے ساتھ ساتھ ایک لافانی کردار تخلیق کر سکیں۔ کہانی پن کا خاتمہ جدیدیت سے شروع ہو کر مابعد جدیدیت سے ہوتا ہوا ، آج کے زمانے میں بھی نظر آتا ہے۔ لکھنے والوں کی اکثریت علامتوں کی تخلیق اور ان کے استعمال میں الجھی ہوئی ہے ، جس سے کہانی پن کا خاتمہ ہو گیا ، شخصی کرداروں کی جگہ ” وہ ” اور ” اس ” نے لے لی۔

معاصر افسانہ نگاروں میں ظہیر عباس اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ وہ کہانی پن کو واپس لے کر آئے ہیں ۔ ان کی ساری توجہ کہانی سنانے پر مرکوز ہے ۔ وہ منظر نگاری اور مکالمہ نگاری کا سہارا نہیں لیتے ۔ ان کی ہر کہانی میں ایک مختلف سبق چھپا ہوا ہے۔ اپنے دوسرے افسانے ” مدفن کی تلاش” میں انہوں نے خون کو موت کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب یہ وہ علامت ہے کہ جس کو سمجھنے کے لیے زیادہ غور وفکر نہیں کرنا پڑتا ۔ ایک عام قاری بھی اس علامت سے آگہی پا سکتا ہے۔

اس کہانی میں مصنف نے دنیا کی دورنگی سے پردہ اٹھایا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم عمومی طور پر کوئی بھی کام بغیر سوچے سمجھے کر جاتے ہیں ۔ ہمیں حقائق کا ادراک بہت زمانے کے بعد ہوتا ہے ۔ ہماری سوسائٹی میں یہ بیماری بھی موجود ہے کہ ہم جنازہ بھی دکھاوے کے طور پر پڑھتے ییں۔ مصنف پوری دنیا میں امن دیکھنے کے خواہش مند ہیں ۔عالمی منظر نامے پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ اس بات کا بھی ادراک رکھتے ہیں کہ کوئی تیسری قوت موجود ہے جو ہر دو ممالک کو باہم لڑا کر کمائی اور راحت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے افسانے ” اجنبی شہر میں ” کے اندر احساس تنہائی چھپا ہوا ہے۔

ان کا اعتقاد ہے کہ بعض دفعہ خونی رشتے ہمیں اس قدر تنہا کر دیتے ہیں کہ ہم بے جان چیزوں کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ گمان ہوتا ہے کہ وہ قاری کو اپنی تنہائی کا ساتھی بنانا چاہتے ہیں ۔ ” قافلہ ” میں نہ پوری ہونے والی خواہشات کو خواب کا جسم عطاء کر کے اسے لاشعور سے جوڑا گیا ہے ۔ یہی لاشعور ان دبی ہوئی خواہشات کو وقت آنے پر شعور کے پردوں پر وا کر دیتا ہے ۔ اس کہانی میں Missing Persons اور دہشت گردی جیسے مسائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

مصنف اس ” باگھ ” سے بھی واقف ہیں ، جو جنگل میں وقت نہ وقت آ کر دھاڑیں مار کر اپنا رعب قائم کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔ دنیا کی بے ثباتی اور جوانی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ظہیر عباس کسی مرشد و رہبر کی اہمیت کے بھی قائل ہیں ۔ ” مزدور منڈی ” میں انہوں نے رعایا اور بادشاہ کے درمیان حائل اس دیوار کی طرف اشارہ کیا ہے جو کبھی بھی گرتی ہوئی نظر نہیں آتی ۔ رعایا کو درپیش فاقوں کے علاوہ نظام انصاف کے ترازو کے پلڑوں کو بھی انہوں نے الٹ پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔

” ساجو کی ماں کی۔۔۔۔۔۔” میں گاؤں کی دھول نظر آتی ہے۔ ظہیر عباس نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ نسل اور حسب ونسب اپنا رنگ ضرور دکھاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ خاندانی لڑائیوں اور دشمنیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ "اعمال نامہ ” میں انہوں نے ایک ادیب اور مصنف کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی آزادی رائے پر شب خون اور ایزارسانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ” الجھے رشتے ” میں موجودہ معاشرے کے نہ بدلنے والے حقائق دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پٹھانوں کی مہمان نوازی کو بھی سراہا گیا ہے۔

ظہیر عباس کی ہر کہانی موجودہ دور کی کہانی ہے ان کی ہر کہانی میں قاری کے لیے ایک نتیجہ اور سبق ہے ۔ ظہیر عباس کی ساری توجہ کہانی سناںے پر مرکوز رہی ہے ۔ انہیں منظر نگاری ، مکالمہ نگاری اور استعجاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ وہ کہانی سنا کر اس کا نتیجہ نکالنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ان کے افسانوں میں آپ بیتی کا رنگ بھی ہے ۔ علاقائی رنگ ہونے کے ساتھ ساتھ آفاقیت بھی موجود ہے ۔ ان کا افسانوی مجموعہ ” مدفن کی تلاش ” افسانوں کا ایک ایسا "سپر اسٹور”ہے جہاں پر قاری کو ہر طرح کی کہانی ملتی ہے ۔ البتہ توقع کے برخلاف ان کے افسانوں کا لہجہ انتہائی نرم اور تلوار کی نوک بھی تیکھی نہیں یے ۔ ان کے افسانے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بظاہر ان کا کسی ادبی گروہ سے تعلق نہیں ہے ، اس معاملے میں وہ امتزاجی طبیعت کے مالک لگتے ہیں۔ ان کے لہجے سے لگتا ہے کہ وہ کہانی لکھ نہیں رہے بلکہ سنا رہے ہیں۔

تحریر امتیاز احمد