Advertisement

نظم کا خلاصہ

نظم "روٹیاں” نظیر اکبرآبادی کی ایک مشہور نظم ہے۔ وہ عوامی شاعر ہیں ان کی نظموں میں عوام دوستی اور مشترکہ تہذیب کے بہترین نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

Advertisement

نظم روٹیاں ان کی ایک بہترین نظم ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اگر کسی کے پاس لال کپڑے ہیں یا پھر کسی کے لمبے بال ہیں تو یہ سارے روپ انسان کو روٹیاں ہی دکھاتی ہیں۔ اور جس جگہ چولھا، ہانڈی، توا ہو وہیں خالق کی قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ اور جو چولھے کے آگے آگ جلتی ہے وہی سارے نور میں سب سے بہترین نور ہے اس نور کی وجہ سے روٹیاں نظر آتی ہیں۔

ایک دن کسی نے کامل فقیر سے پوچھا کہ یہ چاند، یہ سورج اللہ نے کیوں بنائے ہیں؟ وہ سن کر بولا کہ خدا تجھے بھلائی دے کہ نہ تو ہمیں یہ چاند دکھائی دیتا ہے اور نہ سورج ہی نظر آتا ہے ہمیں تو صرف یہ روٹیاں نظر آتی ہیں۔

اگر انسان کے پیٹ میں روٹی نہ تو پھر اسے میلے کی سیر کی فکر ہوتی ہے نہ ہی باغ کی خواہش ہوتی ہے اور اگر کوئی بھوکا غریب ہے تو اسے خدا سے لگن نہیں رہتی اور کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ بھوکے پیٹ کوئی بھجن نہیں ہو سکتا۔ اور یہ روٹیاں خدا کی بھی یاد دلاتی ہیں۔

Advertisement

سوچیے اور بتائیے

سوال: روٹیاں انسان کو کون کون سے روپ دکھاتی ہیں؟

جواب: اگر کسی کے کپڑے لال ہیں یا پھر کسی کے لمبے بال ہیں یا پھر کوئی رومال باندھے ہوئے ہے، یہ سارے روپ روٹیاں انسان کو دکھاتی ہیں۔

Advertisement

سوال: شاعر کے مطابق خالق کی قدرتوں کا ظہور کہاں ہوتا ہے۔

جواب: شاعر کے مطابق خالق کی قدرتوں کا ظہور اس جگہ ہوتا ہے جس جگہ پر ہانڈی ،چولھا،توا اور تنور ہے۔

سوال: کامل فقیر سے کیا پوچھا گیا؟

جواب: کامل فقیر سے یہ پوچھا گیا کہ یہ سورج اور چاند اللہ نے کیوں بنائے ہیں۔ وہ بولا کہ ہم نہ تو چاند کو جانتے ہیں اور نہ ہی سورج کو جانتے ہیں ہمیں تو صرف روٹیاں ہی نظر آتی ہیں۔

Advertisement

سوال: جب پیٹ میں روٹی نہ ہو تو آدمی کا کیا حال ہوتا ہے؟

جواب: اگر انسان کے پیٹ میں روٹی نہ ہو تو اسے میلے کی سیر اور باغ و چمن کی سیر کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی بھوکے اور غریب کو خدا سے کوئی لگن ہوتی ہے۔

نیچے دیے گئے بند کے مصرعوں کو ترتیب وار لکھے:

1۔ بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں۔
2۔ یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے۔
3۔ وہ سن کے بولا ، بابا !خدا تجھ کو خیر دے۔
4۔ پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے۔
5۔ ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے۔
1۔ پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے۔
2۔ یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے۔
3۔ وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے۔
4۔ ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہے جانتے
5۔ بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں۔

عملی کام

نظم میں کھانے پکانے سے متعلق جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی فہرست بنائیے۔

ہانڈی
چولہا
توا
تنور
آنچ
روٹی
Advertisement

Advertisement

Advertisement