Advertisement

سبق نمبر20:رباعی
شاعر کا نام:میر ببر علی انیس

رباعیات انیس کی تشریح:

رباعی نمبر01:

گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں
یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں
ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے
حیراں ہو کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

میر انیس اپنی اس رباعی میں قدرت کے جلوؤں اور مناظر فطرت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قدرت کے اتنے حسین نظارے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ باغوں میں پھرا جائے یا صحراؤں کا حسن دیکھا جائے۔یہاں کی کانیں،پہاڑ،جنگل،دریا اور نہ جانے کیا کیا دیکھا جائے۔ہر جگہ تو خدا کی قدرت کے جلوے بکھرے ہوئے ہیں۔دیکھنے کو اتنے زیادہ مناظر موجود ہیں مگر میں حیران ہوں کہ میں اپنی دو آنکھوں سے کیا کیا کچھ اور کتنا دیکھ سکتا ہوں۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:”گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

گلشن میں پھرنے سے شاعر کی مراد ہے کہ میں قدرت کے بنائے حسین باغات کی سیر کروں یا سیر صحرا سے مراد ہے کہ یہاں کے خوبصورت صحرا دیکھوں۔

سوال نمبر02:قدرت کے جلووں کی کثرت نے شاعر پر کیا اثر ڈالا؟

قدرت کے جلوؤں کی کثرت نے شاعر پر یہ اثر ڈالا ہے کہ شاعر یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ قدرت کے اتنے زیادہ اور دلفریب مناظر ہیں مگر وہ اپنی دو آنکھوں سے کیا اور کتنا کچھ دیکھے۔

Advertisement

عملی کام:

اس رباعی میں کچھ ایسے الفاظ آئے ہیں جن کے درمیان ‘و’ کا استعمال ہوا ہے۔جیسے "معدن و کوہ”۔دو لفظوں کے اس طرح ملانے والے حرف کو حرف عطف کہتے ہیں۔آپ ایسی پانچ تراکیب لکھیے جن میں حرف عطف کا استعمال کیا گیا ہو۔

دشت و دریا، آہ و فغاں،قوت و ناں،بے دست و پا،جاہ و ثروت۔وغیرہ۔

رباعی نمبر02:

رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے

شاعر میر انیس اس رباعی میں انسانی فطرت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برتری اور تنزلی انسانی زندگی کا حصہ ہے۔اللہ تعالیٰ اگر انسان کو کوئی رتبہ عطا کرتا ہے تو بعض انسان اپنے دل میں برتر رتبے کے ساتھ بھی اپنے دل اور مزاج میں عاجزی و انکساری کو لے آتے ہیں۔جبکہ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو کوئی عہدہ یا رتبہ عطا ہوتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں عاجزی و انکساری کی جگہ غرور و تکبر کو لے آتے ہیں۔ایسے لوگ خود کو بہت اعلیٰ و برتر خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جو ظرف کے تھوڑے ہوتے ہیں۔ان کا ایسا کرنا ان کی کم ظرفی کو دکھاتا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:-دل میں فروتنی کو جا دینے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

دل میں فروتنی کو جا دینے سے شاعر کی مراد ہے کہ اپنے مزاج میں عاجزی و انکساری کو لے آنا۔

Advertisement

سوال نمبر02:شاعر خالی ظرف کی صدا سے کیا سمجھانا چاہتا ہے؟

خالی ظرف کی صدا سے شاعر یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ جن لوگوں کے ظرف چھوٹے ہوتے ہیں ان کو اگر کوئی عہدہ یا رتبہ دیا جاتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں عاجزی لانے کی بجائے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ رویہ ان لوگوں کی کم ظرفی دکھاتا ہے۔

Advertisement

Advertisement