Advertisement
  • سبق نمبر:04
  • مصنف کا نام: شفیق الرحمن
  • سبق کا نام:انکل فرینکی

خلاصہ سبق:

یہ سبق "شفیق الرحمن” کی کتاب سے لیا گیا ہے۔جس میں انکل فرینکی نامی کرادر کو پیش کیا گیا ہے۔ منصف کو کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی۔وہ تمام دن بلیزر اس لیے پہنے رہتا تھا کہ انھیں نیا نیا کرکٹ کا کلر ملا تھا اور انھیں کرکٹ کا اس حد تک شوق تھا کہ پھر انھیں بلیزر کے سوا کوئی اور کوٹ پہننا اچھا ہی نہ لگتا تھا۔اس لیے وہ سارا دن بلیزر پہن کر ادھر سے ادھر گھومتے رہتے تھے۔

اسی طرح جب وہ ایک دن صبح سویرے گلمرگ گئے تو وہاں انھوں نے ایک شگفتہ چہرے والے عمر رسیدہ شخص کو دیکھا۔ انھوں نے مصنف کو بلیزر میں ملبوس دیکھ کر ان سے بات چیت کی۔یہ معلوم ہونے پر کہ مصنف کو کرکٹ میں دلچسپی ہے۔دونوں میں بات چیت کا آغاز ہوا۔فرینکی نے جب مصنف سے کرکٹ سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو دونوں میں یہ ملاقاتیں باقاعدہ دوستی کا رنگ اختیار کر گئیں۔

فرینکی کی کرکٹ میں دلچسپی کی وجہ سے ہی دونوں میں ایک تعلق استوار ہوا۔مصنف نے فرینکی کو کرکٹ سکھانے کا آغاز کیا۔ عمروں میں فرق ہونے کی وجہ سے مصنف نے فرینکی کو انکل فرینکی کہہ کر پکارنا شروع کیا۔ جب انھوں نے ان کو کرکٹ سکھانا شروع کی تو انکل فرینکی کا بولنگ سیکھنے کا انداز بہت دلچسپ تھا۔

Advertisement

شروع شروع میں وہ ایسی گیندیں پھنکتے جو کہ کچھ مصنف کے سر کے اوپر سے اور کچھ جال سے باہر جا کر گرتی تھیں۔انکل فرینکی الٹی سیدھی گیندیں پھنکتے اور پھر قہقہے لگاتے تھے۔رفتہ رفتہ ان کے کھلنے کے انداز میں بہتری آ گئی۔رفتہ رفتہ مصنف اور انکل فرینکی کی دوستی مزید گہری ہونے لگی دونوں ایک ساتھ گھومنے پھرنے بھی جانے لگے تھے۔ کچھ عرصے بعد وہ دونوں الگ ہوگئے۔الگ ہوتے وقت انکل فرینکی نے مصنف کو بتایا کہ انھیں نفیس چیزوں سے محبت ہے اور مخلص اور بہترین دوست،خلوص ان کی زندگی کا سرمایہ ہے۔

انکل فرینکی نے بھچڑتے وقت مصنف کو اپنی ایک تصویر بھی دی۔دونوں میں اب بھی خط و کتابت کے ذریعے تعلق قائم تھا۔ایک روز اپنے میچ کے وقت مصنف نے جب اپنے دوستوں کو انکل فرینکی کی تصویر دکھائی اور یہ بتایا کہ وہ ان کے دوست ہیں اور ان سے کرکٹ سیکھتے رہے ہیں۔ ان کے دوستوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ مصنف مشہور آسٹریلوی کھلاڑی جو کہ اپنے وقت کے بہترین باؤلر بھی رہ چکے تھے۔ان کو کرکٹ بلخصوص باؤلنگ سکھانے کا دعوی کر رہا ہے تو انھوں نے مصنف کی اس بات کا مذاق اڑایا۔

مصنف نے ان کی باتوں کا یقین نہ کیا مگر جب انھوں نے ان کو ایک مشہور میگزین پر فرینکی کا فوٹو دکھایا تو انھوں نے ان کی بات کا یقین کیا۔اس سے مصنف پر یہ راز آشکار ہوا کہ انکل فرینکی تنہائی کا شکار تھے اور مصنف اور ان میں ایک ہی شوق اور قدر مشترک تھی یعنی کہ میچ ۔جس نے ان دونوں کو آپس میں جوڑ دیا۔

سوچیے اور بتایئے:‌

سوال نمبر01:مصنف تمام دن بلیزر کیوں پہنے رہتا تھا؟

مصنف تمام دن بلیزر اس لیے پہنے رہتا تھا کہ انھیں نیا نیا کرکٹ کا کلر ملا تھا اور انھیں کرکٹ کا اس حد تک شوق تھا کہ پھر انھیں بلیزر کے سوا کوئی اور کقٹ پہننا اچھا ہی نہ لگتا تھا۔اس لیے وہ سارا دن بلیزر پہن کر ادھر سے ادھر گھومتے رہتے تھے۔

سوال نمبر02:فرینکی سے مصنف کی دوستی کس طرح ہوئی؟

ایک روز مصنف گلمرگ میں گیا۔ جہاں انھوں نے ایک شگفتہ چہرے والے عمر رسیدہ شخص کو دیکھا۔ انھوں نے مصنف کو بلیزر میں ملبوس دیکھ کر ان سے بات چیت کی۔یہ معلوم ہونے پر کہ مصنف کو کرکٹ میں دلچسپی ہے۔دونوں میں بات چیت کا آغاز ہوا۔فرینکی نے جب مصنف سے کرکٹ سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو دونوں میں یہ ملاقاتیں باقاعدہ دوستی کا رنگ اختیار کر گئیں۔

سوال نمبر03:انکل فرینکی نے بولنگ کس طرح سیکھی؟

انکل فرینکی کا بولنگ سیکھنے کا انداز بہت دلچسپ تھا۔ شروع شروع میں وہ ایسی گیندیں پھنکتے جو کہ کچھ مصنف کے سر کے اوپر سے اور کچھ جال سے باہر جا کر گرتی تھیں۔انکل فرینکی الٹی سیدھی گیندیں پھنکتے اور پھر قہقہے لگاتے تھے۔رفتہ رفتہ ان کے کھلنے کے انداز میں بہتری آ گئی۔

سوال نمبر04:کرکٹ کے علاوہ انکل فرینکی کی اور کیا سرگرمیاں تھیں؟

کرکٹ کے علاوہ انکل فرینکی مچھلیاں پکڑنے کے شوقین تھے۔انھیں گھومنا پھرنا اچھا لگتا تھا۔

سوال نمبر05:انکل فرینکی نے ‘اپنی زندگی کا سرمایہ’ کسے بتایا؟

انکل فرینکی نے بتایا کہ انھیں نفیس چیزوں سے محبت ہے اور مخلص اور بہترین دوست،خلوص ان کی زندگی کا سرمایہ ہے۔

سوال نمبر06: مصنف کے دوستوں نے اس کا مذاق کیوں اڑایا؟

مصنف کے دوستوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ مصنف مشہور آسٹریلوی کھلاڑی جو کہ اپنے وقت کے بہترین باؤلر بھی رہ چکے تھے۔ان کو کرکٹ بلخصوص باؤلنگ سکھانے کا دعوی کر رہا ہے تو انھوں نے مصنف کی اس بات کا مذاق اڑایا۔