حالی کی حب الوطنی

حالی خوش قسمت تھے کہ انہیں غالب اور سر سید جیسے جید حضرات کی مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا۔مزاج کے اعتبار سے وہ معتدل تھے اور بات بات پر بھڑک اٹھنا انہیں نہیں آتا تھا۔ تاہم ان کے ہاں قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبات وافر ہیں۔

حالی ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کی حالت زار پر کڑھتے تھے اور اسی کے نتیجے میں ان کے قلم سے مسدس حالی جیسی کتاب سامنے آئی۔ اس کتاب میں انہوں نے مسلمانوں کو ان کا شاندار ماضی یاد کراتے ہوئے عمل کی ترغیب دی، خود بھی روئے اور مسدس پڑھنے والوں کو بھی رلا دیا۔

حالی دیدہ بینا رکھتے تھے۔ ان کے زمانے تک دو قومی نظریہ کسی واضح انداز سے سامنے نہیں آیا تھا چنانچہ حالی کے ہاں اس کا اظہار اس انداز سے نہیں ملتا۔ اگرچہ وہ مسلمانوں کے علیحدہ ہونے کا شعور بھی رکھتے تھے اور ان کی بہتری کے لیے بھی کوشاں تھے لیکن کہیں کہیں ان کے ہاں ہندوستانیوں کو ایک قومیت کے طور پر دیکھنے کا نظریہ بھی ملتا ہے، خاص طور پر اس جگہ جہاں وہ انگریزوں کو غاصب اور ناجائز حکمران تصور کرتے تھے۔

حالی ہندو مسلم اتحاد کے بھی قائل ہیں اور ہندوستان کو ایک ملک جانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ہر قوم ہندوستان کو ہمارا کہتی رہی اور دوسروں کے لیے نرمی اور وسیع النظری کے جذبات پیدا نہ کیے تو انگریز سب کو کھا جائیں گے اور وطن میں خزاں آ جائے گی۔

؎ کبک و قمری میں جھگڑا کہ چمن کس کا ہے
کل بتا دے گی خزاں یہ وطن کس کا ہے

حالی کی حب الوطنی کا ایک ثبوت ان کی نظمیں ہیں جن میں وہ قوم کی اصلاح کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں۔ ان کی نظموں میں "مناجات بیوہ” اور "چپ کی داد” قابل ذکر ہیں۔ نظم "حبِ وطن” سے یہ شعر بھی ملاحظہ فرمائیں کہ جس میں وہ ایک دوسرے کے کام آنے کا درس دے رہے ہیں!

بیٹھے بے فکر ہو کیا ہم وطنو
اٹھو اہل وطن کے دوست بنو

حالی نے دیکھا کہ مقامی کالے لوگوں کے ساتھ انگریز گوروں کا سلوک کیسا ہے اور انہیں کس انداز سے غلامی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے ایک جگہ کالے اور گورے کی صحت کا امتحان بھی نظم کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دونوں میں لڑائی کی وجہ سےدونوں زخمی ہوگئے ہیں۔ کالے کو اٹھا کر ہسپتال لے جایا گیا، جبکہ گورا اپنے پاؤں چل کر گیا لیکن ڈاکٹر نے گورے کو تو بیماری کا سرٹیفکیٹ دے دیا اور اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا۔

؎دی سند گورے کو لکھ، تھی جس میں تصدیق مرض
اور یہ لکھا تھا کہ سائل ہے بہت زار و نزار

اگر چہ یہ ایک مزاحیہ تحریر ہے لیکن اس میں ان کا کالے کے ساتھ ہمدردی کا رویہ صاف دکھائی دیتا ہے بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ گوروں کے متعصبانہ رویے کی بنا پر جل کر ایسی نظم لکھ رہے ہیں۔ حالی نے سماجی بہتری کے لیے بہت سی کوششیں کیں۔ ان کی اپنی بیٹی بیوہ تھی اور انہوں نے”مناجاتِ بیوہ” کے عنوان سے ایک پر اثر نظم لکھی جس میں عورتوں کے اس طبقے کے مسائل کا احساس بہت گہرا دکھائی دیتا ہے۔ حالی شراب خوری کو بھی برا جانتے تھے اور لکھتے ہیں!

؎ اے شراب خوری کے متوالو
گھر کی چوکھٹ کو چومنے والو
نام کیا ہے اس کا حب وطن
جس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگن
کبھی بچوں کا دھیان آتا ہے
کبھی یاروں کا غم ستاتا ہے
کیا وطن کی یہی محبت ہے
یہ بھی الفت میں کوئی الفت ہے

حالی اس بات کو جانتے ہیں کہ حکمران لوگ حکومت کو مضبوط رکھنے کے لیے تفرقے سے کام لیتے ہیں اور مقامی لوگوں کو لڑا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ حکمرانوں سے تجارت اسی صورت ممکن ہے کہ یہاں کے لوگ اتفاق سے کام لیں اور تفرقہ بازی سے پر ہیز کریں۔ وہ کہتے ہیں!

؎ تدبیر یہ کہتی تھی کہ جو ملک ہو مفتوح
واں پاؤں جمانے کے لیے تفرقہ ڈالو
اور عقل خلاف اس کے تھی یہ مشورہ دیتی
یہ حرف سبک بھول کے منہ سے نہ نکالو

حالی کے بہت سارے قطعات میں بھی حب الوطنی کا ا ظہار ملتا ہے۔ وہ انگلستان کی آزادی اور اپنے وطن کی غلامی کے بارے میں لکھتے ہیں!

؎ کہتے ہیں آزاد ہو جاتا ہے جب لیتا ہے سانس
یاں غلام آکر، کرامت ہے یہ انگلستان کی
اس کی سرحد میں غلاموں نے جونہی رکھا قدم
اور کٹ کر پاؤں سے اک ایک بیڑی گر پڑی
قلب ماہیت میں انگلستان گر ہے کیمیا
کم نہیں کچھ قلب ماہیت میں ہندوستان بھی
آن کر آزاد یاں آزاد رہ سکتا نہیں
وہ رہے ہو کر غلام اس کی ہوا جن کو لگی

اس انداز کی کئی اور مثالیں حالی کے کلام میں موجود ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ غلام لوگوں کو آزادی کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں ان کے اشعار ملاحظہ فرمائیں!

؎ایک ہندی نے کہا حاصل ہے آزادی جنہیں
قدرداں ان سے بہت بڑھ کر ہیں آزادی میں ہم
ہم کہ غیروں کے سدا محکوم رہتے آئے ہیں
قدر آزادی کی جتنی ہم کو ہو اتنی ہے کم

حالی اپنے دیس کے منعم اور اہل ثروت کو بتاتے ہیں کہ یہ عیش و عشرت باقی رہنے کی چیز نہیں ہے۔ صرف روشنی اور اچھائی یا نیکی ہی ایسی چیز ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے۔ چنانچہ اس کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔مولانا الطاف حسین حالی ہمارے ادب کی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے ہاں قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبات وافر ملتے ہیں۔

انہوں نے اپنے عمل سے کم اور قول سے زیادہ حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ اگرچہ انہیں حب الوطنی کے ثبوت کے لیے سیاست کرنے یا جیل جانے کا موقع نہیں ملالیکن ان کی تحریریں اس امر پر دال ہیں کہ وہ ایک سچے قوم پرست اور وطن سے پیار کرنے والے تھے۔ انہوں نے اس جذبے کے اظہار میں کہیں بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ اگرچہ وہ سر سید کی طرح انگریزی حکومت اور انگریزوں کی خوبیوں کے بھی قائل تھے۔ لیکن وہ آنکھ بند کر کے ان کے نقش قدم پر نہیں چلے اور نہ ہی اس بات کے قائل تھے۔

تحریرامتیاز احمد