Advertisement

️نظم کی تعریف کیجئے:

نظم کا مطلب انتظام کرنا اور دھاگے میں موتی پرونے کے ہیں۔ نظم سے مراد ہر قسم کی شاعری ہے۔ اور یہ نثر کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ شاعری کے ابتدا ئی زمانے سے آگے بڑھنے کے بعد نظم خود ایک صنف بن گئی۔جو کسی خاص موضوع پر ایک طے شدہ بحر یعنی وزن اور قافیوں میں کہی جاتی ہیں، اس کی کوئی خاص شکل نہیں ہے، اس میں سلسلے وار شعر بھی لکھے جاتے ہیں۔ تین مصرعوں کے بند اور ضرورت کے مطابق ان سے زیادہ تعداد میں مصرعوں کے بند پر نظمیں لکھی جاتی ہے، اس طرح کی نظم کو پابند نظم کہتے ہیں۔

Advertisement
  • جدید زمانے میں نظم اپنے پابند دائرے سے باہر نکلی اور اس کی کئی قسمیں پیدا ہوگئیں، جو مندرجہ ذیل ہیں۔
  • ▪️(1) معریٰ نظم
  • ▪️(2) آزادنظم
  • ▪️(3) نثری نظم

🔺1 نظم معریٰ:

اس نظم کو کہتے ہیں جس میں قافیہ کی پابندی نہیں کی جاتی مگر بحر کے مقررہ اوزان استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی اگر پہلے مصرعے میں بحر کے چار ارکان استعمال ہوتے ہیں تو اس کی پابندی نظم کے ہر مصرعے میں ہوتی ہے۔
عام لفظوں میں نظم معریٰ بلا قافیہ نظم کو کہتے ہیں۔
نطم معریٰ اردو میں "انگریزی” ادب سے آئی۔

Advertisement

🔺 2 آزاد نظم:

اس نظم کو کہتے ہیں جس میں ردیف اور قافیہ کی پابندی نہیں کی جاتی۔
آزاد نظم میں بحر اور وزن کی پابندی تو ہوتی ہے مگر ارکان بحر کی تعداد ہر مصرعے میں متعین نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے مصرعے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر ان مصرعوں کا وزن میں ہونا ضروری ہے۔

Advertisement

🔺3 نظم نثری:

اس نظم کو کہتے ہیں جس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔ اور ان کو کسی وزن میں لکھنا بھی ضروری نہیں ہے۔ اس طرح نثری نظم قافیہ، ردیف، وزن اور دوسری سبھی پابندیوں سے آزاد ہوتی ہے۔ لیکن نثری نظم میں ایک ہی عنوان، ایک ہی مضمون، ایک ہی بات یا ایک ہی خیال تسلسل سے پیش کیا جاتا ہے۔

▪️نظم نیکی اور بدی کے اشعار کی تشریح▪️

بند 1 :

ہے دنیا جس کا ناؤں، میاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہے
یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہیں اور پست کرے تو بستی ہے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اِس ہاتھ کرو اُس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے

حوالہ: یہ سبق ہماری کتاب میں شامل ہے اور نظم "نیکی اور بدی” سے لیا گیا ہے۔ اس کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

Advertisement

تشریح: نظیر اکبر آبادی اس بند کے پہلے حصے میں کہتے ہیں کہ میاں جی یہ دنیا جس کا نام ہے، یہ ایک الگ ہی طرح کی بستی ہے یہ بستی مہنگے لوگوں یعنی دولت مندوں کے لیے بہت مہنگی ہیں۔ اور جو لوگ سستے ہیں، یعنی غریب ہیں ان کے لیے یہ دنیا سستی ہے، اس دنیا میں ہر دم کوئی نہ کوئی جھگڑا ہوتا رہتا ہے، اور ہر وقت ان جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے عدالت لگتی رہتی ہے، یہ دنیا ایسی ہے کہ یہ آپ کو مست کر دے گی تو مستی والی لگے گی۔ اور آپ کو نیچائی کی طرف لے جائے گی تو نیچی لگے گی۔ لیکن یہاں پر نہ دیر ہوتی ہے اور نہ اندھیر ہوتی ہے، اور یہاں پر سب کے ساتھ انصاف سے کام کیا جاتا ہے، یہاں جو اس ہاتھ سے کام کرو گے اس کا بدلہ اس ہاتھ مل جائے گا، یہاں پر سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔

بند 2 :

جو اور کسی کا مان رکھے تو پھر اس کو بھی مان ملے
جو پان کھلاوے پان ملے جو روٹی دے تو نہ ملے
نقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملے
جو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے۔

حوالہ: یہ سبق ہماری کتاب میں شامل ہے اور نظم "نیکی اور بدی” سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی۔

Advertisement

تشریح: نظیر اکبر آبادی اپنی نظم کے دوسرے بند میں کہتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئی شخص کسی کو عزت دے گا تو اس کو بھی بدلے میں خوب عزت ملے گی، اگر کوئی کسی کو پان کھلاۓ گا تو وہ بھی اس کو بدلے میں پان ہی کھلائے گا، اور کوئی روٹی کھلائے گا تو اس کو بھی بدلے میں روٹی ہی ملے گی، کسی کا نقصان کرے گا تو خود اس کا بھی نقصان ہوگا، اور کوئی کسی پر احسان کرے گا تو اس پر بھی لوگ احسان کریں گے، یعنی جیسا سلوک دوسروں کے ساتھ کرے گا تو اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہوگا، لیکن یہاں پر نہ دیر ہوتی ہے نہ اندھیر ہوتی ہے۔ اور یہاں پر سب کے ساتھ انصاف سے کام لیا جاتا ہے۔ یہاں جو اس ہاتھ سے کام کرو گے تو اُس کا بدلہ اس ہاتھ میں مل جائے گا یہاں پر سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔

بند 3 :

جو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی ناؤ اترنی ہے
جو غرق کرے پھر اس کو بھی یاں ڈبکو ڈبکو کرنی ہے
شمشیر،تبر، بندوق، سناں،اور نشتر، تیر ہنرنی ہے
یا جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہے
کچھ دیر ہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے۔

حوالہ : یہ سبق ہماری کتاب میں شامل ہے اور نظم "نیکی اور بدی” سے لیا گیا ہے اس شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

Advertisement

تشریح : نظیر اکبر آبادی اپنی نظم کے تیسرے بند میں کہتے ہیں کہ جو کسی کی کشتی کو اس پار پہنچا دے گا تو اس کی کشتی بھی کنارے پر لگ جائے گی۔ اگر کوئی کسی کو ڈبوئےگا تو وہ بھی ضرور ڈوبے گا۔ تلوار، بھالے، بندوق، چھری، چاقو، تیر، اُسترے یہ سارے ہتھیار ہیں۔ ایسے میں جو جیسا جیسا کام کرے گا اس کو ویسا ہی پھل ملے گا۔ یہاں پر نہ دیر ہوتی ہے نہ اندھیر ہوتی ہے۔ اور یہاں پر سب کے ساتھ انصاف کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔ یہاں جو اس ہاتھ سے کام کرو گے اس کا بدلہ اس ہاتھ مل جائے گا، یہاں پر سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔

بند 4 :

جو اور کا اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہے
اور دے پٹکے تو اس کو بھی پھر کوئی پٹکنے والا ہے
بے جرم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے
اس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے۔

حوالہ : یہ سبق ہماری کتاب میں شامل ہیں اور نظم "نیکی اور بدی” سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

Advertisement

تشریح: نظیر اکبر آبادی اس نظم کے آخری بند میں کہتے ہے کہ جو کسی کی بات کو اونچی رکھے گا تو اس کے بات بھی دنیا میں اونچی ہوگی۔ اور اگر کوئی کسی کو گرائے گا تو اس کو بھی کوئی گرا دے گا۔ اگر کوئی کسی بےجرم اور بے خطا شخص کو قتل کر ڈالے گا تو اس ظالم کا خون بھی ندی نالے کی طرح بہا دیا جائے گا۔ یہاں پر نہ دیر ہوتی ہے نہ اندھیر ہوتی ہے۔ اور یہاں پر سب کے ساتھ انصاف سے کام کیا جاتا ہے۔ یہاں جو اس ہاتھ سے کام کرو گے، اس کا بدلہ اس ہاتھ مل جائے گا۔ یہاں پر سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔

🔺غور کیجئے🔺

نظیر اکبر آبادی نے اپنی اس نظم میں ناؤں، یاں اور لوہو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ایسے الفاظ اٹھارویں صدی میں استعمال ہوتے تھے موجودہ زمانے میں ناؤں کو نام یاں کو یہاں اور لوہو کو لہو بولا اور لکھا جاتا ہے۔

Advertisement

▪️ نذیر نے اپنی نظم کے آخری بند میں لفظ ذبح استعمال کیا ہے۔ جو اس طرح ہے ذِ بَ حْ ہے۔ یعنی ذ کے نیچے زیر ب پر زبر اور ح پر جزم کا استعمال کیا ہے، مگر اس لفظ کا صحیح تلفظ ذِبْحْ ہے جو اس طرح ہوگا ذ کے نیچے زیر ب اور ح پر جزم ہونا چاہیے۔

▪️سوالات و جوابات▪️

سوال 1 : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستی بتایا گیا ہے؟

جواب : نظم کے پہلے بند میں دنیا کو الگ طرح کی بستی بتایا گیا ہے۔جو مہنگوں کے لیے مہنگی ہے اور سستوں کے لیے سستی ہے۔ یہاں ہر دم جھگڑے ہوتے ہیں ہر دم عدالت لگتی ہے۔ جو مست ہو اس کے لیے دنیا مستی اور جو پست ہو جائے اس کے لیے دنیا پستی ہے۔ یہاں نہ دیر ہے نہ اندھیر ہے۔ بلکہ انصاف ہے۔ جو اس ہاتھ سے کرتا ہے، اس کا بدلہ اُس ہاتھ سے ملتا ہے۔ یہاں سارے سودے ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔

Advertisement

سوال 2 : "کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب : شاعر کی مراد یہ ہے کہ آدمی کو اس کے عمل کا ویسا ہی نتیجہ ملنے میں نہ دیر ہوتی ہے نہ اندھیرے ہوتی ہے بلکہ انصاف سے کام کیا جاتا ہے۔

سوال 3 : کس کی ناؤ پر اُترتی ہے؟

جواب : اس شخص کے ناؤ پار اترتی ہے جو دوسرے کی ناؤ کو پار اتارا ہے۔

Advertisement

سوال 4 : ظالم کو ظلم کا کیا بدلہ ملتا ہے؟

جواب : ظالم جیسا ظلم کرتا ہے اس کو ویسا ہی برا نتیجہ ملتا ہے۔

Advertisement

⭕️ نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

جیسی کرنی ویسی بھرنیکامران نے محنت کی پاس ہو گیا اسے کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
بول بلا ہونامحمد رفیع کے خوبصورت نغموں نے ان کا بول بالا کر دیا۔
پار اُتارنامناسب کوشش سے کشتی پار اُتر جاتی ہے۔
مان رکھنامیرے کہنے پر اس نے کام پورا کر دیا، یعنی اس نے میرا مان رکھ لیا۔

⭕️ جالی جگہوں میں اسم یا فعل بھرنی۔

  • 1۔ یہ دنیا اور طرح کی…..بستی….. ہے۔
  • 2۔ یہاں ہر دم جھگڑے….. اٹھتے….. رہتے ہیں۔
  • 3۔ جو اوروں کو پار اتارتا ہے اس کی ناؤ بھی پار…..اُترتی….. جاتی ہے۔

⭕️ عملی کام:

آپ کو جو محاورے یاد ہیں ان میں سے تین محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

باغ باغ ہوناکامران پاس ہوا تو باغ باغ ہو گیا۔
دانتوں تلے انگلی دباناقدرت کے کرشمے دیکھ کر دانتوں تلے انگلی دبانی پڑتی ہے۔
نو دو گیارہ ہوناپولس کو دیکھتے ہی چور نو دو گیارہ ہو گیا۔

⭕️نظیر اکبر آبادی کے حالات زندگی۔

  • اصل نام : ولی محمد
  • تخلص : نظیر
  • پیدائش : 1740ء دہلی میں
  • وفات :1830ء اکبرآباد (آگرہ) میں۔
  • نظیر اکبر آبادی 1940 اسی میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شیخ ولی محمد تھا۔ اور تخلص نظیر تھا۔ نظیر، نظیراکبر آبادی کے نام سے ادبی دنیا میں مشہور ہوئے۔ کیوں کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اکبر آباد آگرہ میں آ کر بس گئے تھے۔ ان کے زمانے میں بڑے بڑے شاعر موجود تھے۔ اور مختلف دبستان تھے۔ مگر انہوں نے کسی کا اثر قبول نہیں کیا۔ اور اپنی شاعری کا انوکھا انداز نکالا جس کے آج تک کوئی مثال پیدا نہ ہوسکی۔

نظیر نے غزل کے بجائے نظم پر توجہ دیں اور عوامی زندگی سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر دلچسپ اور آسان میں لکھیں۔ استادوں کا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں دوسرے شاعروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ عوامی زندگی کے الفاظ جن کو عام طور پر شاعروں نے نظر انداز کیا ایسے الفاظ نذیر نے اپنی شاعری میں بے تکلف استعمال کیے ہے۔ اس لئے ان کو عوامی شاعر بھی کہا جاتا ہے اور ان کے جدید اردو نظم کا بانی بھی قرار دیا گیا ہے۔ حیرت کے بات ہے کہ نظیر کو ان کی زندگی میں زیادہ اہمیت نہ مل سکےی۔ مگر ان کے مرنے کے بعد ان کو نظم کا استاد/شاعر تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کا انتقال 1830ء میں اکبر آباد میں ہوا۔

Advertisement
تحریر▪️ارمش علی خان محمودی▪️
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement