Advertisement

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021ء

ٹیم پاکستان کی سلیکشن سے لے کر آسٹریلیا سے سیمی فائنل ہارنے تک کی کہانی انتہائی دلچسپ رہی۔سلیکشن پر کئی سوالات اٹھائے گئے اور بالآخر عین وقت پر درست فیصلے کر کے ٹیم پاکستان کو مضبوط بنایا گیا۔انڈیا کے خلاف پہلے ہی میچ میں ٹیم پاکستان نے جیت کا تسلسل اپنایا اور اپنے گروپ کے سارے میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلے درجے پر نظر آئی۔ٹیم پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نظر آیا کہ وہ دونوں گروپس میں زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔کھلاڑیوں نے جس اسپرٹ اور جنون کے ساتھ کھیلا وہ ناقابل یقین تھا۔ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ گرین شرٹس نے ورلڈ کپ کے کسی میچ میں مستقل حریف انڈیا کو ایک یک طرفہ مقابلے کے بعد 10 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ کو بدل دیا۔اس کے بعد ان کی جیت کا تسلسل برقرار رہا اور ہر میچ میں ایک الگ کھلاڑی مین آف دی میچ رہا۔یقینی طور پر جیت کے اس تسلسل نے پاکستان الیون کو ایک انوکھا اعتماد دیا۔بھارت اور آسٹریلیا سے ہم ورلڈ کپ کے کسی بھی میچ میں کامیابی حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں۔یقینی طور پر اس چیز کا نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے اور اس دباؤ کے باوجود ٹیم پاکستان نے اس دفعہ اچھی کرکٹ کھیلی ہے۔پاکستان کی فیلڈنگ میں ہمیشہ سے ہی مسائل رہے ہیں لیکن اس دفعہ ٹیم پاکستان نے بلاشبہ تینوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔کئی کھلاڑی کھل کر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا اپنی پرفارمنس سے جواب دیا۔ آصف علی خاص طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اور انہی کی بدولت ٹیم پاکستان سیمی فائنل تک پہنچی ہے۔اپنی اس کارکردگی کی بنا پر وہ مین آف دی منتھ بھی قرار پائے۔
اوپننگ جوڑی نے بھی مسلسل اچھی کرکٹ کھیلی اور دوسری ٹیموں کو سیکھنے کا موقع فراہم کیا کہ پاور پلے میں وکٹ کو کیسے روکنا ہے۔مخالف ٹیموں نے ان کی اس حکمت عملی کو آہستہ آہستہ اپنانا شروع کر دیا۔مجموعی طور پر اس طرح کی کارکردگی ٹیم پاکستان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دکھائی۔محمد رضوان اور بابر اعظم لیڈنگ رول ادا کرتے ہوئے لیڈنگ رن سکورر رہے ہیں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ٹیم کے سارے کھلاڑی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ہر کھلاڑی کا دن ہوتا ہے اور وہ اپنے دن پر اچھی کرکٹ کھیلتا ہے۔حسن علی کے کیچ پکڑ لینے کی صورت میں میچ کی صورتحال مختلف ہو سکتی تھی لیکن اوس کی وجہ سے آخری اوورز میں فیلڈنگ انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔کوئی بھی کھلاڑی نہ تو جان بوجھ کر کیچ چھوڑتا ہے اور نہ ہی ہارتا ہے۔ٹیم پاکستان ہی ایک ایسی ٹیم بن کر سامنے آئی کہ جو بعد میں گیند بازی کرتے ہوئے بھی سکور کو ڈینفنڈ کرنے کے قریب قریب نظر آئی۔آسٹریلیا کے بارے میں عالم کرکٹ میں مشہور ہے کہ وہ مخالف ٹیم پر پریشر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔آغاز کے اوورز میں وہ پریشر ڈالنے میں کامیاب رہے۔اس کے باوجود گرین شرٹس نے میچ میں واپسی کی۔یہ ہمارے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ ہم غیر یقینی کی صورت میں بھی سیمی فائنل تک پہنچنے اور لڑ کر ہارے۔ لڑکے میچ کو آخری اوورز تک لے کر گئے جو کہ انتہائی قابل دید ہے۔
وہ قوم کبھی جیت نہیں سکتی جو ہار برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو۔ہمیں اس ہار کو بھول کر آگے بڑھنا ہے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہے۔ کھلائی نہایت دباؤ کا شکار ہیں اس وقت انہیں عوام کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔پاکستان کی اس پرفارمنس نے پاکستان پر کرکٹ کے دروازے کھول دیے ہیں۔اب ہر ملک پاکستان سے کرکٹ کھیلنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے صد فی صد درست کہا تھا کہ جب ہم اچھا کھیل کر ایک اچھی ٹیم بن جائیں گے تو بڑی بڑی ٹیمیں پاکستان سے کرکٹ کھیلیں گی۔لڑکوں نے اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے اور عالمی لیول کی کرکٹ کھیل کر دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔
جیت کا یہی تسلسل اگر قائم رہا تو وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب ٹیم پاکستان ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہو گی۔ایسی ہی پروفیشنل کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔محمد حفیظ اور شعیب ملک کی ریٹائرمنٹ کے بعد حیدر علی کو مستقل بنیادوں پر ٹیم میں موقع دینا چاہیے۔اگلے ورلڈ کپ تک ہماری ٹیم ایک مکمل ٹیم بن جانی چاہیے۔گرین شرٹس نے توقعات سے بڑھ کر اچھی کرکٹ کھیلی ہے لہذا انہیں ہماری سپورٹ کی ضرورت ہے۔جس طرح ورلڈ کپ میں سپورٹ کی تھی اسی طرح آنے والے ورلڈ کپ تک یہ سپورٹ جاری رہنی چاہیے۔
پورے ورلڈ کپ میں اس دفعہ جو پاکستانی ٹیم کی باڈی لینگویج نظر آئی یہ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔بابر اعظم کی کپتانی میں بھی مسلسل نکھار آتا جا رہا ہے۔وہ جس طرح ٹیم کو لے کر چلے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔پوری ٹیم میں اتحاد اور کوشش نظر آئی جس نے انہیں آخری گیند تک لڑنے کے قابل بنایا۔ہار ہی جیت کے قریب کرتی ہے۔ہارنے کے بعد جو جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ہمیں اپنی ٹیم پر فخر ہے جس نے ہمیں دنیا کی چار بڑی ٹیموں میں لا کر کھڑا کیا ہے۔
تحریر۔امتیاز احمد

Advertisement

ٹیم پاکستان کی سلیکشن سے لے کر آسٹریلیا سے سیمی فائنل ہارنے تک کی کہانی انتہائی دلچسپ رہی۔سلیکشن پر کئی سوالات اٹھائے گئے اور بالآخر عین وقت پر درست فیصلے کر کے ٹیم پاکستان کو مضبوط بنایا گیا۔انڈیا کے خلاف پہلے ہی میچ میں ٹیم پاکستان نے جیت کا تسلسل اپنایا اور اپنے گروپ کے سارے میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلے درجے پر نظر آئی۔ٹیم پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نظر آیا کہ وہ دونوں گروپس میں زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔کھلاڑیوں نے جس اسپرٹ اور جنون کے ساتھ کھیلا وہ ناقابل یقین تھا۔ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ گرین شرٹس نے ورلڈ کپ کے کسی میچ میں مستقل حریف انڈیا کو ایک یک طرفہ مقابلے کے بعد 10 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ کو بدل دیا۔اس کے بعد ان کی جیت کا تسلسل برقرار رہا اور ہر میچ میں ایک الگ کھلاڑی مین آف دی میچ رہا۔یقینی طور پر جیت کے اس تسلسل نے پاکستان الیون کو ایک انوکھا اعتماد دیا۔بھارت اور آسٹریلیا سے ہم ورلڈ کپ کے کسی بھی میچ میں کامیابی حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں۔یقینی طور پر اس چیز کا نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے اور اس دباؤ کے باوجود ٹیم پاکستان نے اس دفعہ اچھی کرکٹ کھیلی ہے۔پاکستان کی فیلڈنگ میں ہمیشہ سے ہی مسائل رہے ہیں لیکن اس دفعہ ٹیم پاکستان نے بلاشبہ تینوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔کئی کھلاڑی کھل کر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا اپنی پرفارمنس سے جواب دیا۔ آصف علی خاص طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اور انہی کی بدولت ٹیم پاکستان سیمی فائنل تک پہنچی ہے۔اپنی اس کارکردگی کی بنا پر وہ مین آف دی منتھ بھی قرار پائے۔
اوپننگ جوڑی نے بھی مسلسل اچھی کرکٹ کھیلی اور دوسری ٹیموں کو سیکھنے کا موقع فراہم کیا کہ پاور پلے میں وکٹ کو کیسے روکنا ہے۔مخالف ٹیموں نے ان کی اس حکمت عملی کو آہستہ آہستہ اپنانا شروع کر دیا۔مجموعی طور پر اس طرح کی کارکردگی ٹیم پاکستان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دکھائی۔محمد رضوان اور بابر اعظم لیڈنگ رول ادا کرتے ہوئے لیڈنگ رن سکورر رہے ہیں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ٹیم کے سارے کھلاڑی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ہر کھلاڑی کا دن ہوتا ہے اور وہ اپنے دن پر اچھی کرکٹ کھیلتا ہے۔حسن علی کے کیچ پکڑ لینے کی صورت میں میچ کی صورتحال مختلف ہو سکتی تھی لیکن اوس کی وجہ سے آخری اوورز میں فیلڈنگ انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔کوئی بھی کھلاڑی نہ تو جان بوجھ کر کیچ چھوڑتا ہے اور نہ ہی ہارتا ہے۔ٹیم پاکستان ہی ایک ایسی ٹیم بن کر سامنے آئی کہ جو بعد میں گیند بازی کرتے ہوئے بھی سکور کو ڈینفنڈ کرنے کے قریب قریب نظر آئی۔آسٹریلیا کے بارے میں عالم کرکٹ میں مشہور ہے کہ وہ مخالف ٹیم پر پریشر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔آغاز کے اوورز میں وہ پریشر ڈالنے میں کامیاب رہے۔اس کے باوجود گرین شرٹس نے میچ میں واپسی کی۔یہ ہمارے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ ہم غیر یقینی کی صورت میں بھی سیمی فائنل تک پہنچنے اور لڑ کر ہارے۔ لڑکے میچ کو آخری اوورز تک لے کر گئے جو کہ انتہائی قابل دید ہے۔
وہ قوم کبھی جیت نہیں سکتی جو ہار برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو۔ہمیں اس ہار کو بھول کر آگے بڑھنا ہے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہے۔ کھلائی نہایت دباؤ کا شکار ہیں اس وقت انہیں عوام کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔پاکستان کی اس پرفارمنس نے پاکستان پر کرکٹ کے دروازے کھول دیے ہیں۔اب ہر ملک پاکستان سے کرکٹ کھیلنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے صد فی صد درست کہا تھا کہ جب ہم اچھا کھیل کر ایک اچھی ٹیم بن جائیں گے تو بڑی بڑی ٹیمیں پاکستان سے کرکٹ کھیلیں گی۔لڑکوں نے اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے اور عالمی لیول کی کرکٹ کھیل کر دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔
جیت کا یہی تسلسل اگر قائم رہا تو وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب ٹیم پاکستان ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہو گی۔ایسی ہی پروفیشنل کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔محمد حفیظ اور شعیب ملک کی ریٹائرمنٹ کے بعد حیدر علی کو مستقل بنیادوں پر ٹیم میں موقع دینا چاہیے۔اگلے ورلڈ کپ تک ہماری ٹیم ایک مکمل ٹیم بن جانی چاہیے۔گرین شرٹس نے توقعات سے بڑھ کر اچھی کرکٹ کھیلی ہے لہذا انہیں ہماری سپورٹ کی ضرورت ہے۔جس طرح ورلڈ کپ میں سپورٹ کی تھی اسی طرح آنے والے ورلڈ کپ تک یہ سپورٹ جاری رہنی چاہیے۔
پورے ورلڈ کپ میں اس دفعہ جو پاکستانی ٹیم کی باڈی لینگویج نظر آئی یہ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔بابر اعظم کی کپتانی میں بھی مسلسل نکھار آتا جا رہا ہے۔وہ جس طرح ٹیم کو لے کر چلے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔پوری ٹیم میں اتحاد اور کوشش نظر آئی جس نے انہیں آخری گیند تک لڑنے کے قابل بنایا۔ہار ہی جیت کے قریب کرتی ہے۔ہارنے کے بعد جو جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ہمیں اپنی ٹیم پر فخر ہے جس نے ہمیں دنیا کی چار بڑی ٹیموں میں لا کر کھڑا کیا ہے۔

Advertisement
تحریرامتیاز احمد
Advertisement

Advertisement
Advertisement