• کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر01:نظم
  • شاعر کا نام: شفیع الدین نیر
  • نظم کا نام: میرا وطن

نظم میرا وطن کی تشریح:

یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن
وہ چڑیا، وہ طوطا، وہ مینا، وہ مور
وہ کوئل،وہ بلبل ،وہ قمری،چکور
وہ جھیلوں کی لہریں، وہ دریا کا زور
وہ جھرنوں کا گرنا، وہ پانی کا شور
وہ سرسبز اس کے پہاڑ اور بن
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن

یہ اشعار شفیع الدین نیر کی نظم میرا وطن سے لیے گئے ہیں۔ان اشعار میں شاعر وطن کی خوبیاں بیان جرتے ہوئے اور وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے پیارے وطن میں چڑیا ،طوطا، مینا، مور،کوئل ،بلبل،قمری(فاختہ) اور چکور ہر طرح کے خوبصورت پرندے پائے جاتے ہیں۔ میرے وطن کی بہتی جھیلوں اور دریاؤں میں پانی کا زور موجود ہے۔ یہاں خوبصورت جھرنے گرتے اور ان کے پانی کا شور گونجتا ہے۔یہاں کے پہاڑ اور جنگل سبزے سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ میرا پیارا وطن حسن کی جیستی جاگتی تصویر ہے۔

وہ غلے، وہ میوے وہ ترکاریاں
وہ خوش رنگ پھولوں کی گل کاریاں
وہ سرسبز باغوں کی پھلواریاں
وہ سیراب اور خوش نما کیاریاں
زمینیں وہ زرخیز دلکش چمن
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرے وطن عزیز میں کئی طرح کے غلوں کا ذخیرہ موجود ہے اور طرح طرح کی سبزیاں پائی جاتی ہیں۔ یہاں کے باغوں کی پھلواریاں پھولوں سے سجی ہوئی ہیں اور طرح طرح کے خوش رنگ پھولوں کی کیاریاں موجود ہیں۔یہ کیاریاں خوشنما منظر پیش کرتی ہیں۔ یہ خوبصورت مناظر یہاں کی زمینوں کی زرخیزی کا پتا دیتے ہیں۔ اور یہاں کے باغوں کی دلکشی بیان کرتے ہیں۔ یہ میرا پیارا وطن ہے۔

Advertisement
پہاڑوں کا منظر بنوں کا سماں
ہیں ان میں ہزاروں ہی چشمے رواں
کہاں تک بیاں اس کی ہوں خوبیاں
ہے فردوس کا اس چمن پر گماں
یہ باغ ارم ہے یہ باغ عدن
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں کے پہاڑوں پر اس قدر سبزہ اور درخت موجود ہیں کہ پہاڑ جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں جبکہ ان خوبصورت پہاڑوں میں ہزاروں طرح کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ان خوبصورت مناظر کی خوبیاں کہاں تک بیان کروں کہ اس وطن پر جنت جا گمان ہوتا ہے۔ میرا وطن ہی ہمارے لیے جنت کا باغ بھی ہے۔ ایسا ہے میرا پیارا وطن۔

سوچیے اور بتایئے:

شاعر نے نظم میں کن کن پرندوں کا ذکر کیا ہے؟

شاعر نے اس نظم میں چڑیا ،طوطا، مینا، مور،کوئل ،بلبل،قمری(فاختہ) اور چکور وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔

دلکش چمن کس کو کہا گیا ہے؟

وطنِ عزیز یعنی ہندوستان کو دلکش چمن کہا گیا ہے۔

ہے فردوس کا اس چمن پر گماں” اس مصرعے سے کیا مراد ہے؟

اس مصرعے سے مراد ہے کہ شاعر کو اپنے وطن پر اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کے جنت ہونے کا گمان ہوتا ہے۔

اس نظم میں ہمارے وطن کی کیا کیا خوبیاں بیان کی گئی ہیں؟

اس نظم میں شاعر نے وطن کے پرندوں ،پہاڑوں، جھرنوں،بنوں، چشموں اور دیگر حسین مناظر کو بیان کیا ہے۔ شاعر وطن کو جنت جیسا حسین قرار دیتا ہے۔

اس نظم کے شاعر کا نام لکھیے۔

اس نظم کے شاعر کا نام” شفیع الدین نیر” ہے۔

شاعر اس نظم میں کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

شاعر اس نظم میں وطن کی خوبصورتی کو بیان کرتا ہے اور وطن کو جنت کی مانند حسین قرار دے کر اس کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:

دریاہندوستان میں کئی سارے دریا بہتے ہیں۔
پہاڑکے-ٹو ایک بلند ترین پہاڑ ہے۔
وطنمیرا وطن ہندوستان بہت خوبصورت ہے۔
منظربہار میں باغ ایک دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔
چمنچمن میں ہر جانب پھول کھلے ہیں۔
سماںباغ میں جنت کا سا سماں ہے۔

املا درست کیجئے:

ترقاریاںترکاریاں
باگوںباغوں
منضرمنظر
وتنوطن
صرسبزسرسبز

مصرعے مکمل کیجیے:

وہ چڑیا، وہ طوطا، وہ مینا، وہ مور
وہ کوئل،وہ بلبل ،وہ قمری،چکور
وہ سرسبز اس کے پہاڑ اور بن
یہ میرا وطن ہے، یہ میرا وطن

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بںائیے:

واحدجمع
چڑیاچڑیاں
خوبیخوبیاں
چشمہچشمے
منظرمناظر
کیاریکیاریاں
پھلواریپھلواریاں
باغباغات
ترکاریترکاریاں
میوہمیوے
پہاڑپہاڑیاں
دریادریاؤں
جھیلجھیلوں
بلبلبلبلیں

مصرعوں کو صیح ترتیب سے لکھ کر شعر مکمل کیجیے:

الف:

وہ غلے، وہ میوے وہ ترکاریاں
کہاں تک بیاں اس کی ہوں خوبیاں
وہ سرسبز باغوں کی پھلواریاں
وہ جھیلوں کی لہریں، وہ دریا کا زور

ب:

وہ سیراب اور خوش نما کیاریاں
وہ جھرنوں کا گرنا، وہ پانی کا شور
ہے فردوس کا اس چمن پر گماں
وہ خوش رنگ پھولوں کی گل کاریاں

ج:

وہ غلے، وہ میوے وہ ترکاریاں
وہ خوش رنگ پھولوں کی گل کاریاں
کہاں تک بیاں اس کی ہوں خوبیاں
ہے فردوس کا اس چمن پر گماں
وہ سرسبز باغوں کی پھلواریاں
وہ سیراب اور خوش نما کیاریاں
وہ جھیلوں کی لہریں، وہ دریا کا زور
وہ جھرنوں کا گرنا، وہ پانی کا شور