Advertisement

آج وہ آٹھ سال کا ہو چکا تھا۔ والد کی قبر کا اسے آج ہی پتا چلا تھا۔ اس سے پہلے اس نے نہ ہی اپنے والد کو دیکھا تھا اور نہ ہی ان کی قبر کو۔ وہ پانچ بہنوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کی پیدائش پر اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنی ماں کا لاڈلا بیٹا تھا۔ اس کے حصے میں آنے والی گیارہ ایکڑ زمین پر اس کے چچا نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کی ماں نے عدالت میں کیس تو دائر کر دیا تھا، لیکن وکیل کے بک جانے کی وجہ سے وہ کیس ہار گئی۔ ان کے گھر میں بھوک کا راج تھا۔ وہ ابھی بہت چھوٹا تھا۔ کوئی کام دھندہ کرنے کے قابل نہ تھا۔ اس کی ماں ایک پڑھی لکھی خاتون تھی۔ اس نے گھر میں چھوٹے بچوں کا ٹیوشن سنٹر کھول رکھا تھا۔ اسی دوران اس نے اپنے بچوں کو بھی پڑھانا شروع کردیا۔ اس نے میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔اس کے بعد وہ ہر آنے والی سرکاری نوکری کے لیے اپلائی کرتا، لیکن پیسے اورسفارش نہ ہونے کی وجہ سے وہ نائب قاصد تک بھی بھرتی نہ ہو سکا۔ اسی دوران اس نے مختلف ہوٹلوں پر کام شروع کردیا۔ اس سے اس کے گھر والوں کا پیٹ بھرنے لگ گیا۔ لیکن اس کے اندر ایک وہ فکر ہر پل موجود تھی، جو پانچ بہنوں کے بھائی کے اندر ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت سوچوں میں گم رہتا۔ اس کی غربت اور لاچارگی نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔ اس کی فکر نے اس کی خود اعتمادی بھی ختم کردی۔ جس ہوٹل پر وہ کام کرتا تھا، اس کے مینجر نے اسے لاہور کی ایک بڑی فیکٹری میں کام دلوا دیا۔ تنخواہ اتنی تھوڑی تھی ، کہ وہ چار سالوں میں کوئی بڑی رقم اکٹھی نہ کرسکا۔ بہنوں کے جہیز کی فکر اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ اس سے پہلے اس کی بڑی بہن کی منگنی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی۔ فیکٹری میں اس کو ہر کوئی عزت دیتا۔ اس کا اخلاق بہت اچھا تھا۔ فیکٹری مالکان کی طرف سے ملنے والی عزت سے، اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ اس سے بے حد حسد کرنے لگے، اسی حسد کے سبب انہوں نے اس پر جھوٹی چوری کا الزام لگا کر فیکٹری سے نکلوا دیا۔

اب وہ لاہور کی سڑکوں پر روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہتا اور فٹ پاتھ پر ہی سو جاتا۔ کئی ماہ ایسے ہی گزر گئے۔ اس نے کئی ماہ تک گھر کی خبر لی نہ ہی گھر پیسے بھیجے۔فیکٹری سے نکالے جانے پر اس کے بدن پر جو سوٹ تھا وہ بھی جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا۔ جنوری کے ٹھنڈے موسم میں وہ فٹ پاتھ پر سوتا۔ داتا دربار کے سامنے فٹ پاتھ پر نشئی رات کو قابض ہوتے۔ ان کے ساتھ اس کی بھی جان پہچان ہو گئی۔ بھوک لگتی تو وہ لنگر کھا کر اسی فٹ پاتھ پر سو جاتا۔ وہ کھلے آسمان تلے بغیر چادر کے سوتا۔ روزگار کی فکر اسے کھائے جا رہی تھی۔ اس نے صرف دس جماعتیں پاس کر رکھی تھیں۔ تعلیم زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سرکاری نوکری کا اہل نہیں سمجھتا تھا۔

زندگی کی محرومیوں سے تنگ آ کر اس نے چھوٹی موٹی وارداتیں شروع کر دیں۔ وہ رات گئے لاہور کی سڑکوں پر نکلتا اور لوگوں کو روک کر ان سے پیسے اور زیور چھین لیتا۔ آہستہ آہستہ اس نے گھر خرچہ بھیجنا شروع کر دیا۔ اب وہ بھوکا تو نہیں سوتا تھالیکن پیسہ جوڑنے سے قاصر ہی رہا۔ وہ دو سال تک انہی دھندوں میں مشغول رہا۔ اسی دوران اس نے ایک گینگ تیار کرلیا۔ یہ گینگ دریائے راوی کے نواح میں رہتا۔ پوری رات اندرون لاہور میں وہ گینگ وارداتوں میں مصروف رہتا۔ آہستہ آہستہ پورے پنجاب میں اس گینگ کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہ گینگ روای گینگ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس گینگ کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ گینگ لوٹے ہوئے پیسے غریب غرباء میں تقسیم کر تا۔ غریب بچیوں کو شادی کا جہیز بھی فراہم کرتا۔ اب اس کے پاس اس قدر روپیہ جمع ہو گیا تھا کہ اس نے اپنا گھر بھی بنا لیا اور اپنی بہنوں کی شادی بھی کروا دی۔ اس کی ماں بالکل ضعیف ہو چکی تھی۔ وہ کبھی کبھار منٹگمری مین اپنے گاؤں جاتا اور ماں اور دوستوں سے ملاقات کرتا۔

جرائم کی دنیا میں آنے کے بعد اس کے کئی ایک دشمن پیدا ہو گئے تھے۔اس کا اصل نام گل بدن تھا لیکن جرائم کی دنیا میں وہ قاری کے نام سے مشہور ہو گیا۔ پورے گاؤں پر اس کی وحشت بیٹھ گئی۔ وہ جب بھی گاؤں جاتا تو اس کے ساتھ گاڑیوں کا ایک قافلہ ہوتا۔ اب گاؤں کی چودھراہٹ بھی اس کے پاس تھی۔ کیوں کے گاؤں کے چودھری کا قتل اس نے چند سال قبل ہی کیا تھا۔ اس کی ماں نے ہمیشہ اس کی اصلاح کرنا چاہی، لیکن وہ جرائم کی دنیا میں اس قدر غرق ہو چکا تھا کہ واپسی کا راستہ ناممکن تھا۔ وہ جب بھی گاؤں آتا تو گاؤں کے لوگ اس کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے اور وہ انہیں حل کرتا۔ ایک رات وہ گاؤں جا رہا تھا۔ منٹگمری میں روڈ سے وہ لنک روڈ پر اترا ہی تھا کہ پولیس وردیوں میں ملبوس ایک جتھے نے اس پر گولیاں برسانا شروع کردیں۔ اس کے کافی ساتھی مارے گئے۔ پولیس پارٹی کے بھی کئی لوگ مارے گئے۔ اس جتھے کا لیڈر ڈی-ایس-پی باری بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس کے بعد قاری کے سر کی قیمت مقررکر دی گئی۔ اب راوی گینگ منتشر ہو چکا تھا۔ وہ دور دراز علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔

وہ اپنا حلیہ تبدیل کر کےسندھ میں داخل ہو گیا۔ جہاں پر وہ ایک وزیر کی سربراہی میں بننے والے ایک گینگ میں شامل ہو گیا۔ اس کے کافی سارے ساتھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں پکڑ کر مار دیئے گئے۔ ایک لمبا عرصہ گزر گیا۔ اس کی اپنی ماں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایک رات منٹگمری کی طرف آ نکلا۔ اپنے گاؤں قاری آباد میں داخل ہوا۔ ماں سے ملنے سے پہلے وہ ایک گھر کی دیوار پھلانگ کر سیڑھیوں کے ساتھ والے کمرے میں داخل ہوا۔ پلنگ پر اس کی محبوبہ نوشی اوندھے منہ سوئی تھی۔ اس کے قدموں کی آہٹ سے وہ جاگ گئی۔ وہ خوف کی حالت میں تھی۔ اس نے کچھ بولنا چاہا ،لیکن اس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کردیا۔ کمرہ اندھیرے سے بالکل بھرا ہوا تھا۔ اس نے دھیمی سی آواز میں کہا قاری! تم اچانک اس وقت اتنی رات گئے کہاں سے آئے ہو۔ تمہیں پتا ہے میں نے اتنے ماہ تمہارے بغیر کیسے گزارے؟ ایک ایک پل میں تمہیں ترسی ہوں۔ کوئی گھڑی ایسی نہیں گزری کہ میں نے تمہیں یاد نہ کیا ہو۔ کہاں چلے گئے تھے تم۔ تمہیں میری یاد نہیں آتی تھی کیا؟ وہ مسلسل بولتی جا رہی تھی۔

اچانک قاری نے اس کے منہ پر منہ رکھ دیا۔ وہ اس کے منہ سے نکلنے والی ہر گرم سانس کو اپنے منہ میں جذب کر رہا تھا۔ دونوں کے دل کی دھڑکن مسلسل تیز ہو رہی تھی۔ اس نے قاری کو اوپر پلنگ پر کھینچ لیا۔ اب وہ دونوں ایک جسم محسوس ہو رہے تھے۔ وہ اس کے جسم کی بو اور گرماہٹ کا عادی تھا۔ نوشی سانولے رنگ کی ایک بھری ہوئی عورت تھی۔ اس نے گل بدن کے سوا کسی مرد کو اپنی زندگی میں نہیں آنے دیا۔ وہ کافی دیر ایسے ہی ایک دوسرے کو مسلتے رہے۔ اچانک وہ ایک طرف گر گیااور اس کے نرم بازو پر سر رکھ کر سیدھا لیٹ گیا۔ ابھی بھی اس کے بدن کی بو قاری کو مسحور کر رہی تھی۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور پرانی باتیں چھیڑ دیں۔ وہ دونوں بچپن کے دوست تھے۔ ایک ساتھ کھیلتے تھے اور کھلونے ٹوٹ جانے کی صورت میں ایک دوسرے کی شکایت لگا کر خوشی محسوس کرتے تھے۔ وہ چاندنی راتوں میں چھپن چھپائی کھیلتے ۔ وہ کب جوان ہوگئے وقت نے پتا ہی نہیں چلنے دیا۔ اب وہ ماں سے ملنا چاہتا تھا۔ نوشی نے اسے بتایا کہ پچھلے ہی ہفتے اس کی ماں مر گئی تھی۔ یہ خبر سنتے ہی گل بدن دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ اس نے زندگی کی سب سے بڑی خوشی کو کھو دیا تھا۔ وہ اٹھ کے بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں میں اپنا منہ چھپا لیا۔

نوشی نے خود کو چادر سے ڈھانپ لیا اور اسے حوصلہ دینے کے لیے اپنے ساتھ لگا لیا۔ اسے بتایا کہ مرتے وقت اس کی ماں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی تھی۔ اس کے منہ سے صرف تمہارا ہی نام مسلسل نکل رہا تھا۔ اس کی قبر تمہارے ابا کی قبر کے دائیں طرف بنائی گئی ہے۔ وہ اسی وقت ماں کی قبر پہ جانا چاہتا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور اوپر اٹھا۔ اس نے آخری بار نوشی کو گلے لگایا ، وہ رو رہی تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ وہ اس سے شادی کر لے۔ گل بدن ہمیشہ انکار میں سر ہلا دیتا۔ آج بھی شادی کے سوال پر اس نے جواب دیا، دیکھو تم جانتی ہو کے میرے سر کی قیمت مقرر ہے۔ پولیس ہر وقت میری تلاش میں رہتی ہے۔ میں کسی بھی وقت مارا جاسکتا ہوں۔ مجھے مرنے کا کوئی ڈر اور غم نہیں ہے۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ تم بھی مار دی جاؤ۔ میں تمہیں اپنے بغیر مرتا ہوا برداشت کر سکتا ہوں لیکن اپنے ساتھ ذلالت کی موت مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ میری سانسیں اب گنی جا چکی ہیں۔ میں نے بہت سارے لوگوں کا قتل کیا ہے۔ اگر میں خود کو پیش بھی کر دیتا ہوں تو میں جانتا ہوں کہ میرے ساتھ انصاف نہیں ہو گا۔

وہ ساری باتیں سن رہی تھی۔ اچانک بولی کہ ہمیشہ یاد رکھنا، مجھے تمہارے ساتھ مرنے میں ہی راحت ملے گی، لیکن میں تمہاری خواہش کا احترام کروں گی۔ یار کی مرضی میں ہی میری مرضی ہے۔ جیسا تم چاہوگے ویسا ہی ہو گا۔ اب گل بدن وہاں سے سیدھا قبرستان چلا گیا۔ وہ ماں اور باپ کی قبروں پہ کھڑا مسلسل رو رہا تھا۔ اچانک اسے ایک سایہ سا اپنی طرف آتا دکھائی دیتا ہے۔ اچانک اس سائے نے اس کی ماں کا روپ دھار لیا۔ اس نے لپک کر اپنی ماں کو گلے لگایا۔ماں کو گلے لگا کے اس کی ساری تھکن دور ہو گئی۔ کچھ ہی لمحوں بعد وہ وہاں پہ اکیلا کھڑا تھا۔ اب وہ بوجھل قدموں کے ساتھ قبرستان سے نکل رہا تھا۔ قبرستان سے نکل کر وہ بس اسٹاپ پر گیا۔ وہاں سے اس نے ملتان کی گاڑی پکڑی اور چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد وہ ملتان میں کھڑا تھا۔ پولیس سے بچنے کے لیے اس نے داڑھی بڑی کر لی تھی۔ سر پر سفید ٹوپی رکھ کر وہ کسی مسجد کا امام ہی لگتا تھا۔ وہ سارے ڈاکو دریائے سندھ کے قریب کچے کے علاقے میں پناہ لے چکے تھے۔ ان کے پاس اسلحہ و ایمونیشن وافر مقدار میں موجود تھا۔ راجن پور کے ڈی-پی-او نے ان کے گرد اپنا حصار کافی تنگ کر لیا تھا۔

اس کے ساتھی ڈاکو آئے اور اسے گڈو بیراج سے لے کر جنگل کی طرف چلے گئے۔ وہ اتنے خطرناک علاقے میں اس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔ ہرطرف کانٹے دار جھاڑیاں اور بہت خطرناک جنگلی جانور تھے۔ وہ جرائم کی دنیا کو چھوڑ دینا چاہتا تھا۔ وہ اس بھاگتی ہوئی زندگی سے تنگ آ چکا تھا۔ لیکن اب اس کے پاس جینے اور کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ الیکشن ہونے کے بعد نئی حکومت آ چکی تھی۔ اس حکومت نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس نے آرمی کے ساتھ مل کر پنجاب کے میدانی علاقوں میں آپریشن شروع کر دیے۔ اب اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔ لیکن اس کو مرنے کا خوف بالکل بھی نہیں تھا۔ اسے افسوس تھا کہ وہ بہت سارے خواب پورے نہیں کرسکا۔ کچھ خواب اس کے اپنے تھے، کچھ اس کی ماں کے اور کچھ اس کی بہنوں کے۔ اسے کہیں پر بھی سرکاری نوکری نہیں ملی۔ وہ اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کرسکا تھا۔ ایک فیکٹری سے شروع ہونے والی اس کی پیشہ وارانہ زندگی پولیس کی ایک گولی پر ختم ہونے والی تھی۔

کچے کا علاقہ ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وہ جس جنگل میں پناہ لیے ہوئے تھا، اس کے چاروں اطراف میں دریا تھا۔ دریا تین اطراف سے خشک تھا ۔ پانی والی طرف سے پولیس کے اندر آجانے کا ہر وقت خدشہ رہتا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے چاروں طرف سکیورٹی کے انتہائی سنجیدہ انتظامات کر رکھے تھے۔ اس نے اپنی زندگی میں سب کچھ کھو دیا تھا۔ پیٹ کی بھوک مٹاتے مٹاتے وہ موت کے منہ میں آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر اس کے گاؤں کے چودھریوں نے اس کا گھر مسمار کر دیا اور اس کی زمین پر بھی ناجائز قبضہ کر لیا ۔ چودھریوں کی چودھراہٹ واپس آ چکی تھی۔ ان کا ایک ہی دشمن تھا اور وہ بھی اب پنجاب سے باہر تھا اور اس کے واپس آنے کی کوئی امید نہ تھی۔

وہ جس گینگ میں شامل تھا، اس میں وہ حکم کا پابند تھا۔ ایک وقت تھا کہ وہ ایک گینگ کا مالک تھا۔ اس کے ہر حکم کی تعمیل ہوتی تھی۔ اس کا گینگ اب ختم ہو چکا تھا۔ اس کے خاتمے کے ساتھ ہی راوی کے نواح میں امن پیدا ہو چکا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں کشتی کے ذریعے دریا پار کرتے اور کشمور کے علاقے میں وارداتیں کر کے واپس جنگل میں آ جاتے۔ پولیس آپریشن شروع ہوا تو سب ڈاکو زیر زمین سرنگوں میں چھپ گئے، اس دوران وہ بہت تگڑی مزاحمت کرتے رہےاور پولیس پارٹی کو پیش قدمی سے روکتے رہے۔ بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے رینجرز کو طلب کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ کثیر تعداد میں آرمی بھی آن پہنچی۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت فضائی آپریشن کیا گیا۔ پورے جنگل پر بم برسائے گئے۔ یکے بعد دیگرے دو بم اس پر گرے۔ اس کا دھڑ ریزہ ریزہ ہو چکا تھا لیکن اس کا سر سلامت رہا۔ اس آپریشن میں مرنے والوں کے چہرے میڈیا پر دکھائے گئے۔ نوشی نے گل بدن کا چہرہ پہچان لیا۔ اس نے چار ماہ تک گھر سے باہر نہ نکلنے کا تہیہ کر لیا۔

تحریر امتیاز احمد
گل بدن 1

Advertisement