Advertisement

سبق کا خلاصہ:

یہ سبق پنڈت رتن ناتھ سرشار کے ناول “فسانہ آزاد” سے اقتباس ہے۔ نواب صاحب کا بٹیر جس کا نام صف شکن تھا، ایک دن اچانک وہ کابک سے غائب ہوگیا۔ نواب صاحب صف شکن کےلیے بہت آزردہ ہوگئے۔سب لوگ ان کو تسلی دینے کے لیے موجود تھے۔ مگر نواب صاحب کو بٹیر کا غم کھائے جا رہا تھا۔

ایک صاحب نے نواب صاحب کے بٹیر کو جانور کہہ دیا تو نواب صاحب کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ان کی ناراضی دور کرنے کےلیے سب بٹیر کی شان میں کچھ نہ کچھ کہنے لگے۔نواب صاحب کے رفیقوں میں سے ایک صاحب بولے حضور وہ تو عربی بھی سمجھ لیتا ہے۔ ایک گویا ہوئے اسے قرآن پاک کے کئی پارے یاد ہیں۔جبکہ ایک کے مطابق ایک دن اس نے اسے ہنستے دیکھا۔پنجتن پاک کی قسم کہا کر ایک نے یہ بتا یا کہ اس نے اسے نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ایک رفیق کے مطابق اس نے اسے ڈنڈ پیلتے پایا۔

Advertisement

نواب صاحب نے صف شکن کو ہر صورت میں لانے کا بولا تو ان کے سپاہی کہنے لگے کہ صف شکن منطق پڑھا ہے اور مولانا ہی اس سے بحث کر سکتے ہیں۔ اس لیے مولانا کو بلا لیا گیا۔جب مولانا کو آنے کی وجہ معلوم ہوئی تو پہلے پہلے تو انھیں لگا کہ نواب صاحب کی اولاد ان سے روٹھ کر گئی ہے مگر جب اصل حقیقت کھلی تو مولانا کہنے لگے کہ آپ سب کے سب نشے میں تو نہیں۔ہوش کی باتیں کریں۔خود بھی مسخرے بنے ہوئے ہیں اور مجھے بھی بنا رہے ہیں۔

Advertisement

یہ کہہ کر مولانا وہاں سے چلے گئے۔ آخر حالات سنگین ہوتے دیکھ کر آزاد نے صف شکن کو لانے کی حامی بھر لی۔یہ سن کر نواب صاحب بہت خوش ہوئے۔آزاد نے نواب صاحب سے ایک سانڈنی،باد رفتاراور دو دن کی خوراک کے ساتھ نواب صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط طلب کیا۔تا کہ وہ صف شکن کی تلاش کے لیے روانہ ہو سکے۔

Advertisement

نواب صاحب کے دیگر مصاحبوں نے جب آزاد کو یہ ذمہ داری لیتے دیکھا تو وہ سخت غصہ ہوئے کہ آزاد صف شکن کو لا کر نواب صاحب کے خاص لوگوں میں شمار ہو جائے گا۔یہ دیکھ کر وہ لوگ نواب صاحب کے کان آزاد کے خلاف بھرنے لگے۔مصاحب کہنے لگے کہ آزاد کو آئے ابھی دو دن نہیں ہوئے اس کا اعتبار کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ کوئی چور ،اچکا،اٹھائی گیرا یا گرہ کٹ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر وہ سانڈنی لے کر ہی فرار ہوجائے تو کیا معلوم۔نواب صاحب بولے کہ اگر ایسا ہو بھی جائے تو انھیں فکر نہیں کہ صف شکن پر ایسی ہزاروں سانڈنیاں قربان۔

نواب صاحب نے صف شکن کے لوٹ آنے کی صورت میں جشن کا اعلان کر دیا تھا اور ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ آزاد صف شکن کو شاہی انداز سے لا رہے ہیں۔آزاد کے مطابق اس نے کہیں آسمان میں تھگلی لگائی تب جاکے صف شکن کو پایا۔اس سلسلے میں اسے کئی جنگلوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور کئ طرح کی آفتوں سے سامنا بھی ہوا۔یوں صف شکن کے آ جانے پر شہر بھر میں جشن کا سماں بندھ گیا۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر01: نواب صاحب کے رفیقوں نے صف شکن کی تعریف میں اس کی کیا کیا خصوصیات بتائیں؟کوئی پانچ خصوصیات لکھیے۔

نواب صاحب کے رفیقوں میں سے ایک صاحب بولے حضور وہ تو عربی بھی سمجھ لیتا ہے۔ ایک گویا ہوئے اسے قرآن پاک کے کئی پارے یاد ہیں۔جبکہ ایک کے مطابق ایک دن اس نے اسے ہنستے دیکھا۔پنجتن پاک کی قسم کہا کر ایک نے یہ بتا ا کہ اس نے اسے نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ایک رفیق کے مطابق اس نے اسے ڈنڈ پیلتے پایا۔

سوال نمبر02:مولانا کو کیوں بلایا گیا تھا اور اس پورے معاملے پر ان کا رد عمل کیا تھا؟

مولانا کو اس لیے بلایا گیا تھا کہ صف شکن منطق پڑھا ہے اور مولانا ہی اس سے بحث کر سکتے ہیں۔ جب مولانا کو آنے کی وجہ معلوم ہوئی تو پہلے پہلے تو انھیں لگا کہ نواب صاحب کی اولاد ان سے روٹھ کر گئی ہے مگر جب اصل حقیقت کھلی تو مولانا کہنے لگے کہ آپ سب کے سب نشے میں تو نہیں۔ہوش کی باتیں کریں۔خود بھی مسخرے بنے ہوئے ہیں اور مجھے بھی بنا رہے ہیں۔یہ کہہ کر مولانا وہاں سے چلے گئے۔

Advertisement

سوال نمبر03:صف شکن کو واپس لانے کی ذمہ داری کس نے لی اور اس کام کے لیے کیا کیا چیزیں طلب کیں؟

صف شکن کو واپس لانے کی ذمہ داری آزاد نے لی اور اس کے لیے ایک سانڈنی،باد رفتاراور دو دن کی خوراک کے ساتھ ںواب صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط طلب کیا۔

سوال نمبر04:مصاحبوں نے نواب صاحب کو آزاد کے خلاف بھڑکانے کےلیے اس کی برائی میں کیا کیا کہا؟

مصاحب کہنے لگے کہ آزاد کو آئے ابھی دو دن نہیں ہوئے اس کا اعتبار کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ کوئی چور ،اچکا،اٹھائی گیرا یا گرہ کٹ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر وہ سانڈنی لے کر ہی فرار ہوجائے تو کیا معلوم۔

Advertisement

سوال نمبر05:صف شکن کو آزاد کہاں سے ڈھونڈ کر لائے؟تفصیل سے بتائیے۔

آزاد کے مطابق اس نے کہیں آسمان میں تھگلی لگائی تب جاکے صف شکن کو پایا۔اس سلسلے میں اسے کئی جنگلوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور کئی طرح کی آفتوں سے سامنا بھی ہوا۔

Advertisement

Advertisement