Advertisement
  • سبق نمبر18: کہانی
  • مصنف کا نام: رتن سنگھ
  • سبق کا نام: کاٹھ کا گھوڑا

خلاصہ سبق:کاٹھ کا گھوڑا

سبق “کا ٹھا کا گھوڑا” کے تناظر میں وقت کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکنے والے لوگوں کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔کہانی کاآغاز بندو کے گھوڑے کی سست رفتاری سے ہوتا ہے جو بیچ سڑک میں رک جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ کوئی کاٹھ کا گھوڑا بن گیا ہو۔جو نہ اپنے آپ ہل سکتا ہو اور نہ آگے بڑھ سکتا ہو۔

بندو اور اس کے اس گھوڑے کی وجہ سے اندھیر ویو کا تنگ بازار قریب بند ہو کر رہ گیا۔ضرورت سے زیادہ سامان لدے ہونےاور چڑھائی کی وجہ سے یہ گھوڑا بیچ راستے میں رک گیا۔اس کے پیچھے کاریں ، بسیں ، موٹر سائیکل غرض تمام تیز رفتار گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔انھی کے بیچ تانگے و رکشے پھنسے ہوئے تھے۔ان گاڑیوں میں وزیر ، سیٹھ ، تاجر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات ، افسر ، فوجی ، دوکاندار ، طالب علم ، ڈاکٹر ، نرس ، انجنئیر غرض ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔

Advertisement

بندو کی سست رفتاری کی وجہ سے ایک طرح سے ان سب کی رفتار دھیمی پڑ چکی تھی۔وزیرجسے کسی غیر ملکی وفد سے ملنا تھا بار بار اپنی گھڑی کو دیکھتا جس سے اس کی بے چینی ظاہر ہو رہی تھی۔اس کا ڈرائیور کار سے اتر کر دیکھتا اور واپس آ کر گاڑی میں بیٹھ جاتا کہ آگے راستہ بند تھا۔کاروباری حضرات اس سب سے پریشان ہو رہے تھے کہ ان کا ایک ایک منٹ گھاٹے کا سودا تھا جبکہ طالب علم طبقہ خوش کہ جتنے پیریڈ نکل جائیں اچھا ہے۔

Advertisement

اسی طرح ریلوے کا ڈرائیور پریشان تھا کہ اس جس گاڑی کو لے کر نکلنا تھااس کا وقت ہوا چاہتا تھا جبکہ فوجی بار بار ہارن بجاتا تھا کہ دیر سے پہنچنے پر اس کا کمانڈنٹ اس سے اضافی دس کلومیٹر کا مارچ کروائے گا۔ لیکن بندو ان سب سے بے نیاز تھا۔اس کے ٹھیلے پر نہ صرف بوجھ ضرورت سے زیادہ لدا ہوا تھا بلکہ اس کی کیفیت اس کاٹھ کے گھوڑے جیسی ہو رہی تھی جو اس نے اپنے بچپن نیں خریدا اور جب خوشی خوشی دوستوں کو دکھانے گیا تو ان کے پاس اس سے تیز رفتار کھلونے جیسے کہ ریموٹ کار وغیرہ دیکھ کر اسے اپنا کھلونا بہت بے وقعت لگا اور اس نے آگ میں جھونک دیا۔ مگر اس کاٹھ کے گھوڑے نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔

Advertisement

اس کے ساتھ کھیلنے والے یہی بچے پڑھ لکھ کر کوئی افسر اور وکیل جبکہ کوئی ماسٹر بن گیا مگر بںدو وہی کاٹھ کا گھوڑا رہا۔ کیونکہ اس کا باپ بھی ٹھیلا کھینچتا تھا اور وہ بھی یہی کر رہا تھا۔وہ اکثر سوچتا کہ وہ ان سب سے پیچھے کیسے رہ گیا۔ بںدو نے سکول جانا اس لیے بںد کر دیا تھا کہ اسے اس کی ضرورت کی چیزیں نہیں مل پاتی تھیں۔جب وہ اپنی زندگی کی گاڑی نہ کھینچ پایا تو اب یہ ٹھیلہ کیوں کر کھینچ پاتا۔جیسے ہی اسے اپنے چندو کا خیال آیا کہ اسے بھی اس کی طرح یہ بوجھ کھینچنا پڑے گا تو اس کے پیروں تلے سے زمین سرکنے لگی۔

اس کے پیچھے رکنے والے لوگ ہارن بجا کر اپنے غصے کا اظہار کرنے لگے۔ایک شخص کہنے لگا کہ بھیا جلدی کرو تمھارے پیچھے دنیا رکی پڑی ہے۔ بندو نے ان سے جھنجھلا کر کہا کہ اگر وہ لوگ تیز جانا چاہتے ہیں تو انھیں بولو کہ میرے پیروں میں بھی پہیے لگوا دیں۔جہ سن کر کسی نے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی اتنا تیز رفتار ہو جائے کہ ہوا سے باتیں کرنے لگے اور کوئی اتنا سست رفتار کہ قدم تک نہ اٹھا پائے۔بںدو کا کاٹھ کا گھوڑا بھی اپنے پیچھے لوگوں کا ایک ہجوم لیے کھڑا ہو گیا تھا کہ اس کے پاؤں میں حرکت آئے گی تو ان لوگوں کی زندگی آگے بڑھے گی۔

Advertisement

⭕️ مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کریں:

اقتباس:”یوں تو وزیر اپنی کار میں بیٹھا کچھ لوگوں سے گفتگو کر رہا ہے۔ لیکن بے چینی سے بار بار گھڑی دیکھ رہا ہے کیونکہ غیر ملکی وفد سے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہوگیا ہے۔ اس کا ڈرائیور گھبرایا ہوا کار سے اترتا ہے۔ کچھ دور جا کر دیکھ کر آتا ہے۔ اور پھر مایوس ہو کر گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگتا ہے۔”

حوالہ: یہ اقتباس ہماری کتاب جان پہچان میں شامل ہے۔ اور سبق کہانی “کاٹھ کا گھوڑا” سے لیا گیا ہے۔ اس کے مصنف رتن سنگھ ہے۔

Advertisement

تشریح: دراصل بندوں کا ٹھیلہ بہت دھیرے چلتا ہے۔ وہ ایک بھیڑ بھاڑ علاقے میں پھنس جاتا ہے۔ اور ایسا کاٹ کا گھوڑا بن جاتا ہے جو ہلبھی نہیں سکتا۔ راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اسی راستے میں وزیر کی کار بھی پھنس جاتی ہے۔ ویسے تو وزیر کار میں اپنے ساتھیوں سے بات کر رہا ہے۔ مگر وزیر کو بہت بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔ اور وہ بار بار اپنی گھڑی میں وقت دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ باہر سے آئے ہوئے کچھ لوگوں کی جماعت سے ملنے کا وقت بہت نزدیک آ رہا ہے۔ وہ یہ بات سمجھ نہیں سکا کہ آگے سے راستہ اس طرح کیوں بند ہو گیا ہیں؟ وزیر کا ڈرائیور بھی بار بار اپنی گاڑی سے اتر کر اور آگے کی طرف جا کر دیکھ کر آتا ہے اور پھر انتظار کرنے لگتا ہے۔

⭕️ غور کریں:

▪️ہم اس دنیا رات دن دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے کاروبار کی دوڑ دھوپ میں بہت آگے نکل جاتے ہیں اور کچھ لوگ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔
▪️ہمیں غور کرنا چاہئے کہ جو آگے نکلتے ہیں تو وہ کیوں نکلتے ہیں۔ اور جو پیچھے رہتے ہیں تو کیوں رہ جاتے ہیں۔
▪️ہمیں ان لوگوں کے نقشے قدم پر چلنا چاہئے جو لوگ بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
▪️ہمارے لیے یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پیچھے رہ جانے والے لوگ پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں۔
▪️ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا علم ہو جائے تو ہم اپنی منزل کی طرف پہنچنے میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔

Advertisement

⭕️سوالات و جوابات:

سوال1: بندو کو کاٹھ کا گھوڑا کیوں کہا گیا ہے؟

جواب: بندو کو کاٹھ کا گھوڑا اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ہل ڈُل نہیں سکتا۔

سوال2: بندو کی سست رفتاری کا اثر کن لوگوں پر پڑا؟

جواب: کہ ملک کے بڑے بڑے کارخانے دار، کاروباری، دفتروں کے افسر، دکاندار، وردیوں والے فوجی اور پولیس والے سفید کالروں والے بابوں عام آدمی، سودا سلف خریدنے کے لیے گھروں سے نکلیں عورتیں، اسکولوں اور کالجوں کے بچے، ڈاکٹر، نرس، انجینئر سبھی کے سبھی ٹھہر گئے ہیں۔ لگتا ہے جیسے بندوں کی سست رفتاری کی وجہ سے سارے شہر بلکہ ایک طرح سے یوں کہا جائے کہ سارے ملک، ساری دنیا کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔

Advertisement

سوال3: وزیر کی بےچینی کا سبب کیا تھا؟

جواب: وزیر کی بے چینی کا سبب یہ تھا کہ اس کا غیر ملکی وفد سے ملنے کا وقت نزدیک آرہا تھا اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہوگیا ہے؟

سوال4: کاروباریوں کے لیے “پل” کے معنی لاکھوں کے گھاٹے کیوں ہیں؟

جواب: کاروباریوں کے لیے “پل” کے معنی لاکھوں کے گھاٹے اس لیے ہیں کہ وہ ایک پل میں لاکھوں روپے کا سودا کرتے ہیں۔

Advertisement

سوال5: چندو کے بارے میں بندو کے ذہن میں کیا خیال آیا؟

جواب: بندوں کے ذہن میں اپنے آٹھ نو سال کے بیٹے چندو کے بارے میں یہ خیال آیا کہ اس نے صرف اس وجہ سے اسکول جانا بند کر دیا ہے کہ وہ اس کے لئے ضرورت کی چیزیں جٹا نہیں پاتا۔

سوال6: پیروں میں پہئے لگوانے سے بندو کی مراد کیا تھی؟

جواب: پیروں میں پہئے لگوانے سے بندو کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ تیزی سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مجھے اپنی طرح تیز بنا دیں۔

Advertisement

⭕️ لفظوں کے جملے بناۓ:
﴿قطار، رفتار، کیفیت، فخر، دشوار، حرکت﴾

قطارضرورت مندوں کی قطار لمبی ہوتی جا رہی ہے۔
رفتاروقت کی رفتار سے قدم ملا کر چلنا چاہیے۔
کیفیتہمیں ہر کیفیت میں صابر و شاکر رہنا چاہیے۔
فخراچھی باتوں پر فخر کرنا چاہئے
دشوارمحنت اور لگن سے دشوار کام بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
حرکتحرکت کرنے میں ہی برکت ہے۔

⭕️ خالی جگہیں بھریے:
﴿حرکت، سوانگ، رفتار، ساکت، شخصیت﴾

  • 1۔ ساری دنیا کی….. رفتار….. دھیمی پڑ گئی۔
  • 2۔ ان کھلونوں کے سامنے اس کا کاٹھ کا گھوڑا….. ساکت….. بے جان تھا۔
  • 3۔ اس نے بھی اپنے گھوڑے کے ٹانگوں کے بیچ پھنسا کر دوڑنے کا….. سوانگ….. کیا تھا۔
  • 4۔ وہ بے جان کاٹھ کا گھوڑا اس کی….. شخصیت….. سے چپک کر رہ گیا۔
  • 5۔ اس کے پاؤں میں….. حرکت….. آۓ تو زندگی بڑھے۔

⭕️ جملوں پر غور کیجئے:

  • 1۔ اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچے خوش ہیں۔
  • 2۔ ان کے پاس رسی کے سہارے گھومنے والے رنگین لٹو تھے۔
  • 3۔ کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ ان کی پڑھائی پیچھے رہ جائے گی۔

نوٹ:
پہلے جملے کے آخر میں (ہیں) ہے۔
دوسرے جملے کے آخر میں (تھے) ہے۔
تیسرے جملے کے آخر میں (گی) ہے۔

(ہیں) سے معلوم ہوتا ہے کہ بات موجودہ زمانے کی ہے۔ موجودہ زمانے کو حال کہتے ہیں۔

Advertisement

(تھے) سے معلوم ہوتا ہے کہ بات گزرے زمانے کی ہے، گزرے زمانے کو ماضی کہتے ہیں۔

(گی) سے معلوم ہوتا ہے کہ بات آنے والے زمانے کی ہے، آنے والے زمانے کو مستقبل کہتے ہیں۔

Advertisement

⭕️ جملوں کی نشاندہی کریں:

  • 1۔ ارمش علی کل آئی تھی۔ (ماضی)
  • 2۔ ارمش بازار سے لوٹ آئی ہے۔ (حال)
  • 3۔ گرمی کا موسم جا رہا ہے۔ (حال)
  • 4۔ ہم عید کے دن ملیں گے۔ (مستقبل)
  • 5۔ سردی کا زمانہ آۓ گا۔ (مستقبل)

⭕️ اپنے استاد کی مدد سے گھوڑے کی تصویر بنا کر اس میں مناسب رنگ بھرو۔

⭕️رتن سنگھ کی حالات زندگی:

نام : رتن سنگھ
پیدائش: 1927ء ضلع سیالکوٹ، قصبہ داؤد پاکستان میں
تعلیم : مقامی اسکول سے میٹرک تک حاصل کی۔

وطن کی تقسیم کے بعد رتن سنگھ ہندوستان چلے آئے اور آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کرنے لگے۔ ملازمت کے دوران رتن سنگھ ہندوستان کے کئی مختلف شہروں میں رہے۔ رتن سنگھ کو شروع ہی سے افسانہ نگاری کا شوق تھا۔ رتن سنگھ نے کئی کہانی لکھیں۔ رتن سنگھ کو افسانے کی دنیا میں بہت شہرت ملی۔ رتن سنگھ کے کئی افسانوی مجموعہ سائع ہوئے۔ ان کے دو مشہور ناول بھی ہیں۔ انہوں نے دوسری زبانوں کے مضامین کے ترجمے بھی کیے ہیں۔ اور کچھ نظمیں وغیرہ بھی لکھی ہیں۔ ان کا نثر میں اندازِ بیان بہت صاف ستھرا، سادہ، دلکش،آسان، سہل اور خوبصورت ہیں۔ ان کی عوامی نثر نگاری واقعی میں قابل تعریف ہے۔

Advertisement
تحریر ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی