Advertisement

فاؤنٹین ہاؤس سے واپسی پر میری نظر ایک پابند سلاسل پاگل پر پڑی، جسے بڑی بے دردی کے ساتھ زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔ وہ ٹھنڈے فرش پر اوندھے منہ لیٹا تھا اور اس کی روشن آنکھیں ہر آتے جاتے شخص کو دیکھ رہی تھیں۔ تھوڑا قریب جا کر دیکھا تو اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں سوجن تھی۔ ہاتھوں اور پاؤں کی زنجیریں  گوشت کے اندر دھنسی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ کہیں کہیں نیلے رنگ کے ابھار واضح نظر آرہے تھے جس سے اس کے درد کا اندازہ لگانا میرے لئے مشکل نہ رہا۔ اس کی بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھوں نے اس کے چہرے کے خال و خط کو یوں چھپا رکھا تھا کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ اس کا چہرہ گول ہے یا بیضوی؟

Advertisement

اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو چیئرمین فاؤنٹین ہاؤس نے بتایا کہ یہ ایک دلچسپ اور خطرناک کیس ہے۔ Schizophrenia  وارڈ میں یہ کئی ساتھیوں پر حملہ کر چکا ہے۔ پچھلے 6 ماہ سے زنجیریں اس کا مقدر بنی ہوئی ہیں اور ان 6 ماہ میں اس کے گھر والے بھی اس کی خبر لینے نہیں آئے۔

Advertisement

 چیئرمین فاؤنٹین ہاؤس سے میری اچھی خاصی صاحبِ سلامت تھی۔ میں نے اس پاگل سے ایک ملاقات کاانتظام کرنے کی التماس کی تو چیئرمین فاؤنٹین ہاؤس نے مجھے گرین سگنل دےدیا۔

Advertisement

 خیر اسے تنگ کوٹھڑی سے نکال کر ایک ہال میں شفٹ کیا گیا۔چونکہ اسے چائے کے ساتھ سگریٹ پینا بے حد پسند تھا، میں نے چائے اور سگریٹ کا انتظام کیا اور کچھ” Care Takers” کے ساتھ ہال میں داخل ہوگیا۔  میں اس کے سامنے کوئی دس فٹ کی دوری پر بیٹھ گیا۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر چائے اور سگریٹ میں مصروف تھا۔

کبھی کبھی آنکھ اٹھا کر میری طرف دیکھ لیتا۔ دونوں اطراف میں خاموشی تھی اس نے چائے اور سگریٹ ختم کیا۔ میں نے ایک اور سگریٹ نکالا اور پانچ فٹ کے فاصلے پر پہنچ کر سگریٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور بالکل میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ شاید اسے میری طرف سے وہ توجہ مل رہی تھی جو کافی لوگوں سے وہ حاصل نہ کر سکا تھا۔ ایسے لوگوں کو کیئر سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

Advertisement

 اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا  وہ خود ہی اپنی کہانی سنانے لگ گیا!
 میرا میرانام احمد شہزاد ہے۔
ایم- ایس -سی فزکس میں گولڈ میڈلسٹ ہوں۔
 مجھےڈاکٹر شانیا(کزن)  سے محبت تھی،  تھی نہیں، ہے۔
 مجھے نو سال لگ گئےاسے یہ بتا نے میں کہ مجھے اس سے محبت ہے۔
 خدا نے سبیل نکالی اور میں نے اظہارِمحبت کر دیا۔ بات چیت ہونے لگ گئی۔ ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ گھر میں رشتے کی بات چل نکلی۔ اچانک اس کے تیور بدل گئے۔ وہ مجھ سے صدیوں کے فاصلے پر چلی گئی۔ منظرنامہ یکسر بدل گیا، ملاقاتیں ختم ہوگئی۔ میں اسی غم میں گھلنے لگ گیا۔میں اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر جملہ اپنے آپ سے دہرانے لگ گیا۔

مجھے "ش”سے شروع ہونے والے ہر لفظ میں وہ نظر آتی اور  میں اس لفظ سے بے وجہ الجھتا، لڑتا اور بحث و تکرار کرتا۔ ایسے محسوس ہوتا کہ میں نو سال زندگی میں آگے نہیں بڑھا بلکہ 900 سال پیچھے چلا گیا ہوں۔ جہاں پر میرا کوئی وجود نہیں ہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ میرا  لاشعور میرے شعور پر غالب آ گیا۔

Advertisement

 میں خود کو ایسی پگڈنڈیوں پر بھٹکتا ہوا محسوس کرنے لگ گیا کہ جیسے میرا کوئی گھر، وجود، مقصود اور منزل نہ تھی۔ میرا لاشعور کبھی جب مجھے ماضی سے ملواتا تو ٹکڑوں میں بٹے ہوئے خیالات میں "معصومہ” سے بانٹ لیتا۔ "معصومہ” ایک ایسے دوست کے لبادے میں مجھ پر ظاہر ہوئی تھی کہ اس پر یقین کرنے میں مجھے کوئی قباحت نظر نہ آئی
 لیکن۔
 ہاں ہاں۔ لیکن کیا۔۔؟

 لیکن اس نے میری یادوں اور میری ہستی کو ایسی نقب لگائی کہ میں اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہا۔ "معصومہ” کی نو دن کی شناسائی نے میرے نو سالوں کے درد پر غلبہ پا لیا۔ اور آج میں ان زنجیروں میں قید نیم بسمل ہوں۔

Advertisement

کسی سے ملنے والا درد کبھی بھی کسی عرصے یا مدت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ بعض اوقات کچھ لمحوں کا درد صدیوں کے درد سے بھاری ہوتا ہے اور انسانی وجود اس کا متحمل نہیں ہو پاتا۔ "معصومہ” سے ملنے والا درد میرے ذہنی خلل پر آخری کیل ثابت ہوا۔
 صاحب ایک۔ ایک بات کروں؟
 ہاں ہاں۔ بولو
 مجھے ان زنجیروں سے آزادی چاہیے۔ یہ میری سوچوں میں حائل ہوتی ہیں۔ اور میرے قیمتی خیالوں کو پارہ پارہ کر دیتی ہیں۔
 ٹھیک ہے میں پوری کوشش کرتا ہوں۔

” احمد شہزاد” کو زنجیروں سے آزاد کر کے اسی تنگ کوٹھڑی میں شفٹ کر دیا گیا۔ اگلے دن مجھے فاونٹین ہاوس کے چیئرمین کی فون کال آئی کہ "احمد شہزاد” نے خودکشی کرلی ہے اور اس کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا برآمد ہوا ہے جس پر لکھا  ہے۔ !
 "میری میت کو جلا دیا جائے”

Advertisement
تحریرامتیاز احمد ،کالم نویس، افسانہ نگار
[email protected]
Advertisement

Advertisement

Advertisement