Advertisement

نظم کی تشریح

مری پیاری چڑیو ! ابھی اور گاؤ ” یہ نظم جوش ملیح آبادی کی ہے۔ اس نظم میں جوش ملیح آبادی نے چڑیوں سے اپنی محبت کا ذکر کیا ہے۔ وہ چڑیوں سے کہتے ہیں کہ وہ بازو ہلائیں قریب آئیں ،نہروں پر میٹھے میٹھے گیت گنگنائیں۔ساتھ ہی شاعر چڑیوں کو ادھر ادھر پھدکتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔

Advertisement
  • جوش ملیح آبادی نظم کے پہلے بند میں چڑیوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میری پیاری چڑیو تم مہکتے ہوئے خوشبودار پھولوں کے پاس آؤ۔ اور لچکتی ہوئی نرم ٹہنی پر بیٹھ جاؤ اور کبھی تم ہوا میں اڑو اور اپنے پروں کو ہلاؤ۔ اور کبھی صاف وشفاف اور خوبصورت پانی کے سوتوں میں ڈبکی لگاؤ۔ اسی طرح تم اور گاتی چلی جاؤ۔
  • دوسرے بند میں شاعر کہتا ہے کہ اے میری پیاری اور ننھی ننھی خوبصورت سی چڑیو! تم پھدک کر ادھر ادھر جاؤ۔ اور کبھی تم چہک کر ادھر سے ادھر اپنے پروں کو ہلاؤ۔ اور کبھی شاخ پر چہچہاؤ اور کبھی تم نہر پر گنگناؤ۔ اسی طرح تم پیارے پیارے اور رسیلے انداز میں گاتی رہو۔
  • تیسرے بند میں جوش ملیح آبادی کہتے ہیں کہ اے چڑیو! کبھی تم تازہ پتوں کو منھ میں دباؤ اور کبھی تم کونوں میں بیٹھ کر پھڑپھڑاؤ۔ کبھی تم گھاس پر ادھر ادھر گھومو اور کبھی نرم بیلوں کو جا کر جھولا جھلاؤ۔ جوش ملیح آبادی نے پوری نظم کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ پورا منظر آنکھوں کے سامنے تصویر کی طرح کھنچ جاتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: شاعر چڑیوں کو کیوں بلا رہا ہے؟

جواب ۔ شاعر چڑیوں کو گانے کے لے بلا رہا ہے۔

Advertisement

سوال: دوسرے بند میں شاعر چڑیوں سے کیا کہ رہا ہے ؟

جواب ۔ دوسرے بند میں شاعر چڑیوں سے کہ رہا ہے کہ پھدک کر ادھر سے ادھر جاؤ۔چہک کر اپنے پروں کو ہلاؤ اور ٹہنی پر چہچہاؤ ،اور کبھی تم اچھل کر نہر پر گنگناؤ وغیرہ۔

Advertisement

سوال: بیلوں کو جھولا جھلانے سے کیا مراد ہے ؟

جواب: بیلوں کو جھولا جھلانے سے مراد یہ ہے کہ اے چڑیو! تم ان پر جا کر بیٹھ جاؤ اور انہیں ہلاؤ، تو ایسا معلوم ہوگا جیسے چڑیاں بیلوں کو جھولا جھلا رہی ہیں۔

سوال: شاعر نے ہر بند کے آخر میں چڑیوں کو کس کام کے لئے بار بار کہا ہے ؟

جواب۔ شاعر نے ہر بند کے آخر میں چڑیوں کو گانا گانے کے لئے کہا ہے۔

Advertisement

شعر مکمل کیجۓ۔

ہوا میں کبھی اڑ کے بازو ہلاؤ ۔۔۔کبھی صاف چشموں میں غوطہ لگاؤ ۔

2۔چمک کر کبھی شاخ پر چہچہاؤ۔اچھل کر کبھی نہر پر گنگناؤ۔

Advertisement

3۔ کبھی برگ تازہ کو منہ میں دباؤ۔کبھی کنج میں بیٹھ کر پھڑپھڑاؤ

نیچے دیے ہوئے لفظوں میں مذکر مؤنث کی نشاندہی کیجۓ۔

مذکرچشمہ, پھول,
مؤںثنہر, گھاس, شاخ, ہوا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجۓ۔

غوطہ لگاناسہیل نے نہر میں غوطہ لگایا
پھڑپھڑاناچڑیا ں پر بیٹھی اپنے پروں کو پھڑپھڑا رہی تھیں ۔۔
چہچہانا صبح کے وقت پرندوں کی چہچہاہٹ کانوں میں رس گھول دیتی ہے ۔
اچھلناحامد شیر کو دیکھ کر اچھل گیا.
دل لبھانا چڑیاں اپنی مدھر آوازوں سے سب کا دل لبھاتی ہیں۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement