Advertisement
  • سبق نمبر03:افسانہ
  • مصنف کا نام: حیات اللّٰہ انصاری
  • سبق کا نام: بھیک

افسانہ بھیک کا خلاصہ:

حیات اللّٰہ انصاری کا افسانہ بھیک غربت کی بھیانک تصویر کو بیان کرتا نظر آتا ہے۔ افسانے میں انسان کی بنیادی ضرورت روٹی،کپڑا اور مکان کو بیان کیا گیا ہے کہ انسان ان کے لیے کیسی کیسی تگ و دو کرتا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار رجنی ہے۔

رجنی ایک کم عمر لڑکی ہے جس پر اس سے چھوٹے پانچ بہن بھائیوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ ایک ایسی کوٹھری میں ان بہن بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے جہاں اس کو تمام رات یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ کوئی شے اس کے بہن بھائیوں کو اٹھا کر نہ لے جائے۔

ایک روز اس کو ایک کیلاش نامی بابو ملتا ہے جو رجنی سے اس کے کام نہ کرنے کی وجہ معلوم کرتا ہے اور یوں رجنی کے یہ بتانے پر کہ اس کا چھوٹا بھائی اس کے کام کرنے میں روکاوٹ ہے۔ کیلاش رجنی کو اپنے گھر میں کام کی پیشکش کرتا ہے۔اور یہی نہیں ساتھ میں اس کے بھائی کو بھی رکھنے کی حامی بھری۔

اس خوشی کی وجہ سے رجنی رات بھر سو نہ سکی۔ دوسرے روز صبح سویرے رجنی اپنے سب بہن بھائیوں کو لے کر کیلاش کے گھر کی جانب روانہ ہوئی۔ بھوکے پیاسے اس لمبے سفر میں رجنی نے اپنے بہن بھائیوں کو بہت سے خوبصورت خواب دکھا دیے کہ اس سفر کے بعد انھیں پیٹ بھر کر کھانے کو روٹی ،پہننے کو کپڑے اور رہنے کو وہ گھر ملے گا جہاں انھیں ڈر نہ لگے گا۔

مگر جب رجنی اپنے پانچ بہن بھائیوں کے ہمراہ ایک طویل سفر طے کر کے اس تک پہنچی تو کیلاش نے اسے کہا کہ اس نے کل کیوں نہ بتایا کہ اس کے ساتھ اتنی بڑی فوج ہے۔اب وہ ان سب کو کہاں رکھ سکتا ہے۔یہ سن کر رجنی پر بجلی گر پڑی۔زندگی میں پہلی بار اس نے اتنی بڑی مایوسی کا سامنا کیا تھا۔

رجنی کے لیے یہ سب کچھ بہت غیر متوقع تھا۔ آخر میں کیلاش نے اتنی دیا دکھائی کہ اس نے رجنی کو خالی ہاتھ روانہ کرنے کی بجائے اسے دو روپے دیے جس سے اس نے اپنے بہن بھائیوں کو پوریاں خرید کر کھلائی اور واپس گھر آگئے۔ مگر رات کو جب اس کے بہن بھائیوں نے پھر سے کھانے کا مطالبہ کیا تورجنی بچوں کو اندھیرے ،ڈر اور بھوک کی آغوش میں چھوڑ کر اپنے پڑوسیوں کی دیا کا امتحان لینے نکل کھڑی ہوئی۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01: موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا مزاج کیوں بدل گیا؟

موتی نگر وادی میں داخل ہوتے ہی یہاں کی خوبصورتی ،ہریالی، ڈھلوان، چوٹیاں اور خوبصورت نظارے دیکھ کر مسافروں کا مزاج بدل گیا۔ان نظاروں نے مسافروں کی مایوسی کو یکسر ختم کر دیا۔

سوال نمبر02:رجنی کو ایسی کون سی خوشی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے وہ رات بھر سو نہ سکی؟

رجنی کو کیلاش نے اپنے گھر نوکری کی پیشکش کی اور یہی نہیں ساتھ میں اس کے بھائی کو بھی رکھنے کی حامی بھری۔اس خوشی کی وجہ سے رجنی رات بھر سو نہ سکی۔

سوال نمبر03:پہاڑ پر چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائیوں کے جذبات کیا تھے؟

پہاڑ پر چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائی ایک روشن مستقبل، روٹی، نئے کپڑے اور ایک ایسے گھر کی امید باندھے جا رہے تھے جہاں انھیں ڈر نہ لگے گا۔

سوال نمبر04:کیلاش نے ایسا کیا کہا جسے سن کر رجنی پر بجلی سی گر پڑی؟

کیلاش نے اول رجنی کو نوکری کی پیشکش کی مگر جب رجنی اپنے پانچ بہن بھائیوں کے ہمراہ ایک طویل سفر طے کر کے اس تک پہنچی تو کیلاش نے اسے کہا کہ اس نے کل کیوں نہ بتایا کہ اس کے ساتھ اتنی بڑی فوج ہے۔اب وہ ان سب کو کہاں رکھ سکتا ہے۔یہ سن کر رجنی پر بجلی گر پڑی۔زندگی میں پہلی بار اس نے اتنی بڑی مایوسی کا سامنا کیا تھا۔

عملی کام:

افسانے(بھیک) کا مرکزی خیال بتائیے۔

اس افسانے کا مرکزی خیال معاشرے میں موجود بے پناہ غربت کو بیان کرتا ہے۔انسان کی بنیادی ضرورت اور اس کے مسائل اس کی روٹی،کپڑا اور مکان ہیں۔ اس بھوک کو مٹانے کےلیے انسان کو کئی طرح کی مصیبتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی اس افسانے کا مرکزی خیال ہے۔اس خیال کو افسانے کے مرکزی کردار رجنی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔

اس افسانے میں ایک محاورہ استعمال ہوا ہے "بجلی گرنا” یہ محاورہ کس موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ایک یا دو جملوں میں استعمال کر کے وضاحت کیجئے۔

بجلی گرنا ایک محاورہ ہے جو عموماً اس وقت بولا جاتا ہے جب صورتحال کس شخص یا بات کے بالکل خلاف توقع ہو۔اچانک ملنے والی ناقابل یقین خبر کے وقت بھی یہ محاورہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً۔
بجلی گرنا۔ ماں پر جوان بیٹے کی موت کی خبربجلی بن کر گری۔
یا
احمد پر اس کی فوراً شادی کی خبر بجلی بن کر گری۔

اس افسانے کے آخری جملے کی وضاحت کیجیے۔

اس افسانے کا آخری جملہ کہ:”رجنی بچوں کو اندھیرے ،ڈر اور بھوک کی آغوش میں چھوڑ کر اپنے پڑوسیوں کی دیا کا امتحان لینے نکل کھڑی ہوئی۔”
اس سے مراد ہے کہ رجنی نے ایک دفعہ پھر سے اسی خوف ،بھوک اور ڈر کو اپنے گلے لگا لیا۔اپنے بہن بھائیوں کی خاطر وہ پھر سے اپنے پڑوسیوں کے سامنے مانگنے اور ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوگئی۔وہ اپنے پڑوسیوں کی دیا کا امتحان لینے نکل گئی کہ آیا وہ اس کی کوئی مدد کرتے ہیں کہ نہیں۔