Advertisement

افسانہ نیا قانون کا خلاصہ:

"نیاقانون” سعادت حسن منٹو کا افسانہ ہے۔افسانے کی کہانی اس دور کی عکاس ہے جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکمرانی تھی۔ کہانی کا مرکزی کرادر منگو ہے۔منگو ایک کوچوان ہے۔ جو پڑھا لکھا بالکل نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے اڈے پر سب سے عقلمند سمجھا جاتا ہے۔وہ کبھی سکول تک نہیں گیا مگر اس سب کے باوجود وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے منگو کو اس کی معلومات ہے۔منگو کے پاس اس سب معلومات کا واحد ذریعہ اس کی سواریاں ہیں جن کی مدد سے اس کی معلومات میں اضافہ ہوتاہے۔وہ اڈے پر اپنا تانگہ چلاتا اور سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا کرتا تھا۔اسے دنیا کے نت نئے حالات کی خبر ہوتی تھی اور یہ سب اسے اس کی سواریوں کی مدد سے معلوم ہوتا کہ جب بھی کوئی سواری دوران سفر مختلف امور یا حالات پر تبادلہ خیال کرتی تو وہ ان کی باتیں پوری توجہ سے سنتا۔اسی بنا پر اسے دنیا کے حالات کی خبر رہتی۔

منگو کو انگریزوں سے شدید نفرت ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہندوستان پر اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں۔انگریزوں سے اس کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ اسے ان کی شکل دیکھ کر بھی الٹی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ یکم اپریل سے نئے قانون کے انتظار میں ہے۔

Advertisement

ایک روز منگو نے سواری کے منھ سے سپین میں چھڑنے والی جنگ کا سنا تو اس نے اپنے حلقے میں اس بات کا ذکر کیا کہ جلد سپین میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔جب سپین میں جنگ کا آغاز ہوا تو منگو کی معلومات پر سب لوگ عش عش کر اٹھے۔اب جب منگو نے اپنی سواریوں کے منھ سے یکم اپریل سے نئے قانون کا سنا تواسے لگا کہ سب کچھ بدلنے والا ہے۔

نئے قانون کا سوچ کر ہی منگو کے جسم میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی تھی۔منگو نے اشتراکی سرگرمیوں کو ‘انڈیا ایکٹ’ کے ساتھ جوڑ کر نئے قانون کا نام دیا۔پہلی اپریل کو منگو نے دیکھا کہ اسے کچھ بھی نیا محسوس نہ ہو رہا تھا۔وہ نئے قانون کو عملی طور پر دیکھنا چاہتا تھا۔

منگو طبعاً جلد باز تھا۔وہ نئے قانون کے انتظار میں اتنا بے قرار تھا کہ ایک انگریز سواری کو دیکھتے ہی اس کے دل میں نفرت کے جذبات امڈ آئے۔اس نے اس انگریز پر گھونسوں، جوتوں کی برسات کر دی۔آخر میں منگو کو پولیس پکڑ کے لے گئی مگر وہ مسلسل نیا قانون نیا قانون پکار رہا تھا۔یوں منٹو نے منگو کے ذریعے صیح طور پر ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کے لیے نفرت کے جذبات کو دکھایا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے۔

سوال نمبر01:استاد منگو کون تھا اور اسے دنیا کے حالات کی خبریں کس طرح ملا کرتی تھیں؟

استاد منگو ایک کوچوان تھا۔ جو اڈے پر اپنا تانگہ چلاتا اور سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا کرتا تھا۔اسے دنیا کے نت نئے حالات کی خبر ہوتی تھی اور یہ سب اسے اس کی سواریوں کی مدد سے معلوم ہوتا کہ جب بھی کوئی سواری دوران سفر مختلف امور یا حالات پر تبادلہ خیال کرتی تو وہ ان کی باتیں پوری توجہ سے سنتا۔اسی بنا پر اسے دنیا کے حالات کی خبر رہتی۔

سوال نمبر02:منگو کوچوان انگریزوں سے کیوں نفرت کیا کرتا تھا؟

منگو کوچوان کی انگریزوں سے نفرت تھی، جس کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ انگریز ہندوستان پر اپنا سکہ چلا رہے ہیں اور وہ ہم پر طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستاتا کرتے تھے۔وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے کہ جیسے وہ ذلیل کتا ہو۔اس کے علاوہ منگو کو ان گوروں کا رنگ ہر گز پسند نہ تھا۔نہ جانے کیوں ان کے سرخ و سپید رنگ دیکھ کر منگو کو الٹی آتی تھی۔

سوال نمبر03:”نیا قانون” کے آنے کی خبر سے منگو کوچوان کیوں خوش تھا؟

نیا قانون آنے سے منگو اس لیے خوش تھا کہ اسے لگتا کہ نیا قانون آنے سے بہت کچھ بدل جائے گا۔ ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی۔

عملی کام:

منگو کا کردار اپنے الفاظ میں بیان کیجئے۔

منگو ایک کوچوان ہے۔ جو پڑھا لکھا بالکل نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے اڈے پر سب سے عقلمند سمجھا جاتا ہے۔وہ کبھی سکول تک نہیں گیا مگر اس سب کے باوجود وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، منگو کو اس کی معلومات ہے۔منگو کے پاس اس سب معلومات کا واحد ذریعہ اس کی سواریاں ہیں جن کی مدد سے اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ منگو کو انگریزوں سے شدید نفرت ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہندوستان پر اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں۔انگریزوں سے اس کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ اسے ان کی شکل دیکھ کر بھی الٹی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ یکم اپریل سے نئے قانون کے انتظار میں ہے۔

درج ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے۔

جنگامن
جدیدقدیم
سستچست/تیز
سروربے سروری
گمان بد گمان

نیچے لکھے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

ہوا سے باتیں کرنا تیز رفتار کار پر سفر کرتے ہوئے یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہوا سے باتیں کررہا ہوں۔
خون کھولنااپنے دشمن کو نگاہوں کے سامنے دیکھ کر احمد کا خون کھولنے لگا۔
جان میں جان آنا بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے صیح سلامت دیکھ کر ماں کی جان میں جان آئی۔
نزلہ گرنا غلطی کسی کی بھی ہو مالک کا نزلہ ہمیشہ ملازم پر گرتا ہے۔